جموں و کشمیر
کشمیر میں فلمی صنعت کی واپسی: جنوبی ہند کی فلم ٹیم نے شوٹنگ شروع کی

سری نگر، وادی کشمیر میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے 7 ماہ بعد فلموں کی شوٹنگ کا ایک بار پھر آغاز ہوا ہے جس سے نہ صرف فلم انڈسٹری بلکہ سیاحتی اور مقامی کاروباری طبقے میں بھی ایک نئی اُمید جاگ اٹھی ہے جنوبی ہند کی ایک فلم ٹیم نے حال ہی میں سری نگر اور جنوبی کشمیر کے مختلف مقامات پر شوٹنگ کا آغاز کیا ہے یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد کئی فلم پروڈکشن ہاؤسز نے اپنی شوٹنگز منسوخ کر دی تھیں۔ اس حملے نے وادی کے فلمی اور سیاحتی ماحول پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ تاہم، موجودہ شوٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ایک بار پھر فلم سازوں کے لیے محفوظ، پرامن اور پُرخلوص ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران حکومتِ جموں و کشمیر، محکمہ سیاحت، اور مقامی سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے فلم یونٹس کے لیے سازگار ماحول بحال کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں حالات ایک بار پھر سازگار نظر آنے لگے ہیں۔
جنوبی ہند کی اس فلم ٹیم نے، جس کے پروجیکٹ کا نام ابھی ظاہر نہیں کیا گیا، شوٹنگ کا آغاز ڈل جھیل، چرار شریف، پلوامہ کے کچھ حصوں اور پہلگام کے مضافات میں کیا ہے۔
فلم کے ڈائریکٹر اور مرکزی اداکاروں نے اپنے تاثرات میں وادی کے امن و سکون کی تعریف کی۔
ان کا کہنا ہے: ‘اگرچہ شروع میں اُنہیں کچھ خدشات تھے، لیکن کشمیر پہنچنے کے بعد ان کے تمام خدشات دور ہوگئے۔’ہمیں میڈیا رپورٹس سے خدشہ تھا کہ وادی میں حالات سازگار نہیں ہوں گے، مگر یہاں آ کر پتہ چلا کہ یہ جگہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ بے حد خوبصورت بھی ہے۔ مقامی لوگ تعاون کرتے ہیں، اور شوٹنگ کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی’۔
ماہرینِ سیاحت اور فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد اس فلم ٹیم کی واپسی کو کشمیر کے فلمی سیاحتی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
وادی کی فلمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو راج کپور سے لے کر یش چوپڑا تک کئی بڑے فلم سازوں نے یہاں کے مناظر کو اپنی فلموں کا حصہ بنایا۔تاہم، 1990 کی دہائی میں شورش کے دوران فلم سازی تقریباً بند ہوگئی تھی، جو اب رفتہ رفتہ بحال ہو رہی ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر کہا: ‘یہ بہت مثبت اشارہ ہے کہ بیرونی فلم ساز دوبارہ کشمیر واپس آ رہے ہیں۔ حکومت نے ’فلم پالیسی 2021‘ کے تحت متعدد سہولیات فراہم کی ہیں، جن میں سنگل ونڈو منظوری، سیکورٹی کوآرڈی نیشن، اور مالی مراعات شامل ہیں۔ اب جب کہ جنوبی ہند کی ٹیم نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، تو ہمیں یقین ہے کہ بالی وُڈ اور دیگر علاقائی صنعتیں بھی واپس آئیں گی’۔
اس شوٹنگ سے مقامی فنکاروں، تکنیکی ماہرین، لائٹ مین، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، اور دیگر چھوٹے کاروباریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا ہے۔
سری نگر کے ایک لوکیشن منیجر نے بتایا کہ پہلگام حملے کے بعد تقریباً دو ماہ تک کام بند تھا۔ اب جب یہ ٹیم واپس آئی ہے تو کئی نوجوانوں کو کام ملا ہے۔ اس سے ہم سب کا حوصلہ بڑھا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں بالی ووڈ، تمل، اور ملیالم فلم انڈسٹری کی متعدد ٹیمیں کشمیر میں شوٹنگ کے لیے آنے والی ہیں۔ ان میں کچھ بڑے بینرز شامل ہیں جنہوں نے پہلگام اور گل مرگ کے علاوہ بانڈی پورہ اور گریز وادی کو بھی اپنی فلم لوکیشنز میں شامل کیا ہے۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے فلم انڈسٹری کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ میں کئی اقدامات کیے ہیں۔ پولیس اور ٹورازم ڈپارٹمنٹ کے درمیان ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو فلم یونٹس کو سیکورٹی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتی ہے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق فلم انڈسٹری کے لیے ’سیف شوٹنگ زونز‘ متعین کیے گئے ہیں تاکہ پروڈکشن ٹیموں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کو بھی اس عمل میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی فوائد براہِ راست لوگوں تک پہنچ سکیں۔‘
سیاحتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کا مطلب صرف تفریحی سرگرمیوں کا آغاز نہیں بلکہ یہ کشمیر کی معیشت، ثقافت اور عالمی امیج کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق جب فلمیں کشمیر میں بنتی ہیں تو نہ صرف سیاح آتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں وادی کی خوبصورتی کا پیغام جاتا ہے۔ جنوبی ہند کی فلم ٹیم کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یہ کشمیر کی معیشت کے لیے نیک شگون ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک افسر کے مطابق یہ صرف ایک فلم کی شوٹنگ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ کشمیر ہمیشہ سے فلم سازوں کا خواب رہا ہے، اور اب جب کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ وادی دوبارہ اپنی پرانی فلمی شان کو حاصل کرے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کر کے کشمیر کے مٹن تاجروں کی پریشانی کا معاملہ اٹھایا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو کہا کہ کشمیری مٹن تاجروں کو روکے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق رپورٹوں کے سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے بات کی ہے یہ بات چیت ان رپورٹوں کے بعد کی گئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ مادھو پور اور شنبھو بارڈر پر ٹھیکیدار مویشی میلہ ایکٹ کے نام پر کشمیری مٹن تاجروں کو روک رہے ہیں اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ محترمہ محبوبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں جانوروں کی نقل و حمل کرنے والے مویشی تاجروں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں وزیر اعلیٰ مان سے بات چیت کی اور مسٹر مان نے اس معاملے میں فوری کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر میں مٹن کی کمی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے جب مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے دوسرے صوبوں سے مویشیوں کی درآمد کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔
ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ٹھیکیدار اور مقامی حکام جموں و کشمیر جانے والے ہر اس ٹرک پر 15,000 سے 25,000 روپے تک کا غیر قانونی چارج لگا رہے ہیں جس میں جانوروں کو لے جایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی، راجستھان، امبالا، امرتسر اور دیگر مقامات کی منڈیوں سے جانوروں والے ٹرکوں کی لوڈنگ روک دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ پنجاب سے ہو کر جانوروں کو لے جانا جوکھم بھرا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو سپلائی تب تک روکنی پڑی ہے جب تک کہ اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکل جائے۔
جموں و کشمیر میں ہر سال 60,000 ٹن سے زیادہ مٹن کی کھپت ہوتی ہے۔ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سے روزانہ تقریباً 50 ٹرکوں میں 5,000 سے زیادہ جانور اس مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لائے جاتے ہیں۔ تاجروں نے انتباہ دیا ہے کہ اس رکاوٹ سے شادی بیاہ کے سیزن میں سپلائی پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس دوران مانگ میں تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ




































































































