جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے بی جے پی کی مدد سے جموں و کشمیر کے خصوصی درجے پر وار کیا: عمر عبداللہ

سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست کے خصوصی درجے پر حملہ 2019 میں نہیں بلکہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت تشکیل دی بڈگام میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا،’بی جے پی نے جموں و کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ہم سے سب کچھ چھین لیا گیا، نقشہ بدل گیا، ہماری شناخت خطرے میں ہے اور خصوصی درجہ ختم ہوگیا۔‘
انہوں نے پی ڈی پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے بی جے پی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا:’2014 کے انتخابات میں مرحوم مفتی محمد سعید اور ان کی بیٹی گھر گھر جا کر لوگوں سے کہتی تھیں کہ ہم بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں گے۔ عوام نے ان پر اعتماد کیا لیکن انتخابات کے فوراً بعد انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اصل خرابی 2019 میں نہیں بلکہ 2015 میں شروع ہوئی جب پی ڈی پی حکومت میں شامل ہوئی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے ہماری جڑوں پر وار کیا۔ آج اگر میں ریاست کا نہیں بلکہ یونین ٹیریٹری کا وزیراعلیٰ ہوں تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہے۔ جی ایس ٹی اور سرفیسی ایکٹ کون لایا؟ پی ڈی پی ہی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی نے آج تک اپنی غلطیوں پر معافی نہیں مانگی۔ہم صرف ان سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں۔
بڈگام اسمبلی حلقے میں 11 نومبر کو ضمنی انتخاب منعقد ہونے والا ہے، جہاں سے عمر عبداللہ نے گزشتہ سال اپنی نشست چھوڑ دی تھی تاکہ وہ گاندربل کی نشست برقرار رکھ سکیں۔
وزیراعلیٰ نے جلسے میں کہا کہ بڈگام کے عوام کا ووٹ حکومت کے قیام یا خاتمے کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ اس سے علاقے کی ترقی کا راستہ ہموار ہوگا۔یہ انتخاب حکومت بنانے یا گرانے والا نہیں ہے۔ حکومت کے چار سال باقی ہیں۔ اگر آپ ترقی چاہتے ہیں تو اس کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس کے امیدوار آغا سید محمود کامیاب ہوتے ہیں تو بڈگام کے عوام کو ’دو ایم ایل اے‘ ملیں گے۔’آپ کے پاس دو ایم ایل اے ہوں گے — ایک میں اور دوسرا آغا محمود۔ یہ ’بائے ون، گیٹ ون فری‘ آفر ہے۔‘
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائے گی۔ ہمیں سزا اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا۔ اگر ہم بی جے پی کے ساتھ ہوتے تو آج ریاستی درجہ بحال ہوچکا ہوتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے خلاف حقیقی لڑائی صرف نیشنل کانفرنس ہی لڑ رہی ہے۔
ان کے مطابق پی ڈی پی جب ووٹ مانگنے آئے تو ان سے پوچھنا کہ ان کا ناگرٹا میں امیدوار کہاں ہے۔ کوئی بھی پارٹی وہاں سے امیدوار نہیں لائی، صرف نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے خلاف میدان میں امیدوار کھڑا کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے بڈگام کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔میں اگرچہ بڈگام کا ایم ایل اے نہیں رہا، مگر گزشتہ ایک سال میں یہاں 110 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ بڈگام میں ایک یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم اور اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی۔بڈگام اس کے لیے بہترین جگہ ہے — ہوائی اڈہ، ریلوے اور ہائی وے سب قریب ہیں۔ یہاں بین الاقوامی اور آئی پی ایل میچوں کے انعقاد کے امکانات روشن ہیں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کر کے کشمیر کے مٹن تاجروں کی پریشانی کا معاملہ اٹھایا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو کہا کہ کشمیری مٹن تاجروں کو روکے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق رپورٹوں کے سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے بات کی ہے یہ بات چیت ان رپورٹوں کے بعد کی گئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ مادھو پور اور شنبھو بارڈر پر ٹھیکیدار مویشی میلہ ایکٹ کے نام پر کشمیری مٹن تاجروں کو روک رہے ہیں اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ محترمہ محبوبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں جانوروں کی نقل و حمل کرنے والے مویشی تاجروں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں وزیر اعلیٰ مان سے بات چیت کی اور مسٹر مان نے اس معاملے میں فوری کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر میں مٹن کی کمی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے جب مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے دوسرے صوبوں سے مویشیوں کی درآمد کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔
ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ٹھیکیدار اور مقامی حکام جموں و کشمیر جانے والے ہر اس ٹرک پر 15,000 سے 25,000 روپے تک کا غیر قانونی چارج لگا رہے ہیں جس میں جانوروں کو لے جایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی، راجستھان، امبالا، امرتسر اور دیگر مقامات کی منڈیوں سے جانوروں والے ٹرکوں کی لوڈنگ روک دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ پنجاب سے ہو کر جانوروں کو لے جانا جوکھم بھرا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو سپلائی تب تک روکنی پڑی ہے جب تک کہ اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکل جائے۔
جموں و کشمیر میں ہر سال 60,000 ٹن سے زیادہ مٹن کی کھپت ہوتی ہے۔ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سے روزانہ تقریباً 50 ٹرکوں میں 5,000 سے زیادہ جانور اس مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لائے جاتے ہیں۔ تاجروں نے انتباہ دیا ہے کہ اس رکاوٹ سے شادی بیاہ کے سیزن میں سپلائی پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس دوران مانگ میں تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
دنیا5 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے



































































































