ہندوستان
ہندستان ہر چیلنج کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے: راجناتھ سنگھ

نئی دہلی، وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے نیول کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’آپریشن سندور ہندستان کی ارادے کی قوت اور صلاحیت کی علامت تھا اور دنیا کے لئے یہ پیغام تھا کہ ہم ہندستان ہر چیلنج کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔‘‘
وزیرِ دفاع نے ہندستانی بحریہ کی تعریف کی کہ اس نے روک تھام کی ایسی پوزیشن قائم کی جو پاکستان کو بندرگاہ یا اپنی ساحلی حدود کے قریب رہنے پر مجبور کر دیا اور اس آپریشن کے دوران بحریہ کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور طاقت کا عالمی سطح پر مشاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے ہندستانی بحریہ کی انڈین اوشن ریجن (آئی او آر) میں موجودگی کو ’’دوست ممالک کے لیے اطمینان‘‘ اور’’ان کے لیے تکلیف دہ قرار دیا جو خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ’’انڈین اوشن ریجن (آئی او آر) آج معاصر جیوپولیٹکس کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ اب صرف غیر فعال علاقہ نہیں رہا بلکہ مقابلہ اور تعاون کا میدان بن گیا ہے۔
ہندستانی بحریہ نے اپنی کثیرجہتی صلاحیتوں کے ذریعے خطے میں قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران، ہمارے جہاز، آبدوزیں اور بحریہ کے طیارے بے مثال پیمانے پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری بحریہ نے تقریباً 335 تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کی ہے، جس میں تقریباً 1.2 ملین میٹرک ٹن مال اور 5.6 ارب ڈالر کی تجارتی مالیت شامل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندستان اب عالمی بحری معیشت میں ایک معتبر اور اہل شریک کار بن گیا ہے۔‘‘
وزیرِ دفاع نے خود انحصار بحریہ کو ایک پر اعتماد اور طاقتور قوم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے ہندستانی بحریہ کی تعریف کی کہ اس نے ملک ہی میں تیار کئے گئے آلات کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیاہے اور ’آتم نربھر بھارت‘ کا علم بردار بن کر ابھرا ہے۔’’گزشتہ دس سال میں بحریہ کے تقریباً 67 فیصد سرمایہ کاری کے معاہدے ہندستانی صنعتوں کے ساتھ ہوئے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم اب صرف درآمدات پر منحصر نہیں ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں(ایم ایس ایم ایز) اور اسٹارٹ اپس پر انحصار کرتے ہیں۔ فی الحال، ہندستانی بحریہ 194 اختراعی اور ملکی ساختہ منصوبوں پر کام کر رہی ہے جوایس پی آر آئی این ٹی، ٹی ڈی ایف، آئی ڈی ای ایکس اور میک این انڈیا کے تحت ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف بحریہ کو تکنیکی طور پر خود مختار بنایا ہے بلکہ نجی صنعتوں اور نوجوان مخترعین کو بھی اس مشن کا حصہ بنایا ہے۔‘‘
جاری۔یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا
نئی دہلی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی “سازش” کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔” انہوں نے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو وہ کبھی انتخاب نہیں جیت پائے گی۔ “ان بیانات سے ہی حکومت کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔”
محترمہ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا بل پاس کروانا چاہتی تھی جس سے اسے حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) میں من مانی کرنے کی آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن سے حمایت لی جائے اور اس کے بعد حد بندی کے عمل میں خود مختاری حاصل کر لی جائے۔ اس بہانے وہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار سے بھی بچنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ محض خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حد بندی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال تھا۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کے لیے حمایت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی پر خواتین کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین سب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان معاملات میں حساسیت نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ “آج وہی حکومت پارلیمنٹ میں خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کی خواتین اب بیدار ہو چکی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو حکومت کو چیلنج دیا جا سکتا ہے۔
محترمہ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2023 میں منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دن کو ‘بلیک ڈے’ (سیاہ دن) کہے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “حکومت کے لیے جھٹکا” ہے اور ایسا جھٹکا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی خواتین اب صرف تشہیر اور دکھاوے سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ حقیقی مسائل کو سمجھ رہی ہیں اور حکومت سے جواب مانگ رہی ہیں۔”
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
ٹرمپ کو آخر ہفتہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اچھے امکانات کی توقع
واشنگٹن ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اچھے امکانات کی توقع کرتے ہیں، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے چند اختلافات حل ہونا باقی ہیں۔
ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بات چیت جاری ہے اور یہ آخر ہفتہ جاری رہے گی اور بہت ساری اچھی چیزیں ہو رہی ہیں ۔
انہوں نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کو “بہت اچھا” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چیزیں “بہت اچھی” رہیں گی ۔
امریکی رہنما نے کہا کہ ایران کے ساتھ تمام اختلافات کو حل کیا جانا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ “مجھے نہیں لگتا کہ بہت زیادہ اہم اختلافات ہیں ۔”
ایریزونا میں کنزرویٹو موومنٹ ٹرننگ پوائنٹ کی ایک تقریب میں ٹرمپ نے کہا کہ “اور اس عمل میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح چل رہے ہیں، لیکن کون جانتا ہے؟ کسی کے بارے میں بھی کون جانتا ہے، لیکن خاص طور پر ایران کے ساتھ کون جانتا ہے؟ یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے اور زیادہ تر نکات پر پہلے ہی بات چیت اور اتفاق ہو چکا ہے۔”
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں اہداف پر حملے کیے تھے، جس سے نقصان ہوا اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی علاقے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
سات اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ اگرچہ دشمنی دوبارہ شروع ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر5 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا5 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا2 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا6 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا







































































































