جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری میں حصہ لیا: ڈائریکٹر سنسس آپریشنز
جموں، جموں و کشمیر اور لداخ کے ڈائریکٹر سنسس آپریشنز (مردم شماری) امت شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری (سیلف انیومریشن) کے عمل میں حصہ لیا ہے۔
جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں مردم شماری 2027 کے تحت ‘مکانوں کی فہرست سازی’ (ہاؤس لسٹنگ) کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ہی، مسٹر شرما نے تمام باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مہینے بھر جاری رہنے والی اس مردم شماری مہم کے دوران گھروں کا دورہ کرنے والے شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے حال ہی میں ختم ہونے والے خود شماری کے مرحلے کے ردعمل کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس مردم شماری مہم میں بڑھتی ہوئی عوامی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
مسٹر شرما نے مطلع کیا کہ مکانوں کی فہرست سازی کا کام شروع ہونے سے پہلے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں کل 6 لاکھ، 67 ہزار، 517 خاندانوں نے اور لداخ یونین ٹریٹری میں 7,009 خاندانوں نے سرکاری پورٹل کے ذریعے اپنی خود شماری کے عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔
ڈائریکٹر نے ذکر کیا کہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں اس عمل کے دوران شاندار شرکت دیکھی گئی، جن میں خاص طور پر پلوامہ، جموں اور کلگام جیسے اضلاع میں مثبت اور بہترین ردعمل درج کیا گیا۔
مسٹر شرما نے لداخ کے لیہہ اور کارگل اضلاع کے شہریوں کی شرکت کی بھی ستائش کی اور خود شماری کے مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں تعاون دینے پر ضلعی انتظامیہ، پرنسپل سنسس افسران، فیلڈ اسٹاف، میڈیا اداروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔
مردم شماری 2027 کی تیاریوں کے وسیع پیمانے پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر شرما نے بتایا کہ دونوں مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں ‘مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس’ (ہاؤس لسٹنگ بلاکس) کی حد بندی اور جیو ٹیگنگ کی سرگرمیاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے تحت جموں و کشمیر میں 23,600 سے زیادہ مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی کی گئی ہے۔ لداخ میں 567 مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی طرح، مسٹر شرما نے کہا کہ تمام اضلاع اور دور دراز کے علاقوں میں مردم شماری کے عمل کو پیشہ ورانہ اور یکساں طریقے سے یقینی بنانے کے لیے ماسٹر ٹرینرز، فیلڈ ٹرینرز، شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے لیے جامع تربیتی پروگرام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 27,000 سے زیادہ اور لداخ میں تقریباً 800 سنسس کٹس پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عملہ مکانوں کی فہرست سازی کے آغاز کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔
شہریوں سے شمار کنندگان اور نگرانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مکانوں کی فہرست سازی، مردم شماری کا ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے، جس کے دوران مکانات کی تعداد، گھریلو سہولیات اور رہائشی حالات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ انہوں نے باشندوں سے گزارش کی کہ وہ مردم شماری کے اہلکاروں کو درست، مکمل اور سچی معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ اعتماد مردم شماری کا ڈیٹا ہی فلاحی اسکیموں، صحت کی خدمات، تعلیمی بنیادی ڈھانچے، شہری ترقی کے اقدامات اور مختلف سماجی و اقتصادی پروگراموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی بنیاد بنتا ہے۔
مسٹر شرما نے شہریوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ مردم شماری کے دوران جمع کی جانے والی تمام معلومات سنسس ایکٹ (مردم شماری ایکٹ)، 1948 کے دفعات کے تحت مکمل طور پر خفیہ رہتی ہیں اور اس کا استعمال خاص طور پر صرف شماریاتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی معلومات قانون کے تحت محفوظ ہیں اور اسے کسی بھی دوسری ایجنسی یا ادارے کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ
سری نگر، ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز پہلگام کے ننون بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا، تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا سے قبل سیکیورٹی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔
جنوبی کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس مشق کا مقصد یاترا کے دوران ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف سیکیورٹی اور امدادی اداروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
موک ڈرل میں مختلف ہنگامی صورتحال کی نقل تیار کی گئی، جس کے ذریعے شریک اداروں نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور ردِعمل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی۔
اس مشق میں اننت ناگ پولیس، سی اے پی ایف، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ مشق کے دوران فوری کارروائی، مؤثر مواصلاتی نظام، انخلا کے طریقہ کار، ہجوم کے انتظام اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سینئر افسران نے مشق کی نگرانی کی اور شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر یاترا کے دوران تعینات تمام اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر سے افسپا ہٹایا جائے: وزیر سکینہ ایتو
سری نگر، جموں و کشمیر کی وزیر سکینہ ایتو نے جمعہ کے روز متنازعہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ( اے ایف ایس پی اے) کو جموں و کشمیر سے فوری اور مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود بارہا دعویٰ کر چکی ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ خطے میں بہتر سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکز کا ہدف ہے کہ اگلے سال تک تقریباً پورے شمال مشرق سے افسپا ہٹا دیا جائے۔ جموں و کشمیر کی وزیر صحت و تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ یہی اصول جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے کیونکہ مرکز مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن اور معمول کی زندگی بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ “اگر وہ کہتے ہیں کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں، اب یہاں کچھ نہیں ہے، نہ پتھراؤ ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ ہے، تو پھر سب سے پہلے افسپا یہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔”
افسپا مسلح افواج کو ان علاقوں میں خصوصی اختیارات دیتا ہے جنہیں “پریشان حال” قرار دیا گیا ہو اور یہ قانون اب بھی جموں و کشمیر میں نافذ ہے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں سکینہ ایتو نے کہا کہ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں بلکہ ایک ایسا وعدہ ہے جو مرکز پہلے ہی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت گزشتہ تقریباً دو برسوں سے اس مطالبے کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ “گزشتہ 18 ماہ سے ہم بار بار ریاستی درجہ کا معاملہ حکومتِ ہند کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ کابینہ میں قرارداد منظور کی گئی تھی اور لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے دہلی بھی بھیجی گئی، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔”
سکینہ ایتو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر نیشنل کانفرنس کی قیادت نئی دہلی کے جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو مزید مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا7 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا4 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ






































































































