دنیا
دشمن کی کوشش ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جائیں : مسعود پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک پر حملوں پر معذرت کے بیان پر شدید تنقید کے بعد اپنے مؤقف میں جزوی تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دے گا اور ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
اتوار کو جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اگر کسی ملک کی جانب سے اس پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں تاہم دشمن کی کوشش ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جائیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پزشکیان کے اس مؤقف میں تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب انہیں پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سخت گیر رکنِ پارلیمنٹ اور مذہبی رہنما حمید رسائی نے سوشل میڈیا پر صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان غیر پیشہ ورانہ، کمزور اور ناقابل قبول ہے۔
ادھر ایران کی عدلیہ کے سربراہ اور عبوری قیادتی کونسل کے رکن غلام حسین محسنی اژئی نے کہا کہ تہران ان مقامات کو نشانہ بناتا رہے گا جنہیں وہ جارحیت کے مراکز قرار دیتا ہے۔
انہوں نے بعض ہمسایہ ممالک پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی سہولیات دشمن کے استعمال کے لیے فراہم کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب سمجھی جانے والی ایک سخت گیر شخصیت نے کہا کہ صدر کے ابتدائی بیان سے پاسدارانِ انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈر شدید ناراض ہو گئے تھے۔
بعد ازاں جب ایرانی صدر نے اپنا بیان دوبارہ سوشل میڈیا پر جاری کیا تو انہوں نے وہ معذرت حذف کر دی جس پر سخت گیر حلقوں نے اعتراض کیا تھا۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی اعلیٰ قیادت میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور بعض سینئر علما نے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس سے گفتگو میں کہا کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے اور قوم میں اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اب تک خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیز اور غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون نظام کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی بحری قوت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے مختلف مقامات پر حملے جاری رہیں گے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ تہران کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے اور ایسی نئی قیادت منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو امریکہ اور خطے کے ممالک کے لیے خطرہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد شروع ہونے والی جنگ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق یہ جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر کل بروز اتوار دستخط نہیں ہوں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتوار کے روز دستخط نہیں ہوں گے، تاہم انہوں نے آنے والے دنوں میں اس کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اس دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ زیر غور اسلام آباد ایم او یو جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس مرحلے پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمیں ایم او یو پر دستخط کے صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا، اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا لیکن آنے والے دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاہم دوسرے فریق کے غیر مستحکم رویے کے باعث ہمیں اس عمل کے حوالے سے کسی بھی بیان بازی میں محتاط رہنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی





































































































