جموں و کشمیر
وادی کشمیر میں برفباری کے بعد سیاحتی شعبے میں نئی جان، سیاحتی مقامات پر غیر معمولی رش

سری نگر،وادی کشمیر میں طویل خشک موسم کے بعد ہونے والی تازہ اور بھاری برف باری نے نہ صرف پوری وادی کو دوبارہ سفید چادر اوڑھا دی ہے بلکہ سیاحتی سرگرمیوں میں بھی نئی جان بخش دی ہے۔
بھاری برف باری کے بعد گلمرگ کا رہائشی منظر ایک بار پھر دلکش اور مسحور کن بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں مشہور گلمرگ گنڈولہ کے لیے صبح سے ہی لائنیں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ سکیئنگ اور سنو بورڈنگ کے شوقین ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں پہاڑی ڈھلانوں کا رخ کر رہے ہیں۔
دہلی سے آئے ایک سیاح امت شرما نے یو این آئی کو بتایا:’ہم پچھلے ایک ماہ سے گلمرگ آنے کا انتظار کر رہے تھے لیکن برف نہیں ہونے کی وجہ سے منصوبہ ملتوی کر رہے تھے۔
اب جب پورا گلمرگ سفید ہو گیا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ کشمیر نے ہمارا کھویا ہوا انتظار پورا کر دیا ہو۔‘
اننت ناگ ضلع کے مشہور ترین پہاڑی مقام پہلگام میں بھی سیاحوں کا جمِ غفیر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ برف باری نے آرُو ویلی اور بیٹااب ویلی کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیا ہے۔
گھوڑا سوار، لوکل گائیڈ، ٹیکسی آپریٹر اور دکاندار سبھی اس غیر معمولی رش سے خوش نظر آ رہے ہیں۔ پہلگام کے لوکل ٹیکسی ڈرائیور محمد نذیر نے یو این آئی کو بتایا:
’تین ہفتے سے گاڑی تقریباً کھڑی تھی۔ آج الحمدللہ چار ٹرپس کیے۔ برف ہمارے لیے ہمیشہ برکت لے کر آتی ہے، چاہے موسم کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔‘
ممبئی کی سیاح سونیا کولھے نے کہا:’ہم نے کبھی اتنی قریب سے برف نہیں دیکھی تھی۔ پہلگام کی فضاؤں میں ایک سکون ہے، ایک خاموشی جس سے محبت ہو جاتی ہے۔ کشمیر سچ میں جنت ہے۔‘
سونہ مرگ میں بھی برف باری نے منظرنامہ حسین بنا دیا ہے، لیکن زوجیلا اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری برفباری کے بعد راستے بند ہونے کے باعث کئی سیاحوں کو محدود مقامات تک ہی رسائی مل رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سڑکوں کی کلیئرنس کے لیے مشینری لگاتار کام کر رہی ہے۔
سری نگر شہر میں ڈل جھیل، مغل باغات اور شہر خاص کے تاریخی مقامات پر بھی سیاحوں کا بے تحاشا رش دیکھا جا رہا ہے۔ ڈل جھیل میں شِکارا سواری، خاص طور پر برف کی ہلکی تہہ کے ساتھ، سیاحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ بنتا جا رہا ہے۔
شکارا والے غلام حیدر نے بتایا:’پچھلے پورے مہینے میں جتنی سواری نہیں ملی تھی، وہ ایک دن میں مل رہی ہے۔ برف باری نے ڈل جھیل کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دی ہے، سیاح تصویروں اور ویڈیوز کے لیے لائن بنا رہے ہیں۔‘
برف باری کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ملبوسات، دستکاری، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل صنعت کے لیے بھی راحت لے کر آیا ہے۔
ایک دکاندار ارشاد بٹ نے کہا:’خشک سالی اور کم سیاحت کی وجہ سے حالات بہت خراب تھے۔ اب تین دن میں جتنا کاروبار ہوا ہے، لگتا ہے اللہ نے ہماری دعائیں سن لی ہیں۔ برف ہمارے لیے زندگی ہے۔‘
اگرچہ برف باری نے خوشی لائی ہے، لیکن کچھ علاقوں میں سڑکوں کی بندش، بجلی کی فراہمی میں خلل اور ٹریفک رکاوٹیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے متعدد ٹیمیں تعینات کی ہیں۔
ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’سیاحوں کے بڑھتے رش کو دیکھتے ہوئے ہماری ترجیح صاف راستے، بہتر رابطہ کاری اور ہنگامی خدمات کی فراہمی ہے۔
کوشش ہے کہ سیاحوں کو کسی بھی قسم کی دقت نہ آئے۔‘
سیاحتی محکمہ کے مطابق اگلے چار سے پانچ روز میں موسم دھیمی رفتار سے بہتر ہوگا جس کے بعد سیاحوں کی تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
سیاحوں اور مقامی لوگوں کے چہروں پر جو خوشی اور اطمینان دکھائی دے رہا ہے، وہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ کشمیر کا اصل حسن،برف،ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ لوٹ آیا ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ
سری نگر، ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز پہلگام کے ننون بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا، تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا سے قبل سیکیورٹی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔
جنوبی کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس مشق کا مقصد یاترا کے دوران ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف سیکیورٹی اور امدادی اداروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
موک ڈرل میں مختلف ہنگامی صورتحال کی نقل تیار کی گئی، جس کے ذریعے شریک اداروں نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور ردِعمل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی۔
اس مشق میں اننت ناگ پولیس، سی اے پی ایف، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ مشق کے دوران فوری کارروائی، مؤثر مواصلاتی نظام، انخلا کے طریقہ کار، ہجوم کے انتظام اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سینئر افسران نے مشق کی نگرانی کی اور شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر یاترا کے دوران تعینات تمام اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر سے افسپا ہٹایا جائے: وزیر سکینہ ایتو
سری نگر، جموں و کشمیر کی وزیر سکینہ ایتو نے جمعہ کے روز متنازعہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ( اے ایف ایس پی اے) کو جموں و کشمیر سے فوری اور مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود بارہا دعویٰ کر چکی ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ خطے میں بہتر سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکز کا ہدف ہے کہ اگلے سال تک تقریباً پورے شمال مشرق سے افسپا ہٹا دیا جائے۔ جموں و کشمیر کی وزیر صحت و تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ یہی اصول جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے کیونکہ مرکز مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن اور معمول کی زندگی بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ “اگر وہ کہتے ہیں کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں، اب یہاں کچھ نہیں ہے، نہ پتھراؤ ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ ہے، تو پھر سب سے پہلے افسپا یہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔”
افسپا مسلح افواج کو ان علاقوں میں خصوصی اختیارات دیتا ہے جنہیں “پریشان حال” قرار دیا گیا ہو اور یہ قانون اب بھی جموں و کشمیر میں نافذ ہے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں سکینہ ایتو نے کہا کہ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں بلکہ ایک ایسا وعدہ ہے جو مرکز پہلے ہی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت گزشتہ تقریباً دو برسوں سے اس مطالبے کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ “گزشتہ 18 ماہ سے ہم بار بار ریاستی درجہ کا معاملہ حکومتِ ہند کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ کابینہ میں قرارداد منظور کی گئی تھی اور لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے دہلی بھی بھیجی گئی، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔”
سکینہ ایتو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر نیشنل کانفرنس کی قیادت نئی دہلی کے جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو مزید مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ




































































































