تازہ ترین
ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

عاصم محی الدین
مجوزہ آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 کو ایک معمولی قانونی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے چند نکات میں وضاحت لانے اور عدالتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہے۔ لیکن اگر اس پردے کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ایک مختلف اور کہیں زیادہ سنگین حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ بل دراصل ایک خاموش آئینی قبضہ ہے، جو اصلاحات کے نام پر عدلیہ میں فوجی اثر و رسوخ کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے۔
مارشل لا سے قانون کی حکمرانی تک کا بدلتا چہرہ
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے وقت کے ساتھ یہ سیکھ لیا ہے کہ براہِ راست اقتدار پر قبضہ اب پہلے جیسا ممکن نہیں رہا۔ مارشل لا، اسمبلیوں کی تحلیل، یا آئین کی معطلی جیسے اقدامات اب داخلی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کرتے ہیں۔ دنیا اب یہ منظر قبول نہیں کرتی کہ کوئی جنرل دن دہاڑے بندوق کے زور پر اقتدار سنبھال لے۔ چنانچہ اب طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے۔ اب اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے ٹینکوں کے بجائے ترمیمی بل استعمال کیے جاتے ہیں۔ اب قبضہ بندوق سے نہیں، بلکہ قلم اور پارلیمنٹ کے دستخط سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو یہ اسی خاموش اور بتدریج پیش قدمی کا آخری مرحلہ ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت — ایک نیا ادارہ، ایک نیا نظام
اس ترمیم کا سب سے اہم پہلو ایک نئے ادارے، وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کا قیام ہے۔ اس کے تحت آئین کی کئی اہم دفعات میں “سپریم کورٹ” کی جگہ “وفاقی آئینی عدالت” کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔ ان دفعات میں آرٹیکل 63اے، جو اراکینِ پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق ہے، آرٹیکل 68 جو عدالتی ضابطہ بیان کرتا ہے، اور آرٹیکل 42 جو صدرِ مملکت کے حلف سے متعلق ہے، شامل ہیں۔
یہ آخری تبدیلی بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ اس کے بعد صدرِ مملکت ریاستِ پاکستان کے بجائے “وفاقی آئینی عدالت” کے سامنے وفاداری کا حلف اٹھائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صدر کی وفاداری ایک مخصوص عدالتی ادارے کی جانب منتقل ہو جائے گی، جو ابھی تشکیل ہی کے مرحلے میں ہے۔ گویا ریاست کا سربراہ آئینی طور پر ایک ایسے ادارے کے تابع قرار پائے گا جس کے خدوخال ابھی طے ہی نہیں ہوئے۔ یہ ایک علامتی نہیں بلکہ بنیادی سیاسی تبدیلی ہے، جو آئینی وفاداری کے توازن کو ہی بدل ڈالے گی۔ اگر اس عدالت کے ججوں کا تقرر ایسے طریقہ کار سے کیا گیا جو انتظامیہ یا اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر ہو، تو یہ ادارہ ایک ایسے عدالتی نظام کی بنیاد رکھے گا جو عوام یا آئین کے نہیں بلکہ طاقت کے تابع ہوگا۔
سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی
یہ ترمیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ نے پچھلے چند برسوں میں بعض حساس معاملات پر ریاستی اداروں کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ انتخابات کے التوا، شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات، جبری گمشدگیوں اور شہری بالادستی جیسے معاملات میں عدالت نے بعض اوقات ریاستی دباؤ کے باوجود آواز اٹھائی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔ ماضی کی طرح براہِ راست تصادم یا عدالت کی تحلیل ممکن نہیں، کیونکہ اس سے اندرونِ ملک مزاحمت اور بیرونی دباؤ دونوں کا سامنا ہوگا۔ اس لیے اب راستہ بدل دیا گیا ہے — سپریم کورٹ کو ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے اختیارات کو بانٹ کر غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ آئینی تشریح اور حتمی اختیار ایک نئے ادارے کے پاس منتقل ہو جائے، جو زیادہ “قابلِ اعتماد” اور “قابلِ کنٹرول” ہو۔
پاکستان کی آئینی تاریخ میں یہ طرزِ عمل نیا نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی آٹھویں ترمیم ہو یا جنرل مشرف کے پروویژنل آئینی احکامات (PCO)، ہر دور میں طاقتور طبقے نے آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں متعارف کرائیں اور پھر انہیں پارلیمانی توثیق کے ذریعے قانونی حیثیت دے دی۔ ستائیسویں ترمیم بھی اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے، البتہ اس بار یہ عمل زیادہ مہذب، خاموش اور قانونی انداز میں کیا جا رہا ہے۔
اصلاحات یا اختیار کا نیا چہرہ
ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی آئینی عدالت عدالتی سیاست کو کم کرے گی، آئینی تنازعات کے حل کو بہتر بنائے گی، اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرے گی۔ مگر حقیقت میں یہ دلیل محض ایک تکنیکی جواز ہے۔ پاکستان میں “غیرسیاسی بنانا” ہمیشہ سے جمہوری احتساب کو کمزور کرنے کے مترادف رہا ہے۔ اگر حکومت کا مقصد واقعی عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری ہوتا تو وہ سپریم کورٹ کے ڈھانچے میں بہتری، ججوں کی تعداد میں اضافہ یا عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کرتی۔ لیکن ایک بالکل نیا ادارہ قائم کرنے کی تجویز اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل مقصد اصلاح نہیں بلکہ کنٹرول ہے۔ جب کسی ادارے کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا، تو اس کے متوازی ایک نیا ادارہ بنا دیا جاتا ہے جو پہلے ہی تابع ہو۔
آئینی ڈھانچے میں طاقت کا نیا مرکز
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں لائی گئی ہے جب ملک میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے۔ عدلیہ واحد فورم ہے جہاں اب بھی ریاستی طاقت پر کبھی کبھار سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں عدلیہ کی آزادی محدود کرنا ناگزیر سمجھا گیا ہے۔ آئین کے مختلف حصوں میں “وفاقی آئینی عدالت” کا ذکر شامل کر کے اس ادارے کو محض عدالتی دائرے تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ ریاست کے تقریباً تمام آئینی معاملات میں دخیل کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ عدالت ایک مرکزی آئینی قوت بن جائے گی، جو پارلیمنٹ، حکومت اور صدر کے بیچ نئے طاقت کے توازن کو تشکیل دے گی۔ یوں عدلیہ، جو آئین کی محافظ تھی، ریاستی طاقت کا ایک تابع حصہ بن جائے گی۔
آمریت کا نیا انداز
یہ سب کچھ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہو رہا، مگر اس بار طریقہ زیادہ باریک اور پُراثر ہے۔ ماضی میں مارشل لا یا آئینی معطلی کے ذریعے قبضہ کیا جاتا تھا، آج وہی مقصد قانونی اصطلاحات اور ترامیم کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی قبضہ ہے، مگر اب اسے “قانون سازی” کہا جا رہا ہے۔ دنیا کی نظروں میں کھلے عام اقتدار پر قبضہ کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب “قانون کے ذریعے قبضہ” یعنی Lawfare نیا حربہ بن چکا ہے۔ جب جنرل قانون بناتے ہیں اور سیاست دان ان پر دستخط کرتے ہیں، تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ماضی میں مارشل لا سے حاصل ہوتا تھا — بس اس بار بغیر شور شرابے کے۔
انجام اور خطرات
اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ عدلیہ کی آزادی محدود ہو جائے گی، سپریم کورٹ محض رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گی، اور فوجی اثر و رسوخ کو آئینی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ یوں آئینی نظام کے اندر طاقت کے ایک ایسے مستقل توازن کی بنیاد رکھ دی جائے گی جو جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوگا، کیونکہ جب عدالتیں انصاف کے بجائے طاقت کی تابع نظر آئیں تو شہری جمہوری عمل سے منہ موڑ لیتے ہیں — اور یہی کسی غیرجمہوری نظام کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
اختتامیہ: قانون کے پردے میں اختیار
ستائیسویں ترمیم محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان میں فوجی بالادستی کو آئین کا حصہ بنانے کی ایک تدریجی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے ریاست کی وہ قانونی بنیادیں تبدیل کی جا رہی ہیں جن پر عوامی خودمختاری قائم تھی۔ اسٹیبلشمنٹ اب اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے مارشل لا نافذ نہیں کرے گی، بلکہ آئین ہی کو اس طرح بدلے گی کہ قانون خود اس کے اختیار کو جائز قرار دے دے۔ سیاسی طبقات شاید اسے ایک وقتی مصالحت سمجھیں، مگر تاریخ کا سبق واضح ہے: جب کوئی ریاست اپنے آئین میں اطاعت درج کر دیتی ہے، تو پھر نہ قانون باقی رہتا ہے، نہ جمہوریت۔
آج پاکستان میں قبضہ بندوق سے نہیں بلکہ شقوں، ذیلی دفعات اور بلوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اور یہی قبضہ سب سے خطرناک ہے، کیونکہ یہ قانونی دکھائی دیتا ہے۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر






































































































