ہندوستان
آپریشن سندور میں ملکی ہتھیاروں کی شاندار کارکردگی دفاعی اداروں کی قابلِ اعتماد صلاحیت کا ثبوت : راج ناتھ

نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آتم نربھر بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں دفاعی شعبے کے سرکاری اداروں کے رول کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور میں ملک میں تیار کردہ پلیٹ فارموں کی شاندار کارکردگی ان اداروں کی قابلیت ہونے اور اس کی صلاحیت کو ثابت کرتی ہے۔
وزیر دفاع ڈی پی ایس یو بھون ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر ، نوروجی نگر ، نئی دہلی میں ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (ڈی پی ایس یو) کی ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کررہے تھے ۔
میٹنگ میں چار ڈی پی ایس یو-میونشنز انڈیا لمیٹڈ (ایم آئی ایل) آرمرڈ وہیکلز نگم لمیٹڈ (اے وی این ایل) انڈیا آپٹل لمیٹڈ (آئی او ایل) اور ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ (ایچ ایس ایل) کو منی رتن (زمرہ-1) کا درجہ دیے جانے پر مبارکباد دی گئی ۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ہندوستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور خود کفیل ہندوستان کے وژن کو آگے بڑھانے میں ڈی پی ایس یو کے ثابت قدم تعاون کی تعریف کی ۔ انہوں نے تنظیموں کو ان کی مسلسل لگن اور عمدہ کارکردگی کے لیے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’’ ہمارے تمام 16 ڈی پی ایس یو ملک کی خود کفالت کے مضبوط ستونوں کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ آپریشن سندور جیسی کارروائیوں میں ان کی عمدہ کارکردگی ہمارے مقامی پلیٹ فارموں کےاعتماداور صلاحیت کی گواہی دیتی ہے ۔‘‘
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے منی رتن کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ایچ ایس ایل ، اے وی این ایل ، آئی او ایل اور ایم آئی ایل کی تعریف کی اور اسے دفاعی شعبے میں ان کی بڑھتی ہوئی کارکردگی ، خود مختاری اور تعاون کی عکاسی قرار دیا ۔ انہوں نے اس بات پربھی روشنی ڈالی کہ 2021 میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ کو سات نئے ڈی پی ایس یو میں تبدیل کرنے سے زیادہ فعال آزادی ، اختراع اور مسابقت کا آغاز ہوا ۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان چار ڈی پی ایس یوز کو نیا دیا گیا منی رتن کا درجہ ان کی صلاحیت کو بڑھانے ، جدید کاری اور نئے منصوبوں اور تعاون کو تلاش کرنے کے لیے بااختیار بنائے گا ، جس میں مشترکہ منصوبے اور سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ انضمام شامل ہیں ۔
اس شعبے کی قابل ذکر کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹرراج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سال 25-2024 میں ہندوستان نے 1.51 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار حاصل کی ۔ جس میں ڈی پی ایس یوز کی کل 71.6 فیصد شراکت داری ہے ۔اس سے دفاعی برآمدات میں بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا اوریہ بڑھ کر 6,695 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں ، جس سے ہندوستان کے مقامی نظام پر عالمی اعتمادکے قیام کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ وزیر دفاع نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ’میڈ ان انڈیا‘کے تصورسےدفاعی مصنوعات کو عالمی سطح پر عزت مل رہی ہےجس سے اس کے برآمدات کے امکانات روشن ہو رہے ہیں ۔
اس شعبے میں ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تمام ڈی پی ایس یو پر زور دیا کہ وہ اہم ٹیکنالوجیز کی تیزی سے مقامی سطح پر ترقی ، جامع تحقیق و ترقی ، مصنوعات کے معیار میں اضافہ ، بروقت فراہمی اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ایک تزویراتی نقطۂ نظر کو اپنانے پر توجہ دیں ۔ انہوں نے ڈی پی ایس یوز کو ہدایت دی کہ وہ اگلی جائزہ میٹنگ میں پیش کیے جانے والے قابل پیمائش سنگ میل کے ساتھ واضح مقامی کاری اور آر اینڈ ڈی روڈ میپ کی وضاحت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کی جانب سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں بھی خصوصی مداخلت یا مدد کی ضرورت ہوگی اسے فوری طور پر فراہم کیا جائے گا‘‘ ۔
تقریب کے ایک حصے کے طور پر ڈی پی ایس یوز کے درمیان تین بڑے مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا جو تعاون اور خود انحصاری کے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) اور بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) نے ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تاکہ اس کی جدید کاری کی کوششوں میں مدد ملے اور 10,000 ٹن فورجنگ پریس کی سہولت قائم کی جائے، جو ایلومینیم اور دفاعی شعبے میں استعمال ہونے والی مرکب دھاتوں کے لیے درآمدی انحصار کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایچ اے ایل نے وائی آئی ایل کو 435 کروڑ روپے کی بلا سود پیشگی رقم دینے کا عہد کیا ہے ، جبکہ بی ڈی ایل دس سالوں میں 3000 میٹرک ٹن تک کا مستقل کام فراہم کرے گا ۔ تیسرے مفاہمت نامے پر مدھانی میں میٹل بینک کی تشکیل کے لیے دستخط کیے گئے تاکہ قومی اہمیت کے حامل دفاعی منصوبوں کے لیے اہم خام مال کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے ۔
وزیر دفاع نے تحقیق و ترقی کے اقدامات کی ایک سیریز کی نقاب کشائی کی ، جس میں ایچ اے ایل آر اینڈ ڈی مینوئل بھی شامل ہے ، جس کا مقصد ڈیجیٹائزیشن ، دانشورانہ املاک پیدا کرنے اور ہندوستانی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے تحقیق و ترقی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنا ہے ۔ ڈی پی ایس یوز کا آر اینڈ ڈی روڈ میپ جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملیوں کو مربوط کرتا ہے ، جو لائسنس یافتہ پیداوار سے دیسی ڈیزائن اور ترقی کی طرف تبدیلی کو نشان زد کرتا ہے ، جو دفاع میں تکنیکی خود کفالت کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے ۔
پائیدار دفاعی مینوفیکچرنگ کی سمت میں ایک بڑے قدم کے طور پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سویم-پائیدار اور سبز دفاعی مینوفیکچرنگ کا آغاز کیا ، جو ایک جامع مجموعہ ہے جو ڈی پی ایس یوز میں گرین ٹرانزیشن کو ظاہر کرتا ہے ۔ جامع توانائی کی کارکردگی کے ایکشن پلان (سی ای ای اے پی) 2023 میں شامل سویم توانائی کی کارکردگی کو بڑھانے ، قابل تجدید توانائی کو اپنانے کو بڑھانے اور دفاعی پیداوار کے ماحولیاتی نظام میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کی تفصیلات پیش کرتا ہے ۔ سورن ڈیش بورڈ اور ڈی پی ایس یو انرجی ایفیشنسی انڈیکس جیسے ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے یہ پہل خود انحصاری کے ساتھ پائیداری کو یکجا کرنے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔
وزیر دفاع نے 100فیصد سبز توانائی کے استعمال کے حصول کے لئے آئی او ایل اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) کو بھی مبارکباد دی ۔ آئی او ایل نے ستمبر 2025 سے مکمل طور پر قابل تجدید توانائی کا رخ کیا ہے ، جس سے مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں 8669 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی ہے اور 26.36 لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے ۔ بی ای ایل ایک نورتن ڈی پی ایس یو ، جنوری 2025 میں آر ای 100 کا سنگ میل حاصل کرنے والا پہلا ادارہ بن گیا ، جس نے اپنے دائرہ کار-2 کے اخراج کو 15,000 میٹرک ٹن سے کم کر کے مطلق صفر کر دیا ، جو اس کے نیٹ زیرو کے اہداف کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے ۔
مسٹر سنگھ نے ہندوستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے میں ڈی پی ایس یو کی قیادت ، اختراع اور عزم کی تعریف کی ۔ انہوں نے تمام ڈی پی ایس یو کو قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی میں ان کے مسلسل تعاون کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آئیے ہم سب نہ صرف دفاعی پیداوار میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کا عزم کریں بلکہ اسے عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر بھی قائم کریں ۔
نیا قائم کردہ ڈی پی ایس یو بھون ایک جدید ترین سہولت سے لیس ہے جس کا تصور راج ناتھ سنگھ اور دفاع کے وزیر مملکت سنجے سیٹھ کی قیادت میں کیا گیا ہے ۔ ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن کے ذریعہ تیار کردہ ، یہ تمام 16 ڈی پی ایس یوز کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ تعاون ، اختراع اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے جدید کانفرنس رومز ، تخروپن سہولیات اور ایک نمائشی علاقے سے لیس ، بھون ڈی پی ایس یوز کی طاقت کو مستحکم کرنے اور ملکی اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ہندوستان کی دفاعی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں مدد کرے گا ۔
اس موقع پروزیر دفاع کے وزیر مملکت دفاع سنجے سیٹھ ، سکریٹری (دفاعی پیداوار) سنجیو کمار ، تمام ڈی پی ایس یو کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر اور وزارت دفاع کے سینئر عہدیدارتھے ۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندوستان آنے والے 11 جہازوں نے ہرمز عبور کیا، ہندوستان کے دس جہاز ابھی بھی خلیجی خطے میں: وزارت خارجہ
نئی دہلی مغربی ایشیا کا تنازع ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو ہوئے معاہدے کے بعد سے ہندوستان آنے والے 11 مختلف ٹینکروں نے آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کیا ہے جبکہ ہندوستانی پرچم والے دس ٹینکر ابھی بھی خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے ہیں اور دو جہاز ابھی ہرمز کو عبور کر کے خلیجی خطے میں داخل ہوئے ہیں ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو یہ معلومات فراہم کیں۔ مسٹر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق سوالوں کے جواب میں کہا کہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے جانے کے بعد سے ہندوستان آنے والے کل 11 جہازوں نے ہرمز کو بحفاظت عبور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پرچم والے دس جہاز ابھی بھی خلیجی خطے میں پھنسے ہیں اور ان کی بھی جلد واپسی کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے دو اور جہاز ابھی آبنائے ہارمز عبور کر کے خلیجی خطے میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دونوں طرف سے جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہندوستان آنے والے 11 جہازوں میں سے تین ہندوستانی پرچم والے ہیں جن میں سے ہر ایک پر دو لاکھ 85 ہزار ٹن خام تیل لدا ہے۔ ایک غیر ملکی ٹینکر پر ایل پی جی اور دوسرے غیر ملکی جہاز پر خام تیل لدا ہے۔ اس کے علاوہ چھ بلک کیریئر بھی ہندوستان آ رہے ہیں جن میں کھاد لدی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ اس راستے سے عالمی تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد حصے کا کاروبار ہوتا ہے۔ ہرمز کے کھلنے سے خام تیل درآمد کرنے والے ہندوستان سمیت کئی ممالک کو راحت ملی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل ملکی مفاد کے خلاف، مودی حکومت ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگی ہے: جے رام
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ہند-امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہندوستان کے اقتصادی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر دو روزہ ہندوستان دورے پر قومی راجدھانی (دہلی) میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 فروری کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری کردہ مشترکہ بیان کے تحت امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ہندوستان نے امریکی زرعی اور صنعتی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم یا کم کرنے اور پانچ سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر تک کی خریداری کا یقین دلایا تھا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی ‘ریسیپروکل ٹیرف’ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا، جس سے ہندوستان کو دی گئی ٹیرف رعایت مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ہندوستان سمیت تمام تجارتی شراکت داروں پر عارضی طور پر 10 فیصد ٹیرف لگا دیا اور اب ہندوستان امریکی جانچ کے دائرے میں ہے۔
کانگریس لیڈر کا الزام ہے کہ امریکہ اس جانچ کا استعمال ہندوستان پر دباؤ بنانے کے لیے کر رہا ہے تاکہ وہ مجوزہ ٹریڈ ڈیل پر دستخط کر دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے “سودا نہیں بلکہ لوٹ” ثابت ہوگا اور اس سے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے کسان شدید طور پر متاثر ہوں گے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے باوجود امریکہ نے ان پر بھی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو کسی بھی ایسے تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں، جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو ملائیشیا سے سبق لینا چاہیے، جس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنی ٹریڈ ڈیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے وزیر اعظم مودی پر صدر ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا، جس میں امریکی صدر نے کئی بار کہا ہے کہ انہوں نے “آپریشن سندور” رکوایا تھا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس دعوے کی عوامی طور پر تردید کرنی چاہیے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی کے لیے جوڈیشل آفیسر کی عرضی مسترد کی، کہا کہ وہ کولیجیم کو ہدایت نہیں دے سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کو ہماچل پردیش کے ایک جوڈیشل آفیسر کی اس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے پر غور کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ جج کے طور پر ترقی سے متعلق معاملات میں ہائی کورٹ کولیجیم کو کوئی عدالتی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتیدرخواست گزار اروند ملہوترا، جو اس وقت دھرم شالہ میں فیملی کورٹ کے پرنسپل جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے ان سے جونیئر افسران کے ناموں کی سفارش کی تھی، جن کی ترقیوں کو بعد میں سپریم کورٹ کولیجیم نے منظوری دے دی تھی۔
درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ بلبیر سنگھ نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں ہماچل پردیش ہائی کورٹ کولیجیم کو ہدایت دی تھی کہ وہ جج کے عہدے پر ترقی کے لیے درخواست گزار اور ایک اور جوڈیشل آفیسر کے ناموں پر دوبارہ غور کرے۔
انہوں نے عرض کیا کہ جہاں دوسرے افسر کے معاملے میں اس ہدایت پر عمل کیا گیا، وہیں درخواست گزار کے سلسلے میں ایسی کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی۔ تاہم، جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جے مالیا باگچی کی بنچ نے اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے درخواست گزار کی امیدواری کو مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے سینئر کونسل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ درخواست گزار دفعہ 32 کے تحت دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، درخواست گزار نے ہائی کورٹ کی متعلقہ اتھارٹی سے انتظامی سطح پر رجوع کرنے یا دیگر عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے عرضی کو نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ کولیجیم نے 3 جون کو جوڈیشل افسران چراغ بھانو سنگھ، بھوپیش شرما اور یوگیش جسوال کے ناموں کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ میں جج کے طور پر ترقی دینے کے لیے منظوری دی تھی۔
اس سے قبل، 2024 میں، ڈسٹرکٹ ججز چراغ بھانو سنگھ اور اروند ملہوترا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے جج کے عہدے پر ترقی کے لیے سفارشات پیش کرتے وقت ان کی میرٹ اور سینیرٹی کو نظر انداز کیا تھا۔ اس سال ستمبر میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ان کی امیدواری پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
تازہ ترین1 day agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ



































































































