تازہ ترین
کلگام لہو لہو : تین جنگجو 7عام شہری ، فوجی جاں بحق، 100سے زائد زخمی، ضلع میں کرفیو نافذ

خبراردو:
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے مضافاتی گاؤں خارپورہ سرنو میں سنیچر کو اُس وقت لوگ ششدرہ ہوکر رہ گئے جب یہاں فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 182اور 183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے جنگجوؤں سے متعلق ایک مصدقہ اطلاع کے بعد پورے گاؤں کو محاصرے میں لیتے ہوئے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود جنگجوؤں کی تلاش کے لیے فورسز نے دوران شب ہی پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد ہی طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گاؤں میں گولیوں کی گن گرج سنائی دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کی گولی باری چند گھنٹوں تک محیط رہی جس دوران مکان کے ملبے سے حزب المجاہدین سے وابستہ 3عسکریت پسندجاں بحق ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران فوج و فورسز کی طرف سے شروع کئے کئے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر علی الصبح ہی سرنو اور ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں نوجوان بھی شامل تھے نے جھڑپ والے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کرنے چاہی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سوپتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر مظاہرین کا اگر چہ تعاقب کرنا چاہیے تاہم بضد مظاہرین نے فورسز کے خلاف محاذ جاری رکھتے ہوئے سنگ باری اور احتجاج میں شدت لائی۔معلوم ہوا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سنگ باری کررہے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں آہ و بکاہ کا عالم برپا ہوا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے راست فائرنگ اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں بھیڑ میں موجود سینکڑوں نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں کئی نوجوانوں کے نازک اعضا میں گولیاں پیوست ہوئیں جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس موقعے پر یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیاتاہم ہسپتال پہنچانے کے ساتھ ہی کئی نوجوان یہاں دم توڑ بیٹھے۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر فورسز کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں 6نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت شہباز علی ساکن منگہامہ، سہیل احمد ساکن بیلو، لیاقت احمد ساکن پاری گام، مرتضیٰ احمد ساکن پرچھو، عامر احمد پالا ساکن اشمندر اور عابد حسین لون ساکن کریم آباد شامل ہیں۔اس دوران اگر چہ درجنوں زخمیوں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں ابتدائی مرحلے میں ایک اور نوجوان زندگی کی جنگ ہار بیٹھا جس کی شناخت توصیف احمد میر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ توصیف احمد جھڑپ والے مقام پر ابتدائی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا جسے پہلے پہل ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا تھا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ توصیف احمد میر کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد سرینگر پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی فائرنگ سے سرنو میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہاں موجود لوگوں نے زخمی ہوئے افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی راست فائرنگ لوگوں کا زخمیوں تک پہنچنا محال بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک گولیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس دوران یہاں خوف و دہشت ماحول پیدا ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں سڑکوں پر پڑے زخمی افراد کے جسم سے کافی خون بہہ گیا جن میں سے بعد میں کئی نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 100سے زائد مظاہرین بری طرح زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر سنیچر کی سہ پہر تک جنوبی کشمیر سے ایمبولینس گاڑیاں سرینگر کی جانب رواں دواں تھی جو فورسز کارروائی میں زخمی افراد کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس، صورہ، جے وی سی اور برزلہ ہسپتالوں میں منتقل کررہی تھی۔ اس دوران وادی بھر میں حالات نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب سرنو پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عام شہری ہلاکتوں کی خبر شمال و جنوب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی ہر سو صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا کہ سرنو پلوامہ میں جونہی فورسز کارروائی کے دوران عام شہریوں سے متعلق ہلاکتوں کی خبر شمالی اور وسطی اضلاع تک پھیل گئی تو یہاں کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے سنیچر کی صبح اپنے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے سرنو پلوامہ میں ہوئی عام شہری اور جنگجو ہلاکتوں کے خلاف کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے لگاتے ہوئے وائس چانسلر کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر یہاں موجود طلبا نے فورسز کارروائی میں مارے گئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا۔ ادھر شہر کے نوہٹہ علاقے میں بھی لوگوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاجی ظاہرے کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں سے شہری ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر نوہٹہ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرنو پلوامہ میں 7عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاج کیا اور اس دوران انہوں نے فورسز کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے اس موقعے پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں کو شہری ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔شہر کے امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کالج کے احاطے میں جم کر نعرے بازی کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف سنیچر دوپہر کو کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طلبا نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ شمالی قصبہ سوپور میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈگر ی کالج سوپور کے طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج سے باہر آکر پلوامہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران مظاہرین نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے احتجاج کررہے طلاب کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ہوا میں آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے ساتھ ہی یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں یہاں تمام تجارتی مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوگئی۔ادھر وادی کے بقیہ علاقوں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالی صورتحال دیکھنے کو ملی جس دوران دکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹر گراکر محفوظ مقامات کی جانب پیش قدمی کی۔ ادھر ضلع پلوامہ میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سنیچر کو پیدا شدہ صورتحال کے بعد اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد یہاں حساس مقامات پر ہتھیار بند فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے امن دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ضلع کے حدود میں اگلے احکامات تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل کردیا ہے جس کے ساتھ ہی عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا جب کہ حکام نے براڈ بینڈ سروس کی تیز رفتار سروس میں بھی کمی لائی ۔ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریل سروس کو حالات سازگار ہونے تک معطل کردیا ہے۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر







































































































