جموں و کشمیر
کشمیر میں برف و باراں کے بعد ریکارڈ توڑ سردیاں، گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی12.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ

سری نگر، وادی کشمیر میں برف و باراں کے بعد ٹھٹھرتی سردیوں نے سردیوں کے بادشاہ چلہ کلان کی یاد تازہ کر کے جنوبی کشمیر کے کچھ علاقوں میں ریکارڈ توڑ سردیوں نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گذشتہ شب قاضی گنڈ، بٹوٹ، بانہال اور بھدرواہ میں گذشتہ 16 برسوں کے بعد سب سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں سال 2008 میں 13 فروری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی12.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
اسی طرح بٹوٹ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں سال 2008 کے 9 فروری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی4.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
بانہال میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں سال 2008 کے 9 فروری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی7.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
بھدرواہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں سال 2008 میں 9 فروری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی7.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور ترین سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی12.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے لارنو میں کم سے کم درجہ حرارت منفی17.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ وسطی کشمیر کے سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی15.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ اور کولگام میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی8. 5 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی9.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.4 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
دریں اثنا محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں ایک اور مغربی ہوا کے وارد ہونے کے نتیجے میں 3 اور 4 فروری کو میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں یا برف باری کا امکان ہے جبکہ اس دوران پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں بھاری برف باری ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران شمالی اور جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں 8 سے 10 انچ تک برف باری ہوسکتی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں 3 سے 6 انچ تک برف باری ہونے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وسطی کشمیر کے میدانی علاقوں میں بارشوں کے ساتھ 1 سے 2 انچ کی برف باری متوقع ہے۔
متعلقہ محکمے کے مطابق صوبہ جموں میں اس دوران گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں جبکہ پیر پنچال اور وادی چناب کے بالائی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں 5 فروری کو بھی مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے اور بعد ازاں وادی میں 6 سے 13 فروری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمے نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 فروری کی شام سے 4 فروری کی شام تک موسم خراب رہنے کی صورت میں مسافروں سے اپیل ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری کے مطابق سفر کا پلان کریں۔
ادھر وادی میں جمعہ کی صبح سے ہی آسمان صاف رہا اور ہلکی دھوپ کھلی رہی جس سے لوگوں کو مختلف مقامات پر لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوا ہے گرچہ اس چلہ کے دوران بھی بھاری برف باری ہوسکتی ہے تاہم درجہ حرارت میں بتدریج بہتری ریکارڈ کی جائے گی۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ
سری نگر، ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز پہلگام کے ننون بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا، تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا سے قبل سیکیورٹی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔
جنوبی کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس مشق کا مقصد یاترا کے دوران ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف سیکیورٹی اور امدادی اداروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
موک ڈرل میں مختلف ہنگامی صورتحال کی نقل تیار کی گئی، جس کے ذریعے شریک اداروں نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور ردِعمل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی۔
اس مشق میں اننت ناگ پولیس، سی اے پی ایف، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ مشق کے دوران فوری کارروائی، مؤثر مواصلاتی نظام، انخلا کے طریقہ کار، ہجوم کے انتظام اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سینئر افسران نے مشق کی نگرانی کی اور شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر یاترا کے دوران تعینات تمام اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر سے افسپا ہٹایا جائے: وزیر سکینہ ایتو
سری نگر، جموں و کشمیر کی وزیر سکینہ ایتو نے جمعہ کے روز متنازعہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ( اے ایف ایس پی اے) کو جموں و کشمیر سے فوری اور مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود بارہا دعویٰ کر چکی ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ خطے میں بہتر سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکز کا ہدف ہے کہ اگلے سال تک تقریباً پورے شمال مشرق سے افسپا ہٹا دیا جائے۔ جموں و کشمیر کی وزیر صحت و تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ یہی اصول جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے کیونکہ مرکز مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن اور معمول کی زندگی بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ “اگر وہ کہتے ہیں کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں، اب یہاں کچھ نہیں ہے، نہ پتھراؤ ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ ہے، تو پھر سب سے پہلے افسپا یہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔”
افسپا مسلح افواج کو ان علاقوں میں خصوصی اختیارات دیتا ہے جنہیں “پریشان حال” قرار دیا گیا ہو اور یہ قانون اب بھی جموں و کشمیر میں نافذ ہے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں سکینہ ایتو نے کہا کہ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں بلکہ ایک ایسا وعدہ ہے جو مرکز پہلے ہی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت گزشتہ تقریباً دو برسوں سے اس مطالبے کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ “گزشتہ 18 ماہ سے ہم بار بار ریاستی درجہ کا معاملہ حکومتِ ہند کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ کابینہ میں قرارداد منظور کی گئی تھی اور لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے دہلی بھی بھیجی گئی، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔”
سکینہ ایتو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر نیشنل کانفرنس کی قیادت نئی دہلی کے جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو مزید مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا7 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا7 days agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی



































































































