تازہ ترین
کیجریوال کا کرنسی پر لکشمی گنیش کی فوٹو کا مطالبہ آئین مخالف ؛ ڈاکٹر ایوب سرجن

پرتاپ گڑھ : 28/اکتوبر (یواین آئی ) دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال آر ایس ایس و بی جے پی کے ہندوتوا کے ایشو سے دو قدم آگے بڑھ کر ملک کی کرنسی پر لکشمی گنیش کی فوٹو کا غیر آئینی مطالبہ کر اس وقت گجرات کے انتخاب میں اپنی کامیابی کو لے کر جو خواب دیکھ رہے ہیں ،اس سے پوری طرح ثابت ہو گیا ہے کہ بی جے پی و عام آدمی پارٹی کی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے ،یہ پارٹیاں اقتدار کے لئے کس حد تک جا سکتی ہیں ،اس کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن کجریوال کے ذریعہ کرنسی پر لکشمی گنیش کی فوٹو کے مطالبہ پر اپنے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ایک جانب آر ایس ایس و بی جے پی کے ہندو راشٹر کا ایشو ہے ،تو دوسری جانب کجریوال نے کرنسی پر لکشمی گنیش کی فوٹو کے مطالبہ سے ان کا سیکولرزم کا نقاب ضرور اتر گیا ہے ،اب لوگوں کو پتہ چل گیا ہے ،کہ ملک میں آر ایس ایس کی پالیسیوں کی حامی ایک نہیں دو سیاسی پارٹیاں عام آدمی پارٹی و بی جے پی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ادھر سپریم کورٹ نے نفرت کی سیاست کرنے والوں کے خلاف حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کیس درج کرایا جائے ،مگر اس کا کوئی اثر نفرت پھیلانے والوں پر نہیں ہے ۔
گجرات انتخاب کو لے کر عام آدمی پارٹی کس حد تک ہندوتوا کے ایشو پر جا سکتی ہے ،اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔عوام کو کجریوال سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آئین ہند کے یا آر ایس ایس کے آئین کے ساتھ ہیں ؟ انہیں اپنی پارٹی کی پالیسیوں کو عام کرنا ہوگا ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ملک کی بدقسمتی کی دنیا کے سب سے اچھے آئین ہند پر شائد کچھ سیاسی پارٹیوں کو اعتماد نہیں رہا ،جس کے سبب وہ اپنے سیاسی مفاد کے لئے غیر آئینی کاموں میں ملوث ہیں،اب کجریوال کرنسی پر لکشمی گنیش کی فوٹو کی اشاعت کا مطالبہ کر آئین کی دھجّیاں اڑا رہے ہیں ۔۔عوام کو ایسی سیاسی پارٹیوں کو سمجھنے و بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔
دنیا
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ایران جنگ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا
واشنگٹن، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات کے ایجنڈے میں ایران جنگ کا موضوع سرفہرست ہوگا۔ تفصیالت کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران جنگ کا موضوع سب سے اوپر ہوگا۔
امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات عالمی سیاست اور معیشت کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر 14 اور 15 مئی کو چین کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے، بیجنگ میں صدر ٹرمپ کا روایتی طور پر نہایت پُرتپاک اور شاہانہ سرکاری استقبال متوقع ہے۔ واشنگٹن کو امید ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اس اہم ملاقات کے دیگر ایجنڈوں پر منفی اثر ڈالنے کے بجائے تعمیری مذاکرات کا راستہ کھولے گی۔
واشنگٹن پوسٹ نے مزید کہا کہ اس ملاقات کو ایک بڑے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، تہران کے لیے بیجنگ کی مسلسل حمایت نے واشنگٹن کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملاقات شدید تناؤ کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ یہ وہی اہم ملاقات ہے جسے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز اور سیکیورٹی خدشات کے باعث پہلے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس ملاقات کے ذریعے چین کو ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے قائل کرنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع نہ ہو۔
دوسری جانب چین اپنے معاشی مفادات اور توانائی کی ضروریات کے پیشِ نظر تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے چند روز عالمی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے فیصلے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران انٹرنیشنل واٹرز پر کنٹرول چاہتا ہے جو ناقابلِ قبول ہے: امریکہ
واشنگٹن، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اب انٹرنیشنل واٹرز پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے لیکن یہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے اب تک تجاویز پر جواب نہیں ملا توقع ہے ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز سامنے آئیں گی۔ مارکو روبیو نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتا، آپریشن ایپک فیوری کے تمام مقاصدحاصل کر لیے لیکن اب ایران کی نظر بین الاقوامی پانیوں پر قبضے کی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی بحریہ کا حملہ
واشنگٹن، امریکی بحریہ کے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں 10اہلکار زخمی اور 5 لاپتہ ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایرانی پرچم والے تجارتی جہاز پر حملہ کیا اور ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے کے بعد ایرانی جہاز کے 5 اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ حملہ آبنائے ہرمز اور عمان میں بحیرہ مکران کےقریب ہوا۔
امریکی حملے میں ایرانی جہاز کارگو شپ سے ٹکرایا اور آگ لگ گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی جہاز کے زخمی اہلکار اسپتال منتقل کر دیے گئے ہیں جب کہ لاپتہ اہلکاروں کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا17 hours agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا7 days agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ
دنیا7 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
ہندوستان1 week agoشاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
دنیا1 week agoایران میں آپریشن ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گِر جائیں گی، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا5 days agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
دنیا7 days agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ













































































































