ہندوستان
ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا
نئی دہلی، ہندوستان فرانس سے 114 اضافی رافیل ایف-4 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے لیے ملٹی بلین ڈالر کے معاہدے کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں سے 96 طیارے ناگپور میں ڈسالٹ ریلائنس ایروسپیس لمیٹڈ کے پلانٹ میں تیار کیے جائیں گے یہ اقدام فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے آئندہ منگل کو ہندوستان کے دورے سے پہلے کیا جا رہا ہے اس معاہدے میں 18 طیارے براہِ راست فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی ہندوستان میں تیار ہوں گے۔ دفاعی حصول کمیٹی، جس کی سربراہی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کر رہے ہیں، اس ہفتے اس معاہدے کو منظوری دے گی، جس کے بعد اسے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ معاہدے کی مالیت تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ سے 3.25 لاکھ کروڑ روپے کے درمیان ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستانی فضائیہ کو درکار طاقت فراہم کرے گا، کیونکہ اس وقت اس کے اسکواڈرن کی تعداد زیادہ تر پرانے مگ-21 طیاروں کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے منظور شدہ 42 کے مقابلے میں کم از کم 10 اسکواڈرن کم ہے۔ حکام نے کہا کہ “ہندوستانی فضائیہ کو ہمیشہ دو محاذوں کے چیلنج کے لیے تیار رہنا چاہیے اور یہ خریداری کافی عرصے سے زیرِ التوا ہے۔”
یہ 114 طیارے ہندوستان کے ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ (ایم آر ایف اے) پروگرام کے تحت حکومت سے حکومت کے فریم ورک میں حاصل کیے جائیں گے، جن میں نئے میزائل سسٹمز اور جدید ایویونکس شامل ہوں گے۔ حکام نے مزید کہا کہ “اس میں بتدریج مقامی کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افراطِ زر کے مطابق قیمتوں کا تعین شامل ہوگا۔ ایم آر ایف اے پروگرام ایف-4/ایف-5 معیار پر مبنی ہوگا اور اس میں جدید میزائل سوئٹس شامل ہوں گی۔”
مقامی پیداوار کی شرائط کے مطابق طیاروں کے پرزے اور الیکٹرانکس ہندوستان میں تیار کیے جائیں گے۔ تقریباً دو درجن ہندوستانی کمپنیاں ڈسالٹ کے ساتھ شراکت داری کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔ ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز نے ڈسالٹ کے ساتھ رافیل کے ڈھانچے ہندوستان میں بنانے کے لیے معاہدہ کیا ہے، جبکہ مہندرا ڈائنامیٹک ٹیکنالوجیز بھی دیگر سسٹمز کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔
اسٹریٹجک طور پر رافیل پہلے ہی ہندوستان کی فضائی طاقت کا مرکزی حصہ ثابت ہوا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے 2016 میں کیے گئے معاہدے کے تحت 36 رافیل طیارے شامل کیے تھے، جبکہ بحریہ نے الگ سے بحری ورژن کا آرڈر دیا ہے۔ نئے معاہدے کے بعد ہندوستان کے پاس رافیل طیاروں کی تعداد 176 ہو جائے گی، جس سے وہ فرانس کے بعد اس پلیٹ فارم کا سب سے بڑا آپریٹر بن جائے گا۔
ہندوستانی حکام نے بارہا رافیل کی اعلیٰ سروس ایبلٹی ریٹ (تقریباً 90 فیصد) اور اس کے اسپیکٹرا الیکٹرانک وارفیئر سوئٹ کو اجاگر کیا ہے، جو عملی آپریشنز میں کامیابی سے آزمائے جا چکے ہیں۔
یواین آئی ظ ا
ہندوستان
سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
نئی دہلی، سپریم کورٹ آف انڈیا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے وابستہ افراد کی سرگرمیوں کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے یہ طنزیہ سوشل میڈیا تحریک ہندوستان کے چیف جسٹس سوریا کانت کے حالیہ ’’کاکروچ‘‘ تبصرے کے بعد سامنے آئی تھی
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل این کے گوسوامی نے پیر کے روز دلیل دی کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ عدلیہ کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ’’اسے اتنی جذباتی انداز میں نہ لیں۔‘‘
ایک اور وکیل نے دلیل دی کہ درخواست گزار جعلی قانون کی ڈگریوں کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں، ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ عدالت میں ہونے والی گفتگو کا تجارتی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس دلیل پر ردِعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ ’’ایسی کوئی سنجیدہ ضرورت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے۔‘‘
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اس ماہ کے آغاز میں ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان، مقبولیت حاصل کی۔ اس تحریک کی شروعات 15 مئی کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہونے والی سماعت سے ہوئی، جس میں چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے بے روزگار نوجوان وکلا کے وکالت چھوڑ کر سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی سرگرمیوں کی طرف رجحان پر تشویش ظاہر کی تھی۔
چیف جسٹس نے تبصرہ کیا تھاکہ ’’ایسے نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں جنہیں اس پیشے میں روزگار نہیں مل رہا۔ کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور کچھ آر ٹی آئی کارکن بن گئے ہیں۔‘‘ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کا تبصرہ جعلی اہلیت اور جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشے میں داخل ہونے والے افراد کے لیے تھا، نہ کہ عمومی طور پر بے روزگار نوجوانوں کے لیے۔
یواین آئی۔ ظا
ہندوستان
ایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
نئی دہلی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکز کی مودی حکومت پر حملہ بولا ہے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کانگریس صدر نے کہا کہ “فیول لوٹ” کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پٹرول ڈیزل کے دام بڑھائے گئے ہیں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں پٹرول کی قیمتوں میں کل 7.35 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 7.53 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے عام لوگوں کی بچت کو “جلانے” کے لیے پٹرول چھڑک دیا ہے۔
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ سال 2004 سے 2014 کے درمیانیو پی اے حکومت کے دوران بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں 175.34 فیصد کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں بین الاقوامی کروڈ آئل کی قیمتوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود پٹرول کی قیمت 71.41 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے اور ڈیزل 56.71 روپے سے بڑھ کر 95.20 روپے فی لیٹر پہنچ گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے عوام سے گزشتہ 12 برسوں میں ایندھن کے ذریعے 43 لاکھ کروڑ روپے کی “لوٹ” کی ہے، جو ہر روز تقریباً 1000 کروڑ روپے کے برابر ہے۔
مسٹر کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایچ پی سی ایل، بی پی سی ایل اور آئی او سی جیسی سرکاری تیل کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی درج کی گئی، جس سے صاف ہے کہ بی جے پی “عوام نہیں، منافع” کی سیاست کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
نئی دہلی راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب رہنما پرمود تیواری نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکز کی مودی حکومت پر زوردار حملہ بولا ہے انہوں نے کہا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دوران پٹرول کی قیمت 71 روپے فی لیٹر تھی، جو اب بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مبارک ہو مودی جی، آپ نے پٹرول کی قیمتوں کی سنچری مکمل کر ہی لی۔
مسٹر پرمود تیواری نے وزیر اعظم نریندر مودی کو “مہنگائی مین” بتاتے ہوئے کہا کہ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ “اچھے دن” کا اصلی مطلب کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھا کر عام لوگوں کی جیب پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تازہ اضافے میں پٹرول 2.61 روپے اور ڈیزل 2.71 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔ اس کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
کانگریس نے بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عوام پر پڑ رہے اقتصادی بوجھ پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کو راحت دینے میں پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
یواین آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
ہندوستان4 days agoسونیا، کھرگے، راہل، پرینکا نے راجیو گاندھی کو ان کی 35 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا
































































































