پاکستان
افغانستان پر حملے میں 70 جنگجو مارے گئے: پاکستان
کراچی، پاکستان کے نائب وزیر داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان پر ان کی فضائیہ کے فضائی حملوں میں کم از کم 70 جنگجو مارے گئے ہیں۔
مسٹر چوہدری نے یہ دعویٰ جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، حالانکہ انہوں نے اپنے دعوے کی تائید کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دریں اثنا، پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں، حالانکہ فوج نے سرکاری طور پر کسی اعداد و شمار کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پاکستان کی فضائیہ نے اتوار کی صبح افغان سرحد پر فضائی حملہ کیا۔ فوج نے کہا کہ انہوں نے “کیمپوں اور ٹھکانوں” کو نشانہ بنایا جہاں حالیہ حملوں کے پیچھے مسلح گروہ چھپے ہوئے تھے، جن میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شیعہ مسجد میں خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے بھی شامل تھے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر لکھا کہ فوج نے عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سات گروپوں اور اس سے منسلک تنظیموں کے خلاف “معلومات پر مبنی، منصوبہ بند آپریشن” کیا۔
ادھر افغانستان نے پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ 70 جنگجو مارے گئے ہیں۔ اس نے اس بات کی بھی تردید کی کہ پاکستان میں حملوں کے مرتکب اس کی سرزمین پر چھپے ہوئے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے ننگرہار اور پکتیکا میں متعدد شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس میں کئی گھروں اور ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں ان حملوں کو افغان فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “لوگوں کے گھر تباہ کر دیے گئے ہیں، انھوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، انھوں نے دو مشرقی صوبوں میں بمباری کے جرائم کیے ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان نے جنگ بندی میں مدد کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا
اسلام آباد، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی (سیز فائر) کرانے میں مدد کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چین، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے جنگ بندی تک پہنچنے میں بھرپور اور کلیدی مدد فراہم کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان ممالک کی حمایت سے امن کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملی اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کو ختم کرنے کا راستہ کھلا۔
مسٹر شہباز شریف نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کا مسلسل تعاون اس پورے عمل میں انتہائی ضروری رہا۔ مغربی ایشیا میں قیامِ امن کی یہ کوششیں ہندوستان سمیت پوری دنیا کے لیے اطمینان کا باعث ہیں، کیونکہ اس سے خطے کی استحکام والی پہچان بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
وہیں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اور مثبت قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
مسٹر زرداری نے شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار سمیت عالمی قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، کابینہ اجلاس میں فیلڈ مارشل کے لیے تالیاں
اسلام آباد، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل کے لیے تالیاں بجائی گئیں۔
پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارکان نے وزیراعظم کا استقبال تالیوں سے کیا جبکہ اجلاس کے دوران مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔ کابینہ نے جمعہ کو “یومِ تشکر” کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور قوم سے مذاکرات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور دوست ممالک کی امن کے لیے کی گئی کوششیں کامیاب ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے مگر جنگ بندی کے ذریعے پاکستان کو عزت و وقار ملا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ سفارتی کامیابی پورے ملک کے عوام کی کامیابی ہے اور آج عالمی میڈیا بھی پاکستان کے کردار کو سراہ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک انتھک محنت کی جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کئی راتیں جاگتے رہے اور ایرانی و امریکی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل کے لیے تالیاں بجائیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے اور یہی یکجہتی پاکستان کی کامیابی کا سبب بنی۔
انہوں نے ایرانی صدر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی درخواست پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے قطر، ترکیہ، مصر، عمان، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ وقتی طور پر رکی ہے مگر ہدف پائیدار امن کا قیام ہے، جبکہ جلد ایرانی اور امریکی وفود پاکستان آئیں گے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
قبل ازیں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
ایران۔امریکہ فوری جنگ بندی پرمتفق: شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ، بشمول لبنان، تمام محاذوں پر فوری اور جامع جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں شہباز شریف نے کہا: “مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ ہر جگہ فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔” انہوں نے اس اقدام کو ایک “بصیرت انگیز قدم” قرار دیا جس کا مقصد تنازعات سے متاثرہ مغربی ایشیا کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی ہے ۔
اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور باضابطہ طور پر ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔ مجوزہ مذاکرات کو “اسلام آباد مذاکرات” کا نام دیا گیا ہے، جس میں طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں فریقوں نے غیر معمولی دانشمندی اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے اور امن کے فروغ کے لیے تعمیری انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ “اسلام آباد مذاکرات” پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں خطے، خصوصاً ایران اور امریکہ کے حمایت یافتہ مقامات سے متعلق جھڑپوں میں تیزی آئی تھی، جس سے ایک بڑے علاقائی تنازعے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔
اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر کے حوالے سے جاری بیان میں بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اشارہ دیا گیا، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ جنگ بندی مغربی ایشیا میں وسیع تر سفارتی تعلقات میں بہتری کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔
یو این آئی،۔ ایم جے
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی
جموں و کشمیر1 week agoجموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا6 days agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان5 days agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoپاسدارانِ انقلاب کا ریاض حملے میں ملوث ہونے سے انکار
دنیا1 week agoامریکہ۔ ایران جنگ: ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا
دنیا1 week agoایران کی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کیلئے نئی ہدایات، کئی کمپنیوں نے مسترد کر دیں
دنیا4 days agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم
جموں و کشمیر6 days agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار











































































































