ہندوستان
ہریانہ میں 25 لاکھ ووٹوں کی ہیرا پھیری سے غیر قانونی حکومت بنائی گئی: راہل

نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ ووٹوں کی دھاندلی صرف مخصوص حلقوں میں نہیں، ریاستی سطح پر نہیں، بلکہ قومی سطح پر ہو رہی ہے اس تناظر میں ہریانہ اسمبلی انتخابات میں 25 لاکھ ووٹوں کی گڑ بڑی کی گئی ہے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ ووٹ دھاندلی کے بارے میں جو ثبوت فراہم کر رہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہریانہ میں انتخابات نہیں ہوئے، بلکہ 100 فیصد ثبوت سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے مل کر جمہوریت کو تباہ کیا ہے۔ ہریانہ میں ووٹوں کی چوری کرکے وہاں بی جے پی کی حکومت بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کا یہ کام ایک گہری سازش اور حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے پختہ ثبوت ہیں کہ پوری ریاست میں ووٹوں کی کس طرح چوری کی گیا ہے۔
انہیں ہریانہ میں امیدواروں کی طرف سے متعدد شکایات موصول ہوتی رہی ہیں اور کئی امیدواروں نے اس وقت بے ضابطگیوں کی اطلاع دی تھی۔ اسی طرح سے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ ان تمام ریاستوں میں بی جے پی نے منظم طریقے سے ووٹ چوری کی اور انتخابات کرائے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جعلی ووٹروں کے حوالے سے جو ثبوت اکٹھے کیے ہیں اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ہریانہ، مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ جمہوری طریقے سے نہیں بنے ہیں۔ ووٹ چوری کے ذریعے انہیں وزیراعلیٰ کی کرسی دی گئی ہے۔ ان تمام ریاستوں میں کانگریس کی بھاری جیت کو شکست میں بدلنے کا منصوبہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔
انہوں نے کہا، “حیرت کی بات ہے، ایگزٹ پولز نے ہریانہ میں کانگریس کی جیت کی پیش گوئی کی ہے۔ ایگزٹ پول بہت درست ہوتے ہیں۔ ہریانہ کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار پوسٹل ووٹ اصل ووٹوں سے مختلف تھے، یہ حقیقت ریاست کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ ہم نے سوچا، کہ چلو تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار اس تفصیلات کو چیک کیا تو مجھے اس پر یقین نہیں ہورہا تھا اور میں صدمے میں تھا اس لیے میں نے تفصیلات تیار کرنے والی اپنی ٹیم سے کئی بار کراس چیک کرنے کے لیے کہا۔
مسٹر گاندھی نے ہریانہ کی ایک خاتون کا تذکرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک برازیلین ماڈل ہے جس کا نام ہریانہ کی ووٹر لسٹ میں ہے۔ اس کے نام پر بنائے گئے جعلی ووٹر کارڈ پر دس پولنگ اسٹیشنوں پر 22 بار ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کام مرکزی سطح پر ہورہا ہے اس لیے برازیل کی خاتون کے نام پر ایک نہیں بلکہ 22 بار ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اس طرح ہریانہ میں 25 لاکھ جعلی ووٹ ڈالے گئے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
خاتون رکن پارلیمنٹ پر گجرات بی جے پی صدر کا تبصرہ توہین آمیز: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے گجرات بی جے پی صدر جگدیش وشوکرما کی جانب سے کانگریس کی خاتون رکن پارلیمنٹ گیٹی بین ٹھاکور پر کیے گئے مبینہ نازیبا تبصرے کو بی جے پی کی خواتین دشمن ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ملک کی خواتین ایسی توہین کا منہ توڑ جواب دیں گی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ‘ناری وندن’ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کا اصل چہرہ اس طرح کے تبصروں سے بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کو چیلنج کرنے والی خواتین کو بی جے پی برداشت نہیں کر پاتی اور ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کسی فرد واحد کا تبصرہ نہیں ہے، بلکہ خواتین کے تئیں پارٹی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ خاتون ارکان پارلیمنٹ کے سوالات سے بچنا اور ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین اپنی توہین کو کبھی نہیں بھولتیں اور گجرات سمیت پورے ہندوستان کی خواتین اس طرح کے رویے کا جمہوری طریقے سے جواب دیں گی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھرگے، راہل اور پرینکا نے اہل وطن کو دی بدھ پورنیما کی مبارکباد
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ پورنیما کے موقع پر جمعہ کو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے سب کی خوشحالی کی خواہش کی ہے مسٹر کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بدھ پورنیما کے مبارک موقع پر سب کو دلی مبارکباد بھگوان بدھ کی زندگی اور تعلیمات لافانی، ہمہ گیر اور عالمگیر علم کا ذریعہ ہیں۔ سچائی، ہمدردی، عدم تشدد، بیداری اور برابری کا ان کا پیغام نہ صرف ہماری تہذیب کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے دور میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندرونی امن ایک منصفانہ اور ہم آہنگ دنیا کی بنیاد ہے۔ ہم آہنگی برقرار رہے، بھائی چارے کے بندھن گہرے ہوں اور ہماری زندگی نیک صفات سے متاثر ہو۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ “آپ سب کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔ بھگوان بدھ کا فلسفہ حیات اور ان کے خیالات پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ عدم تشدد، ہمدردی، سچائی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقیات کا ان کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی طرف چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔”
محترمہ گاندھی نے کہا کہ “بھگوان بدھ کی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ نفرت کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بھگوان بدھ نے سچائی، عدم تشدد، انسانیت، رحم اور ہمدردی جیسی عظیم اقدار پر چلنے کی ترغیب دی اور دنیا کو امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ تمام اہل وطن کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔”
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
شاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
نئی دہلی، کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ لداخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ جمعہ کو پپرہوا کی بدھ باقیات کی “عظمت بیان کرنے ” میں مصروف ہیں، جب کہ لداخ کے عوام کے ریاستی درجے، چھٹے شیڈول کے درجے اور زمین و روزگار کے تحفظ جیسے اہم مطالبات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مسٹر رمیش نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کے مذہبی اور تاریخی مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس سے وزیر داخلہ شاید ناواقف ہیں۔ انہوں نے 14 جنوری 1949 کے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن بھگوان بدھ کے دو اہم شاگردوں سارپتر اور مہا موگلان کی مقدس باقیات، جنہیں 1851 میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لے جایا گیا تھا، انہیں واپس ہندوستان لایا گیا تھا۔ ان باقیات کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے وصول کر کے کولکتہ میں مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا کے حوالے کیا تھا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق، 1949 میں ہی مسٹر نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران ممتاز بدھ لیڈر کوشک بکولا رنپوچھے نے ان سے درخواست کی تھی کہ ان باقیات کو لداخ بھی لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل مئی 1950 میں شرمندہ تعبیر ہوئی، جب ان مقدس باقیات کو 79 دنوں تک پورے لداخ میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں رنگون، کولمبو اور سانچی میں نصب کیا گیا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ مکالمہ اور ان کے جذبات کا احترام بھی ہوتا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
جموں و کشمیر5 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا6 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا4 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا6 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoامریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
دنیا1 week agoعباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی












































































































