تازہ ترین
امیگریشن ایکٹ کی خلاف ورزی پر سرینگر پولیس کا بڑا آپریشن، متعدد ہوٹلوں اور ہاوس بوٹ مالکان کے خلاف مقدمات درج

سری نگر،جموں وکشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سری نگر میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لئے پولیس نے امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کئی ہوٹلوں، ہوم اسٹیز اور ہاؤس بوٹ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے پانچ الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پولیس کے مطابق غیر ملکی شہریوں کے قیام کے دوران لازمی فارم-سی رپورٹنگ نہ کرنا نہ صرف سنگین غفلت ہے بلکہ قومی سلامتی سے جڑے قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے، جس پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
پولیس نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران راجباغ علاقے میں ہوٹل بلوسمز، ہوٹل گرینڈ ایم ایس اور ہوٹل گولڈن فاریسٹ نے غیر ملکی مہمانوں کو ٹھہرایا لیکن متعلقہ فارنرز رجسٹریشن آفس کو فارم-سی جمع نہیں کیا۔ اس سنگین خلاف ورزی پر پولیس اسٹیشن راجباغ میں ایف آئی آر نمبر 65/2025 زیر دفعات 8 اور 23-بی امیگریشن و فارنرز ایکٹ درج کی گئی ہے۔
اسی طرح خا نیار کے خیام علاقے میں بھی ہوٹل خیبر نے بارہا تنبیہ کے باوجود فارم-سی کے ثبوت پیش نہیں کئے جس پر پولیس اسٹیشن خانیار میں ایف آئی آر نمبر 57/2025 قائم کی گئی۔ لال بازار میں نواباغ باغوان پورہ میں قائم آئی ایم وائی ہوم اسٹے کے مالک محمد اسلم بکتو نے اسرائیلی شہری اسٹارو بنسکی لیور سمیت دیگر غیر ملکی مہمانوں کا قیام چھپایا اور فارم-سی آن لائن جمع نہیں کیا، جس پر پولیس اسٹیشن لال بازار میں ایف آئی آر نمبر 60/2025 درج ہوئی۔
نشیبی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ نشاط میں وکیل کالونی کے محمد اشرف زرگر فارم-سی جمع کرانے میں ناکام رہے، جس پر پولیس اسٹیشن نشاط میں ایف آئی آر نمبر 101/2025 درج ہوئی۔ اسی طرح رام منشی باغ کے علاقے میں متعدد ہاؤس بوٹس—فلوٹنگ کیسل، بیسٹ ویو ہاؤس بوٹ، کرسٹل پیلس اور لیک پیلس—کے مالکان نے بھی غیر ملکی مہمانوں کی لازمی رپورٹنگ نہیں کی۔ ان چاروں ہاؤس بوٹس میں تائیوان، روس، رومانیہ اور اسپین سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی مقیم تھے۔ اس خلاف ورزی پر پولیس اسٹیشن آر ایم باغ میں ایف آئی آر نمبر 94/2025 زیر دفعات 7، 14 اور 16 امیگریشن و فارنرز ایکٹ درج کی گئی۔
سرینگر پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس نے ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ہاؤس بوٹس اور ہوم اسٹے آپریٹرز کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کے قیام کے دوران فارم-سی کی لازمی رپورٹنگ ہر صورت یقینی بنائیں، کیونکہ اس میں کوتاہی نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ قومی سلامتی کے لئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
سرینگر پولیس نے کہا کہ وہ امن و امان کو برقرار رکھنے، ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے بدستور اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ
دنیا
ایران کی کوئٹہ میں دھماکے کی مذمت، دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور
تہران، 2 ایران نے کوئٹہ میں ٹرین پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بین الاقوامی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوٓں نے اپنے بیان میں کہاکہ کوئٹہ میں ہوئی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عوام اور حکومت سے اظہار یکجہتی ، جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایران اور روس کے سفارتخانوں نے بھی کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کے قریب دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ گھناؤنے عمل کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور حامی انسانیت دشمن ذہنیت رکھتے ہیں۔ روسی سفارتخانے نے کہا کہ امید ہے حملے کے منصوبہ سازوں کی شناخت کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اتوار کو کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، دھماکے سے ٹرین کو اور قریب کھڑی 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران سے مذاکرات ‘تعمیری’ ہیں، لیکن محاصرہ حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “منظم اور تعمیری” ہیں تا ہم ، محاصرے کا سلسلہ ایک حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا۔
ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “محاصرے کو مکمل طور پر نافذ رکھا جائے گا جب تک کہ کوئی معاہدہ حاصل، تصدیق اور دستخط نہ کیا جائے۔ دونوں فریقوں کو وقت لینا چاہیے اور درست فیصلہ کرنا چاہیے۔ غلطی کی گنجائش نہیں!” انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات ‘کافی زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز’ بنتے جا رہے ہیں اور خبردار کیا کہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا ‘حمایت اور تعاون’ پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور کہا کہ یہ عمل ابراہیمی معاہدوں میں وسیع شرکت کے ذریعے مضبوط ہوگی اور اشارہ دیا کہ ایران بھی ایک دن اس فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے پر تنقید کی، اسے ‘اب تک کے سب سے بد ترین معاہدوں میں سے ایک’ قرار دیا اور دوبارہ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو الزام دیا کہ یہ ایک معیوب معاہدہ تھا جس نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی راہ کھولی۔ اچھا اور مناسب معاہدہ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ مذاکرات ‘بہت بہتر’ ہیں اور ایک موثر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، اور زور دیا کہ جاری عمل تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
اتوار کو ٹروتھ سوشل پر مزید ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے ساتھ کوئی ممکنہ معاہدہ ‘اچھا اور مناسب’ ہوگا، جو سابق صدر باراک اوباما کے تحت 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی طرح نہیں ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے تہران کو ‘بے پناہ آمدنی ‘ اور ‘جوہری ہتھیار تک واضح اور کھلا راستہ’ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات ‘بالکل برعکس’ ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ تا حال مکمل طور پر طے نہیں پایا۔ ٹرمپ نے مذاکرات کے ناقدین کو بھی مسترد کیا، کہا کہ وہ اس عمل کے بارے میں ‘کچھ نہیں جانتے’، اور مزید کہا کہ سابقہ انتظامیہ کے برعکس ، وہ ‘خراب معاہدے’ نہیں کرتے۔
دریں اثنا، ایرانی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کی کئی شقوں پر اختلافات حل طلب ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی (نیم سرکاری) نے کہا، ‘آج ہونے والی بعض بات چیت کے باوجود، سمجھوتے کی بعض شقوں، بشمول ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے کے مسئلے پر امریکی رکاوٹ تا حال جاری ہے۔’
یو این آئی۔ع ا۔
تجزیہ
موسمیاتی تبدیلی او ر ہندوستانی زراعت کا نیا ماڈل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی استحکام، غذائی تحفظ، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اگرچہ صنعتی ترقی، شہری توسیع اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے معیشت کی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم زراعت آج بھی ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا تصور زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ صدی میں ہندوستانی زراعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی زرعی طریقے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور غیر متوقع موسمی حالات جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب زراعت کا انحصار موسمی اندازوں، مقامی تجربات اور روایتی مہارتوں پر تھا، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب اور مٹی کی مسلسل خرابی نے زرعی پیداوار کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صرف زرعی قرضے، منڈی تک رسائی یا سپلائی چین کی بہتری کافی نہیں رہی بلکہ اب ایک نئے زرعی وژن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری اور آب و ہوا سے مطابقت بنیادی ستون ہوں۔
اسی تناظر میں ہندوستان کے ایگری ٹیک (Agri Tech) ایکو سسٹم کے اندر“کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر”یعنی آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت اور“سسٹین ایبل فارمنگ”یعنی پائیدار کاشتکاری سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سرمایہ کار، حکومتیں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی ادارے اور ترقیاتی تنظیمیں اس بات کو سمجھنے لگی ہیں کہ مستقبل کی زراعت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ زیادہ پائیدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظام پر مبنی ہوگی۔
ہندوستانی زراعت اس وقت ایک پیچیدہ بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات ہیں اور دوسری طرف قدرتی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً چار فیصد میٹھے پانی پر ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ مٹی کی نامیاتی ساخت میں کمی، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور بدلتے موسمی پیٹرن نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
زرعی زمینیں مسلسل نامیاتی مادے سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال نے اگرچہ وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن طویل مدت میں اس نے مٹی کی صحت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں کسان زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔
اسی دوران مون سون کی روایتی ترتیب بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلے بارش کا ایک متوازن نظام موجود تھا، لیکن اب یا تو بارش تاخیر سے آتی ہے، یا بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، یا چند دنوں میں انتہائی شدت سے برس کر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی نے کسانوں کی منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فصلوں کے وقت بیجوں کے انتخاب، پانی کی دستیابی اور زرعی لاگت سب غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک معاشی اور سماجی حقیقت بن چکی ہے۔ شدید موسمی واقعات میں اضافے نے زراعت کے استحکام کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، ژالہ باری، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
غیر مستحکم زرعی آمدنی کا مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی پالیسی مباحث میں قیمت اور آمدنی کی ضمانت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر کھیتوں کی آمدنی میں درمیانی مدت میں 15 سے 25 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت دونوں خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی بحران ہے۔ اگر آبادی بڑھتی رہے، پانی کم ہوتا جائے، زمین کی صحت گرتی رہے اور موسم غیر یقینی ہو جائے تو روایتی زراعت کے ذریعے اس مساوات کو حل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایگری ٹیک سرمایہ کاری اور پائیدار زراعت ایک نئی امید کے طور پر سامنے آتی ہے۔
ایگری ٹیک ایکو سسٹم دراصل زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حل اور سائنسی جدت کے امتزاج کا نام ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز، ڈرونز، موسمی پیش گوئی کے نظام، سیٹلائٹ امیجنگ، آبی انتظام، اسمارٹ آبپاشی، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
پہلے ایگری ٹیک سرمایہ کاری کا زور بنیادی طور پر منڈی تک رسائی، سپلائی چین، زرعی قرضوں اور لاجسٹکس پر تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کی توجہ ان حلوں پر منتقل ہو رہی ہے جو موسمیاتی خطرات کو کم کر سکیں۔ یعنی ایسے نظام جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، مٹی کی صحت بہتر بنائیں، کاربن اخراج کم کریں اور کسانوں کو موسمی جھٹکوں کے خلاف زیادہ مضبوط بنائیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب زراعت کو محض ایک کاروباری موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجودی مسئلے کے حل کے میدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کا بنیادی مقصد ایسے زرعی نظام پیدا کرنا ہے جو موسمی جھٹکوں کو برداشت کر سکیں، کم وسائل میں مؤثر پیداوار دیں اور ماحولیات پر منفی اثرات کو کم کریں۔
اس تصور میں فصلوں کی تنوع، پانی کا مؤثر استعمال، موسمی پیش گوئی پر مبنی کاشتکاری، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، مٹی کی بحالی، نامیاتی مواد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ سازی شامل ہے۔
مثلاً اگر کسی علاقے میں بارش غیر یقینی ہے تو وہاں ڈرپ ایریگیشن، مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہو تو ایسی اقسام متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ پائیدار زراعت اب محض ماحولیاتی کارکنوں کا نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔پائیدار کاشتکاری کا مقصد قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے طویل مدت تک زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں مٹی کی صحت، پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور کم کیمیائی استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔
روایتی زرعی ماڈل نے زیادہ پیداوار تو دی، لیکن اس کی قیمت زمین اور پانی نے ادا کی۔ زیر زمین پانی تیزی سے کم ہوا، مٹی میں نامیاتی مادہ گھٹا اور کیمیائی آلودگی بڑھی۔ اگر یہی ماڈل جاری رہا تو آنے والے عشروں میں زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔پائیدار کاشتکاری اس بحران کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس میں فصلوں کی گردش، نامیاتی کھاد، مربوط غذائی انتظام، بائیولوجیکل کیڑوں کا کنٹرول اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔
سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑی اقتصادی تبدیلی بھی ہے۔ وہ کمپنیاں جو پانی بچانے، مٹی بہتر بنانے، موسمی پیش گوئی، ڈیجیٹل زراعت، کاربن کریڈٹ اور زرعی رسک مینجمنٹ کے حل فراہم کر رہی ہیں، مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ایسے ماڈلز پیش کر رہے ہیں جو کسانوں کو درست وقت پر معلومات، بہتر بیج، مؤثر آبپاشی اور بیماریوں کی پیشگی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
ہندوستان1 week agoدفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے راج ناتھ ویتنام اور کوریا کے دورے پر روانہ
دنیا7 days agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
































































































