دنیا
ایرانی سپریم لیڈر کا دشمن کو دوٹوک پیغام،مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بندکیےجائیں ورنہ حملے جاری رہیں گے: مجتبی خامنہ ای
تہران، ایران کے نئے منتخب ہونے والے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے باضابطہ بیان میں دشمن (امریکہ اور اسرائیل) کو دوٹوک پیغام دے دیا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے، عہدے کا تقاضا ہے موجودہ حالات کے ساتھ مستقبل کے بھی فیصلے کروں، ایرانی رہنماؤں اور عوام کے درمیان ہمیشہ رابطہ قائم رہے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم عظیم قوم ہیں، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میری رہنمائی فرمائے، عوام کی خدمت کیلیے قرآن سے رہنمائی حاصل کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر میری کوئی اہمیت نہیں، اللہ کی حمایت سے عظیم رہنماؤں کی تقلید کرتا رہوں گا، عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے، عوام کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا، مشکل وقت میں ایرانی عوام نے ہمیشہ بہتر فیصلے کیے وہ اپنے عزم سے دشمن کو شکست دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین وقت میں ایرانی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا، انہوں نے اپنے حملوں کے ذریعے دشمن کو حاوی نہیں ہونے دیا، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے، مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈے بند کیے جائیں اور اگر یہ بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے۔ دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی
’میرے والد، اہلیہ اور بہن نے شہادت کا رتبہ پایا اور شہدا کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ہمارے شہدا آج بہتر جگہ پر ہیں۔ ہر ایرانی سمیت تمام شہدا کا بدلہ لیں گے۔ دشمن کو ایرانیوں کا خون بہانے کا حساب دینا پڑے گا۔ دشمن نے ہمارے اسکولوں پر حملہ کیا ان کو حساب دینا ہوگا۔ دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، دشمن نے کچھ ممالک میں اپنے اڈے قائم کیے جو ہمارے کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، امریکی اڈوں سے حملے جاری رہے تو جوابی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں، دشمن جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو 10 رمضان کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا، تمام ایرانیوں سے مکمل اتحاد کی اپیل کرتا ہوں۔مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بندکیےجائیں ورنہ حملے جاری رہیں گے: مجتبی خامنہ ای
اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کشیدگی اور جنگ کو بڑھا رہی ہے اور اگر یہ اڈے برقرار رہے تو ان پر حملوں کا خطرہ موجود ہوگا۔مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنارہےہیں، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ایرانی عوام کا اتحادہ ہمیشہ قائم رہےگا، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میرے مدد فرمائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بند کیےجائیں، امریکی اڈے بند نہ ہوئے توحملے جاری رہیں گے، ہم پڑوسیوں سے دوستانہ روابط پر یقین رکھتے ہیں، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عوام یکجہتی سے دشمن کو شکست دیں گے، ہم اپنے شہدا خصوصا مناب اسکول کے شہدا کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے،
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہُرمُز دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے بند رہنی چاہیے، ہرایرانی سمیت تمام شہدا کا بدلہ لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر کل بروز اتوار دستخط نہیں ہوں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتوار کے روز دستخط نہیں ہوں گے، تاہم انہوں نے آنے والے دنوں میں اس کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اس دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ زیر غور اسلام آباد ایم او یو جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس مرحلے پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمیں ایم او یو پر دستخط کے صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا، اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا لیکن آنے والے دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاہم دوسرے فریق کے غیر مستحکم رویے کے باعث ہمیں اس عمل کے حوالے سے کسی بھی بیان بازی میں محتاط رہنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے







































































































