تازہ ترین
وندے ماترم نہ صرف جدو جہد آزادی کے لیے تحریک بنا بلکہ آزاد ہندوستان کا ویژن بھی ہے: مودی

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کے دوران آزادی پسندوں کا منتر بننے والے گیت ‘وندے ماترم’ کی گونج نے نہ صرف انگریزوں کی نیند اڑادی تھی بلکہ پورے ہندستان میں جوش وخروش کا ایسا ماحول پیدا کردیاتھا جو نہ صرف آزادی کا منتر بنا بلکہ آزاد ہندستان کے لیے بھی ایک ویژن کے طور پر سامنے آیا۔
پیر کو لوک سبھا میں گیت وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ پر بحث کی شروعات کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ یہ گیت آزادی کی پکار بن گیا تھا اور ہر شہری اس گیت سے متاثر ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس گیت سے ملک میں جو نیا ماحول پیدا ہوا اسے دیکھ کر انگریز بوکھلا گئے تھے اس لیے انہوں نے اس گیت پر پابندی لگا دی اور اسے گانا جرم سمجھ کر لوگوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم ایک ایسا دور رہا ہے جس میں تاریخ کی کئی متاثر کن مثالیں ملک کے سامنے موجود ہیں۔ جب وندے ماترم کے 100 سال مکمل ہوگیے تھے تو اس وقت اس کی صد سالہ تقریب بڑے دھوم دھام سے منائی جانی چاہیے تھی، لیکن اس وقت ملک کو ایمرجنسی میں دھکیل دیا گیا تھا اور ملک کے شہریوں کا گلا گھونٹا جا رہا تھا۔ ملک کی آزادی کی تحریک کو تقویت بخشنے والے وندے ماترم کے سو سال مکمل ہونے کے وقت ملک کو ایمرجنسی کے تاریک دور میں دھکیل دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا، “وندے ماترم پر بحث میں کوئی حکمراں جماعت یا اپوزیشن نہیں ہے کیونکہ اسی گیت کی تحریک کی وجہ سے ہم سب یہاں بیٹھے ہیں اور یہ ہم سب کے لیے ایک مقدس تہوار ہے۔ آزادی کی جدوجہد وندے ماترم کے جذبے سے لڑی گئی تھی اور اس گیت کے جذبے میں آزادی کے دیوانے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔”
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم ایک ایسے وقت میں لکھا گیا جب 1857 کے انقلاب سے برطانوی سلطنت ہل گئی تھی اور ملک کی عظیم شخصیات کو مجبور کیا جا رہا تھا۔ جب وندے ماترم کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی اور ملک کو غلام بنائے رکھنے کی ایک بڑی سازش چل رہی تھی، تو اس صورت حال کو بنکم چندر چٹوپادھیائے چیلنج کر رہے تھے۔
انہوں نے 1882 میں ناول “آنند مٹھ” لکھا تو اس میں وندے ماترم گیت شامل کیا جس نے ملک میں آزادی کا جذبہ بیدار کیا۔ ملک کے لوگوں میں جو جذبہ تھا، جو ثقافت تھی اسے وندے ماترم گیت کے ذریعہ ملک کو ایک عظیم تحفہ دیا گیا۔ وندے ماترم صرف آزادی کی جدوجہد کا منتر نہیں تھا، محض انگریزوں کو بھگانے کا منتر نہیں تھا، بلکہ یہ اس سرزمین کو زنجیروں سے آزاد کرانے کی ایک مقدس جنگ بھی تھی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
نئی دہلی، سپریم کورٹ آف انڈیا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے یہ طنزیہ سوشل میڈیا تحریک ہندوستان کے چیف جسٹس سوریا کانت کے حالیہ ’’کاکروچ‘‘ تبصرے کے بعد سامنے آئی تھی
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل این کے گوسوامی نے پیر کے روز دلیل دی کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ عدلیہ کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ’’اسے اتنی جذباتی انداز میں نہ لیں۔‘‘
ایک اور وکیل نے دلیل دی کہ درخواست گزار جعلی قانون کی ڈگریوں کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں، ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ عدالت میں ہونے والی گفتگو کا تجارتی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس دلیل پر ردِعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ ’’ایسی کوئی سنجیدہ ضرورت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے۔‘‘
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اس ماہ کے آغاز میں ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان، مقبولیت حاصل کی۔ اس تحریک کی شروعات 15 مئی کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہونے والی سماعت سے ہوئی، جس میں چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے بے روزگار نوجوان وکلا کے وکالت چھوڑ کر سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی سرگرمیوں کی طرف رجحان پر تشویش ظاہر کی تھی۔
چیف جسٹس نے تبصرہ کیا تھاکہ ’’ایسے نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں جنہیں اس پیشے میں روزگار نہیں مل رہا۔ کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور کچھ آر ٹی آئی کارکن بن گئے ہیں۔‘‘ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کا تبصرہ جعلی اہلیت اور جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشے میں داخل ہونے والے افراد کے لیے تھا، نہ کہ عمومی طور پر بے روزگار نوجوانوں کے لیے۔
یواین آئی۔ ظا
دنیا
مکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
بیروت، لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کو یقینی بنانا ایک قومی ترجیح ہے۔
عون نے پیر کو لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے ذریعے جاری بیان میں کہا، “اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کا راستہ ایک ثابت قدم قومی مطالبہ ہے، جسے لبنان کی ریاست مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”
عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات “کوئی سمجھوتہ یا سرِ تسلیم خم کرنے کا عمل نہیں ہوں گے”بلکہ یہ لبنان کی کوشش ہیں کہ وہ ملک کی فوجی اور سکیورٹی اداروں کے ذریعے اپنی سرزمین کے تحفظ کے اپنے خودمختار حق کا اظہار کرے۔ یہ بیانات اسی وقت سامنے آئے جب لبنان نے طاقت و آزادی کا دن منایا، جو 22 سال کے قبضے کے بعد سنہ2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیل کے انخلاء کی یاد دلاتا ہے۔
جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بیروت اور تل ابیب نے اپریل کے وسط سے امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست تین دورِ مذاکرات کیے ہیں تاکہ ایک دیرپا امن بندوبست قائم کیا جا سکے۔ 17اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی، جو بعد ازاں جولائی کے اوائل تک بڑھا دی گئی تھی، کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔
لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے جاری تنازعے کے دوران، جس میں اسرائیل اور حزب اللہ ملوث ہیں، لبنان میں اسرائیلی بمباری سے تین ہزار ایک سو سے زائد افراد ہلاک، نو ہزار پانچ سو سے زائد زخمی اور تقریباً 16 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی کوئٹہ میں دھماکے کی مذمت، دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور
تہران، 2 ایران نے کوئٹہ میں ٹرین پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بین الاقوامی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوٓں نے اپنے بیان میں کہاکہ کوئٹہ میں ہوئی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عوام اور حکومت سے اظہار یکجہتی ، جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایران اور روس کے سفارتخانوں نے بھی کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے قریب دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ گھناؤنے عمل کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور حامی انسانیت دشمن ذہنیت رکھتے ہیں۔ روسی سفارتخانے نے کہا کہ امید ہے حملے کے منصوبہ سازوں کی شناخت کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اتوار کو کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، دھماکے سے ٹرین کو اور قریب کھڑی 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
ہندوستان1 week agoدفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے راج ناتھ ویتنام اور کوریا کے دورے پر روانہ
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
































































































