تازہ ترین
وادی میں اَن لاک ۔ 2 کے دوران لاک ڈاؤن ۔ 2شروع

کووڈ ۔ 19کا برق رفتار پھیلاو
دارالحکومت سرینگر سمیت کئی اضلاع میں بندشیں اور پابندیاں سختی کے ساتھ دوبارہ نافذ
خبراردو:-
سرینگر:عالمگیر وبا ’کورونا وائرس‘ (کووڈ ۔ 19) کے برق رفتار پھیلاءو کے پیش نظر جموں وکشمیر انتظامیہ نے سوموار کو دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب کے کئی اضلاع میں سختی کیساتھ دوبارہ بندشیں اور پابندیاں عائد کیں ،جسکے نتیجے میں سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آئے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان بھر میں اس وقت اَن لاک ۔ 2جاری ہے جبکہ وادی کشمیر میں لاک ڈاون ۔ 2شروع ہوگیا ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا وائرس مثبت معاملات میں غیر متوقع اور اچانک اضافے کے پیش نظر سوموار کو وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں دوبارہ کورونا لاک ڈاءون کے تحت سخت ترین بندشیں اور پابندیاں عائد کیں ۔ سرینگر:دار الحکومت سرینگر کے88زونز (علاقوں ) کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہاں لوگوں کی آزاد نقل وحرکت روکنے کےلئے سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں ۔ اس مقصد کے لئے موٹی سلاخوں سے ریڈ زونز کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ۔
تاہم پورے میں شہر میں سوموار کو سنا ٹا چھایا رہا کیونکہ تجارتی مرکز لالچوک کو اتوار کی شام کو ہی سیکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر سیل کیا تھا جبکہ شہرخاص کے مصروف ترین بازار وں کو بھی پوری طرح سے سیل کیا گیا ۔ شہر کے کئی علاقوں میں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے پابندیوں اور بندشوں کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا اور عوام سے تعاءون دینے کی اپیل کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ آنے کی تلقین کی گئی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ بندشیں اور پابندیاں عائد کرنے کا بنیادی مقصد کورونا کے برق رفتار پھیلاءو کو روکنا اور اسکی زنجینئر کو توڑ نا ہے ۔
سرینگر میں لازمی سروس کے بغیر ہر طرح کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ شہر میں سوموار کو سڑکیں سنسان اور بازار مکمل طور پر ویران نظر آئے ۔ ہر طرح کے دکان ،کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کیساتھ ساتھ نجی گاڑیوں کی نقل وحرکت بھی مسدود رہی ۔ شہر میں ایمر جنسی کی صورت میں کئی ایک افراد کو ہی گھر سے باہر قدم رکھتے ہوا دیکھا گیا ۔ لوگوں کی نقل وحرکت روکنے کےلئے جہاں خاردار تاروں کا استعمال کیا جارہا ہے ،وہیں موٹی سلاخوں کو بھی بروئے کار لاکر علاقوں کو سیل کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے ۔ شہر خاص میں کئی ایک مقامات پر ماسک نہ پہنے پر کئی نوجوانوں کو ’ اٹھک بیٹھک ‘بھی کی سزا بھی دی گئی ۔ گا ندربل:ضلع انتظامیہ گاندربل نے عوام سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تعاون طلب کرتے ہوئے سبھی دکانوں اور تجارتی مراکز کو دو دنوں کیلئے بند رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ حکام کے مطابق ضلع مجسٹریٹ گاندربل شفقت اقبال نے ضلع بھر میں کل 13اورآج 14 جولائی کو دفعہ144 نافذ رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔
یہ احکامات کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جاری کئے گئے ہیں ، تاہم پابندیوں کا اطلاق ایمرجنسی سروسز پر نہیں ہوگا ۔ ضلع انتظامیہ نے پولیس حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے احکامات کو سختی سے نافذ کریں ۔ بڈگام :وسطی ضلع بڈگام میں بھی سوموار کو دفعہ144کے تحت پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ضلعے میں کووڈ ۔ 19کے پھیلاءو کو روکنے کےلئے احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد کی گئیں ۔ بڈگام میں پولیس نے لاءوڈ اسپیکروں کے بندشیں عائد کرنے کا اعلان کیا ۔
دکانداروں کو اپنی دکانیں بند کرنے کےلئے کہا گیا ۔ حکام کا کہناتھا کہ موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے جسکے پیش نظر احتیاطی تدابیر اپنا نا لازمی ہے ۔ کپوارہ اور بارہمولہ:شمالی ضلع کپوارہ میں پہلے ہی تین روزہ لاک ڈاءون کا اعلان انتظامیہ کی جانب سے کیاگیا ہے ۔ ضلعترقیاتی کمشنر کپوارہ ،انشل گارگ نے ضلعے میں تین روز لاک ڈاءون کا اعلان سنیچر کو کیا اور آرڈر بھی جار ی کیا ۔ انہوں نے ایک حکمنا مہ زیر نمبر ;68677547808347;2020;47;01;47;1241-47 صادر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلعے میں گزشتہ کئی روز سے کورونا پازیٹیوکیسز میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ کئی پازیٹیو کیسز، کنٹین منٹ زونز (ریڈ زونز ) سے باہر بھی سامنے آئے ہیں جن میں قصبہ کپوارہ اور ہندوارہ کے علاقے شامل ہیں ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ نے ایک آرڈر زیر نمبر;6568687247;20;47;12818بتاریخ11جولائی2020جاری کیا جس میں انہوں نے بھی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی تھی ۔ بارہمولہ میں پہلے ہی کورونا وائرس کے پھیلاءوسے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پورے ضلع میں شادی کی بڑی تقریبات پر پابندی عائد کی ہے ۔ یہ احکامات دیگر تقریبات پر بھی نافذ ہونگے ۔ یہ فیصلہ ضلع میں کورونا کے بڑھتے کیسوں کی وجہ سے لیا گیا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ بارہمولہ میونسپل کونسل کے صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بارہمولہ میں کورونا کے پھیلاءو کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے، اس لئے پابندیاں عائدکرنا ضروری بن گیا ہے ۔ بانڈی پورہ :بانڈی پورہ ضلعے کے کئی علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں اور پابندیاں عائد رہیں ۔ جنوبی کشمیر کے4اضلاع:جنوبی کشمیر کے پلوامہ ،کولگام ،شوپیان اور اننت ناگ میں پابندیاں اور بندشیں دوبارہ عائد کی گئیں ۔ سوسوموار کو پوری واد ی میں دوبارہ کورونا لاک ڈاءون کے تحت نافذ کی گئی بندشوں کے باعث معمو لات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے ۔ شہر ودیہات کی سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آرہے ہیں ۔
ہر طرف پولیس اور فورسز اہلکار نظر آرہے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں مثبت کیسوں کی تعداد10ہزار سے زیادہ ہے جبکہ ہلاکتیں 200کے قریب پہنچ چکی ہے ۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































