دنیا
ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود زہران ممدانی نیو یارک کے پہلے مسلم میئر منتخب، غزالہ ہاشمی نے بھی تاریخ رقم کی

نیویارک، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار زہران ممدانی نے منگل کے روز نیویارک سٹی کا میئر کا انتخاب جیت لیا۔
یہ ایک نسبتاً گمنام ریاستی قانون ساز سے ملک کی نمایاں ڈیموکریٹک شخصیات میں سے ایک بننے تک کے ان کے تیز رفتار سیاسی عروج کا نقطۂ عروج ہے۔ ممدانی امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلم میئر بنیں گے۔ انہوں نے 67 سالہ سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو پارٹی کی نامزدگی ممدانی سے ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے تھے، یہ مہم نظریاتی اور نسلی لحاظ سے ایک بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ جو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے قومی سطح پر اثرات رکھ سکتی ہے۔ سی بی ایس کے مطابق، ممدانی نے 6 لاکھ 77 ہزار 615 ووٹ (49.6 فیصد) حاصل کیے، جب کہ سابق گورنر اینڈریو کومو نے 5 لاکھ 68 ہزار 488 (41.6 فیصد) اور کرٹس سلِوا نے ایک لاکھ 8 ہزار 377 (7.9 فیصد) ووٹ حاصل کیے۔ ٹرمپ نے انتخابی دوڑ میں آخری وقت میں مداخلت کرتے ہوئے ممدانی کو ‘یہود مخالف’ قرار دیا تھا۔ ممدانی یوگنڈا میں ایک ہند نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور 7 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہو گئے، وہ 2018 میں قدرتی طور پر امریکی شہری بنے۔
اسی کے ساتھ ورجینیا میں ڈیموکریٹ ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کا انتخاب آسانی سے جیت لیا، وہ ریاست کی پہلی خاتون گورنر بن گئیں، جب کہ ڈیموکریٹ غزالہ ہاشمی نے لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب جیت کر نہ صرف ریاست کی پہلی جنوبی ایشیائی بلکہ امریکہ کی پہلی مسلم خاتون بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ جو کسی ریاستی سطح کے عہدے پر منتخب ہوئی ہوں، نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے بھی گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ یہ انتخابات ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک آزمائش تھے، جس سے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے مختلف انتخابی حکمتِ عملیوں کا امتحان لیا گیا، جن میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے۔
گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد، ڈیموکریٹس واشنگٹن میں اقتدار سے باہر ہو گئے تھے، اور اب وہ سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد سے، ڈیموکریٹس خود کو واشنگٹن میں اقتدار سے باہر اور سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے موزوں راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ٹرمپ نے غیر معین پولز کا حوالہ دیا جنہوں نے اس ناکامی کی وجہ جاری سرکاری شٹ ڈاؤن اور ٹرمپ کا بیلٹ پر نہ ہونا قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ پولسٹرز کے مطابق ‘ٹرمپ بیلٹ پر نہیں تھے اور شٹ ڈاؤن، یہی 2 وجوہات تھیں، جن کی وجہ سے ریپبلکنز آج رات انتخابات ہار گئے’۔
غزالہ ہاشمی نے ریپبلکن مصنف اور قدامت پسند ریڈیو میزبان جان ریڈ کو شکست دی، وہ پوری مہم کے دوران سبقت میں رہیں، اگرچہ انتخابات سے قبل کے آخری دنوں میں فرق کچھ کم ہو گیا تھا، غزالہ ہاشمی نے 7 لاکھ 47 ہزار 773 ووٹ (53.8 فیصد) حاصل کیے، جب کہ ان کے ریپبلکن حریف کو 6 لاکھ 59 ہزار 421 ووٹ (46.4 فیصد) ملے۔ جون میں غزالہ ہاشمی نے سخت مقابلے میں سابق رچمنڈ میئر لیور اسٹونی اور ریاستی سینیٹر ایرن راؤس کو شکست دے کر ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کی تھی۔ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والی ہاشمی کو نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں، مثلاً کیلیفورنیا کے رکنِ کانگریس رو خنہ، کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
ہندوستان کے حیدرآباد میں پیدا ہونے والی غزالہ ہاشمی کم عمری میں امریکہ منتقل ہوگئ تھیں، انہوں نے ایموری یونیورسٹی سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی اور ورجینیا کی کمیونٹی کالجز میں 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ تدریس کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا۔ 2019 میں ان کا ریاستی سینیٹ میں انتخاب انہیں ورجینیا کی پہلی مسلم خاتون قانون ساز بنا گیا، اور اب وہ ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔ ڈیموکریٹ اسپینبرگر نے ریپبلکن ایئرل سیئرز کو شکست دے کر ورجینیا کی گورنر شپ حاصل کی، اس طرح ریاست پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول بحال ہو گیا۔
سابق کانگریس وومن اور سی آئی اے افسر اسپینبرگر زیادہ تر مہم کے دوران سبقت میں رہیں، ان کی کامیابی مضبوط فنڈ ریزنگ اور مضافاتی علاقوں میں وسیع حمایت کے مرہون منت تھی، ان کی فتح نے ڈیموکریٹس کو نئی سیاسی توانائی فراہم کی ہے، جو 2024 کے قومی انتخابات میں ناکامی کے بعد اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 47 سالہ اسپینبرگر نے اپنی مہم کو معیشت، عوامی تحفظ، اور اسقاطِ حمل کے حق پر مرکوز رکھا، ان کی مہم نے ریپبلکن حریف سیئرز پر سماجی مسائل پر ان کے قدامت پسند مؤقف اور ٹرمپ سے وفاداری کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اپنی فتح کے خطاب میں اسپینبرگر نے کہا کہ ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ 2025 میں ورجینیا نے تعصب پر نہیں بلکہ عملیت پسندی پر اعتماد کیا، ہم نے انتشار کے بجائے دولت مشترکہ کو ترجیح دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ سب نے ایسی قیادت کا انتخاب کیا جو لاگت کم کرنے، اپنی کمیونٹیز کو محفوظ رکھنے اور ہر ورجینین کے لیے معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گی۔ دوسری جانب نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے گورنر کا انتخاب جیت لیا، شیریل، جو امریکی کانگریس کی رکن اور سابق نیوی پائلٹ ہیں، انہوں نے ریپبلکن جیک سیٹاریلی کو شکست دی اور موجودہ ڈیموکریٹک گورنر فل مرفی کی جانشین بنی ہیں۔ یہ 1960 کی دہائی کے بعد پہلا موقع ہے کہ نیو جرسی کے ووٹروں نے ایک ہی پارٹی کے 3 مسلسل گورنرز منتخب کیے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ زہران ممدانی نے میئر بن کر ‘درست اقدامات’ نہ کیے تو نیو یارک کی فنڈنگ روک دی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے۔
ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر تہران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکہ کے زیر کنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں: اسماعیل بقائی
تہران، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ایرانی جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے نہیں کیا گیا، جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا ردِعمل انسان کی ثابت قدمی کی کہانی ہے، یہ ردِعمل دفاع، وقار اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ اب ہم سب جان چکے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی تہذیب کو ختم کرنا تھا، اب یہ مقصد تبدیل ہو کر منجمد ایرانی اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانے میں بدل گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہمیں ان فنڈز کے استعمال سے متعلق کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں، ہمارے اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو سفارتی عمل سے الگ کر چکے، ایران پر مسلط کی گئی دونوں جنگوں کے دوران یورپی ممالک نے نامناسب مؤقف اختیار کیا، دنیا نے یورپی ممالک کا یہ طرز عمل دیکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر ذمے دارانہ رویہ یقیناً یورپی فریقوں کی ساکھ اور حیثیت میں اضافہ نہیں کرے گا، ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں کہ خطے کے بعض ممالک نے اسرائیل جنگ میں حصہ لیا، ان بعض ممالک کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ہمیں اس صورتِ حال پر افسوس ہے، اس حوالے سے جو بھی ضروری اقدام ہوگا، کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہے، ڈیڑھ گھنٹے بعد مذاکرات میں وقفہ کیا گیا، وقفے کے بعد ایرانی وفد نے چار فریقی اجلاس دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مذاکرات کے بعد ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایک حتمی معاہدے کی جانب بڑھنا ہے۔
الجزیرہ نے ایرانی صدر کے پاکستانی دورے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس دورے میں دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کریں گے۔
صدر پزشکیان وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت بھی ان سے ملے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے باعث اس کی علاقائی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کی تھیں تاہم 2018ء میں امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتِ حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ ایران کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے اسے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی ریلیف کے امکانات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ خطے میں ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھرنے کا موقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ




































































































