دنیا
خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز
تہران، ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کے ممکنہ جانشینوں سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے، جس میں بانیٔ انقلابِ ایران روح اللّٰہ خمینی کے پوتے حسن خمینی کا نام نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔
حسن خمینی اسلامی جمہوریہ ایران کے وفادار سمجھے جاتے ہیں، تاہم وہ اصلاحات کے حامی اور بعض مواقع پر حکام پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں، 2021ء میں انہوں نے گارڈیئن کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب اصلاح پسند امیدواروں کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سخت گیر رہنما ابراہیم رئیسی کامیاب ہوئے تھے، جو 2024ء میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
2022ء میں نوجوان ایرانی خاتون مہیسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، حسن خمینی نے اس واقعے پر شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ 22 سالہ لڑکی کے ساتھ کیا ہوا۔
اسی دوران انہوں نے ان مظاہرین پر بھی تنقید کی جو خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور بدامنی کے دوران ریاستی مؤقف کی حمایت کی۔
انہوں نے بعض پُرتشدد کارروائیوں کو شدت پسند تنظیم داعش سے تشبیہ دی اور حکومت کے حامی مارچ میں بھی شریک ہوئے۔
خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام میں حسن خمینی نے انہیں ایران اور مسلمانوں کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم ایک بار پھر امام خمینی کے راستے پر چلتے ہوئے اس مشکل مرحلے سے گزرے گی۔
حسن خمینی کو قریبی حلقوں میں ایک نسبتاً روشن خیال مذہبی اسکالر تصور کیا جاتا ہے، خصوصاً موسیقی، خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے ان کے خیالات قدرے نرم سمجھے جاتے ہیں، وہ سوشل میڈیا رجحانات پر نظر رکھتے ہیں اور مغربی فلسفے سمیت اسلامی فکر میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
2012ء میں بعض اصلاح پسندوں نے انہیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے سابق صدر حسن روحانی کی حکومت کی حمایت کی تھی، جس نے 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، یہ معاہدہ بعد ازاں امریکی صدر ٹرمپ نے 2018ء میں منسوخ کر دیا تھا۔
حسن خمینی نے ایران پر عائد پابندیوں کے باعث عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر بھی کھل کر بات کی ہے۔
ایک دہائی قبل انہوں نے مجلسِ خبرگان کے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی، جو سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمے دار آئینی باڈی ہے، تاہم انہیں گارڈیئن کونسل نے نااہل قرار دے دیا، باضابطہ طور پر اس کی وجہ ان کا مذہبی درجہ حجۃ الاسلام بتایا گیا، جو آیت اللّٰہ سے ایک درجہ کم ہے، مگر مبصرین کے مطابق یہ اقدام اصلاح پسند کیمپ کے ممکنہ چیلنج کو روکنے کے لیے تھا۔
گزشتہ برس اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ فضائی کشیدگی کے دوران حسن خمینی نے خامنہ ای کو خط لکھ کر ان کی قیادت کو سراہا اور ایرانی میزائلوں کو اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب قرار دیا تھا۔
حسن خمینی اسرائیل کو شیطانی صہیونی ریاست اور سرطانی رسولی قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کو صہیونیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط ہونا ہو گا۔
امام خمینی کے پوتے عربی اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور نوجوانی میں فٹبال کھیلنے کے شوقین رہے ہیں، تاہم 21 برس کی عمر میں ان کے دادا نے انہیں قم جا کر اسلامی الہیات کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ایران جنگ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا
واشنگٹن، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات کے ایجنڈے میں ایران جنگ کا موضوع سرفہرست ہوگا۔ تفصیالت کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران جنگ کا موضوع سب سے اوپر ہوگا۔
امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات عالمی سیاست اور معیشت کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر 14 اور 15 مئی کو چین کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے، بیجنگ میں صدر ٹرمپ کا روایتی طور پر نہایت پُرتپاک اور شاہانہ سرکاری استقبال متوقع ہے۔ واشنگٹن کو امید ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اس اہم ملاقات کے دیگر ایجنڈوں پر منفی اثر ڈالنے کے بجائے تعمیری مذاکرات کا راستہ کھولے گی۔
واشنگٹن پوسٹ نے مزید کہا کہ اس ملاقات کو ایک بڑے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، تہران کے لیے بیجنگ کی مسلسل حمایت نے واشنگٹن کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملاقات شدید تناؤ کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ یہ وہی اہم ملاقات ہے جسے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز اور سیکیورٹی خدشات کے باعث پہلے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس ملاقات کے ذریعے چین کو ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے قائل کرنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع نہ ہو۔
دوسری جانب چین اپنے معاشی مفادات اور توانائی کی ضروریات کے پیشِ نظر تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے چند روز عالمی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے فیصلے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران انٹرنیشنل واٹرز پر کنٹرول چاہتا ہے جو ناقابلِ قبول ہے: امریکہ
واشنگٹن، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اب انٹرنیشنل واٹرز پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے لیکن یہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے اب تک تجاویز پر جواب نہیں ملا توقع ہے ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز سامنے آئیں گی۔ مارکو روبیو نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتا، آپریشن ایپک فیوری کے تمام مقاصدحاصل کر لیے لیکن اب ایران کی نظر بین الاقوامی پانیوں پر قبضے کی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی بحریہ کا حملہ
واشنگٹن، امریکی بحریہ کے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں 10اہلکار زخمی اور 5 لاپتہ ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایرانی پرچم والے تجارتی جہاز پر حملہ کیا اور ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے کے بعد ایرانی جہاز کے 5 اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ حملہ آبنائے ہرمز اور عمان میں بحیرہ مکران کےقریب ہوا۔
امریکی حملے میں ایرانی جہاز کارگو شپ سے ٹکرایا اور آگ لگ گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی جہاز کے زخمی اہلکار اسپتال منتقل کر دیے گئے ہیں جب کہ لاپتہ اہلکاروں کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا17 hours agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا7 days agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ
دنیا7 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
ہندوستان1 week agoشاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
دنیا1 week agoایران میں آپریشن ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گِر جائیں گی، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا5 days agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
دنیا7 days agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
دنیا5 days agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ














































































































