تازہ ترین
ہند–امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ: ٹیرف میں کمی سے کسے فائدہ ہوگا
نئی دہلی، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے متوقع عبوری تجارتی معاہدہ بالآخر نافذ ہو گیا ہے، جس سے دوطرفہ تجارتی تناؤ میں محتاط لیکن سیاسی طور پر اہم کمی آئی ہے اور اس سال کے آخر میں ایک زیادہ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا، جمعہ کی دیر رات طے پانے والے اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ کئی ہندوستانی نژاد اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ان اشیاء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز، گھر کی سجاوٹ کا سامان، دستکاری کی مصنوعات اور منتخب مشینری شامل ہیں۔
اگرچہ ٹیرف کو ہٹایا نہیں گیابلکہ اس کی سطح میں کمی ہی کی گئی ہے، تاہم تجزیہ کاروں اور صنعتی اداروں نے اسے پہلے کے مقابلے میں ایک بامعنی کمی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے سابق سکریٹری (اقتصادی تعلقات) پیناک آر چکرورتی نے کہا، ’’ہم نے تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی زرعی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جیسا کہ کیا جانا چاہیے تھا… لیکن دونوں اطراف سے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی کے پیغامات کی اولین توجہ یقین دہانیوں پر مرکوز رہی ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے سیاسی طور پر انتہائی حساس زرعی اور ڈیری شعبوں کا ’’مکمل تحفظ‘‘ کرتا ہے۔
وزیر موصوف کا یہ بیان ایک طرف تو ملک کے لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے مکئی، گندم، چاول، ڈیری، پولٹری اور متعلقہ مصنوعات تک بازاررسائی ایک ریڈ لائن (آخری حد) کی حیثیت رکھتی ہےاور دوسری طرف اس سے بین الاقوامی سطح پر اس بات کو اجاگر کرنا بھی مقصود ہے کہ تجارتی مذاکرات میں زرعی تجارت ہندوستان کا سب سے حساس ویٹو پوائنٹ رہے گا۔
ہندوستان کی جانب سے دی گئی رعایتوں کو ابھی تک واضح طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق زیادہ تر امریکی برآمدات پر کم ٹیرف لاگو کیے جائیں گے اور بنیادی شعبوں کے مفادات محفوظ رہیں گے۔‘‘ اس کے باوجود، اعلیٰ درجے کی زرعی مصنوعات اور ڈبہ بند خوراک، بشمول سبزیاں، پھل، شراب اور ڈبہ بند اشیاء کو انتہائی مسابقتی ڈیوٹی ریٹس پر داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اسی طرح اعلیٰ درجے کی آٹوموبائلز اور مشینری بشمول دفاعی اور نیوکلیائی منصوبوں سے متعلقہ مصنوعات کو بھی رسائی ملے گی۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، بعض اعلیٰ قیمت والی ہندوستانی برآمدی زمرے، جینرک ادویات، جواہرات و ہیرے، اور طیاروں کے پرزوں پر عائد ٹیرف، عبوری معاہدے کے کامیاب نفاذ اور حتمی شکل دینے کی شرط پر ختم کیے جانے والے ہیں۔
امریکہ ان قومی سلامتی سے متعلق ڈیوٹیوں کو بھی ختم کردے گا جو پہلے اسٹیل، ایلومینیم اور تانبے سے متعلقہ اقدامات کے تحت ہندوستانی طیاروں اور طیاروں کے اجزاء پر لگائی گئی تھیں۔ یہ جی ای، بوئنگ اور طیارہ سازی و دفاعی پیداوار سے وابستہ ان متعدد کمپنیوں کے لیے اچھی خبر ہوگی جو ہندوستان میں اپنے مراکز قائم کر چکی ہیں یا اس کا ارادہ رکھتی ہیں۔
توقع ہے کہ فوری فوائد پوری معیشت کے بجائے مخصوص شعبوں تک محدود ہوں گے، لیکن ان میں مزدوروں پر مبنی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی والے دونوں حصے شامل ہیں۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ میں ڈبلیو ٹی اوکے سابق چیئرپروفیسر بسوجیت دھر نے کہا، ’’اس معاہدے کو ایک آغاز سمجھا جا سکتا ہے۔ ٹیرف کی شرحوں پر مزید بات چیت اور مول تول ہوگا۔ تاہم، وہ غیر ٹیرف رکاوٹیں جو پہلے حائل تھیں، اب ختم کی جا رہی ہیں۔‘‘
ہندوستانی جینرک ادویات بنانے والے مینوفیکچررز امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں، جس سے سستی ادویات کے کلیدی سپلائر کے طور پر ہندوستان کے کردار کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
جواہرات اور زیورات کا شعبہ، خاص طور پر ہندوستان کی کٹنگ اور پالش کرنے والی صنعت کو ، اس شعبے میں بڑھتے ہوئے قیمتوں کے مقابلے کے باوجود بہتر منافع مل سکتا ہے اور اس کی برآمدات بھی بڑھ سکتی ہیں۔
طیاروں اور طیاروں کے پرزوں پر ٹیرف کا خاتمہ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے ایرو اسپیس ایکو سسٹم کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں مینوفیکچرنگ، دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال(ایم آر او) آپریشنز اور کل پرزے فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کاروں کے لیے، باہمی ٹیرف کی کم شرح امریکی مارکیٹ میں ان کی مسابقت کو بڑھاتی ہے، خاص طور پر ان مزدوروں پر مبنی زمروں میں جہاں انہیں ویتنام، کمبوڈیا، ترکی اور بنگلہ دیش جیسے کم لاگت والے دیگر پروڈیوسرز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
انڈسٹریل مشینری اور آٹو پارٹس سمیت انجینئرنگ کی اشیاء اور الیکٹرک وہیکل (ای وی) کے پرزے بنانے والی کمپنیوں کو بھی تجارتی رکاوٹوں میں کمی سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے، جبکہ نامیاتی کیمیکلز، پلاسٹک اور ربڑ کی مصنوعات کو بہتر قیمتوں اور مارکیٹ تک آسان رسائی کا فائدہ ملے گا۔
اگرچہ یہ عبوری معاہدہ تمام دیرینہ تجارتی مسائل کو حل نہیں کرتا، لیکن دونوں حکومتوں نے ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے حصول کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں اشیاء، خدمات، ڈیجیٹل تجارت، سرمایہ کاری میں تعاون اور سپلائی چین کی مضبوطی شامل ہوگی۔
ترمیم شدہ ٹیرف کا نفاذ فوری طور پر شروع ہونے والا ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے آپریشنل ہدایات جاری کی جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ عبوری معاہدہ ’’کلاسیکی معنوں میں لبرلائزیشن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئی ترتیب کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان نے اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ ٹیرف ریلیف اور تزویراتی ہم آہنگی کے بدلے منتخب شعبوں میں ریگولیٹری لچیلا پن دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پروفیسر دھرکا کہنا تھا کہ ’’یہی عملی سیاست ہے‘‘۔
فی الوقت، یہ معاہدہ عالمی تجارت کے غیر یقینی حالات میں ہندوستانی برآمد کاروں کو ٹیرف کے حوالے سے ایک حد تک استحکام فراہم کرتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ حتمی معاہدے پر جاری مذاکرات کے درمیان دونوں اطراف سے اس نئے سیاسی عزم کا اشارہ ہے کہ ہند–امریکہ اقتصادی تعلقات کو زیادہ متوقع اور قواعد پر مبنی فریم ورک میں ڈھالا جائے۔
یو این آئی –م ک
جموں و کشمیر
تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم
سری نگر، کشمیر کے کئی علاقوں میں ہفتہ کے روز تازہ بارش ہوئی جس کے باعث پورے خطے میں درجۂ حرارت میں کمی آئی اور جون کے مہینے میں بھی موسم بہار جیسا خوشگوار محسوس ہونے لگا۔
محکمۂ موسمیات، سری نگر کے مطابق کشمیر ڈویژن کے بیشتر مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں درجۂ حرارت 17 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 6.7 ڈگری سیلسیس کم ہے، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں درجۂ حرارت 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط سے 2.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
بارش کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں رات کا درجۂ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ وادی میں سب سے کم درجۂ حرارت گلمرگ میں 9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر بارش ہوئی، جن میں پہلگام میں 13 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 1.3 ملی میٹر اور گلمرگ میں 1.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو روز تک بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی چل سکتی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کا موسم جون کے وسط جیسا نہیں بلکہ اپریل کے آغاز جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’آج سری نگر کا موسم جون کے وسط کے بجائے اپریل کے ابتدائی دنوں جیسا لگ رہا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو گلمرگ اور پہلگام جیسے مقامات پر یقیناً کافی سردی ہوگی۔‘‘
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر7 days agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے







































































































