دنیا
انڈونیشیائی فضائیہ کا 12 بی این ٹی-250 بموں کا کامیاب تجربہ

جکارتہ، انڈونیشیائی فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ بی این ٹی-250 بم کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کا مقصد امریکی ساختہ اسلحے پر انحصار کم کرنا ہے۔ جکارتہ پوسٹ نے جمعرات کو یہ اطلاع دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 3ویں ایئر اسکواڈرن کے پائلٹس نے 18 نومبر کو دو ایف-16 اے ایم لڑاکا طیاروں کے ذریعے مجموعی طور پر 12 بی این ٹی-250 بم فائر کیے۔ ہر طیارے نے آٹھ بار بمباری کی۔
ایئر بیس کے کمانڈر مُچتادی انظر لیگووو نے بتایا کہ یہ تجربات تکنیکی ڈیٹا جمع کرنے اور بم کی عملی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے۔
جکارتہ پوسٹ کے مطابق لیگووو نے کہا،”یہ ٹیسٹ ایف-16 فائٹنگ فالکن (3ویں ایئر اسکواڈرن) پر بی این ٹی-250 بم کے فنکشن، درستگی اور انضمام کو جانچنے کے لیے کیا گیا۔”
اس سے قبل، انڈونیشیائی پائلٹس فضائی مشقوں میں امریکی ساختہ مارک 82 بم استعمال کرتے تھے۔ انڈونیشیا نے 2022 میں بی این ٹی-250 کی تیاری شروع کی تھی، جس کا ابتدائی پروٹوٹائپ مارچ میں آزمایا گیا، جبکہ مکمل آپریشنل ٹیسٹنگ اس ماہ مکمل ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، کئی آسیان ممالک نے اس نئے بم میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
بی این ٹی-250، جس کا وزن 250 کلوگرام (551 پاؤنڈ) ہے، ایک مقامی طور پر تیار کردہ نیٹو معیار کا جنگی بم ہے جسے مالانگ (مشرقی جاوا) میں نجی دفاعی کمپنی پی ٹی ساری باہاری اور سرکاری اسلحہ ساز کمپنی پی ٹی داہانا نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
جکارتہ پوسٹ نے رپورٹ شائع کی ہے کہ ساری باہاری روسی اور نیٹو دونوں طرز کے طیاروں کے لیے کئی “ڈمب” بم بھی تیار کرچکی ہے، جن میں روسی طیاروں کے لیے پی-100، پی-250، پی-500، اور پی-100ایم شامل ہیں، جبکہ نیٹو طیاروں کے لیے بی این ایل-125، بی این ایل-250، بی این ایم -250 اور بی این ٹی-250 شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز مناسب وقت پر ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔
پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق ایران کا مؤقف غلط ہے اوروہ بھی یہ جانتے ہیں ایران کے جوہری پروگرام کا 100فیصد جائزہ لیا جائے گا اگر ایران کو مصیبت چاہیے تو جوہری ہتھیار حاصل کرلے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گر رہی ہیں جو 70 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کو نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے دورے کی اجازت دینے کا ارادہ نہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا تاہم جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بحال فنڈز کے استعمال کا طریقہ کار ملکی مفادات کے مطابق طے ہو گا جب کہ لبنان پر جنگ کا خاتمہ امریکاکے ساتھ ہونیوالی مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شرط ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی میزائل طاقت امریکہ کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات کا حصہ نہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوامِ متحدہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ملاحوں کو نکالے گا
لندن، اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زیادہ ملاحوں کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر آپریشن‘ ایران، عمان، امریکہ، خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور سمندری صنعت کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ان کارروائیوں کے لیے محفوظ بحری آمدورفت کے حالات کی مکمل تصدیق کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے گزشتہ ہفتے ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف شقوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ایران نے مستقبل میں طویل مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے ’جوہری دیانت داری‘ یقینی بنے گی۔‘‘
مسٹر ٹرمپ کی اس پوسٹ سے کچھ وقت پہلے ایران نے کہا تھا کہ گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مراکز کا معائنہ اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی نہیں کر سکے گی۔
اس کے جواب میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ ایرانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیات کے مؤثر آئی اے ای اے معائنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکومت جاپنے گھریلو لوگوں کے لئے جو کہنا چاہے کہہ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ ایران “کسی بھی حالت میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔”
جاری یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے۔
ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر تہران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکہ کے زیر کنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
تجزیہ1 week agoیہ التجا مفتی کون ہے





































































































