جموں و کشمیر
آر آر یو اور جے کے ایس ڈی آر ایف کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، جموں و کشمیر میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو فروغ ملے گا
سرینگر، جموں و کشمیر میں آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے راشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو)، جموں و کشمیر کیمپس نے منگل کے روز جموں و کشمیر اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (جے کے ایس ڈی آر ایف) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔
حکام کے مطابق اس اشتراک کا مقصد آر آر یو کی تعلیمی مہارت اور جے کے ایس ڈی آر ایف کے عملی تجربے کو یکجا کرتے ہوئے آفات کے انتظام کے شعبے میں تربیت، تحقیق اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔
دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے ایس ڈی آر ایف اہلکاروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام تیار کرنے، مشترکہ طور پر تعلیمی و تربیتی کورسز کی اسناد جاری کرنے اور خطے میں آفات سے نمٹنے کے تربیتی مراکز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ادارے علم اور تجربات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے ورکشاپس، سیمینارز، لیکچرز اور قلیل مدتی تربیتی پروگراموں کے انعقاد میں بھی قریبی تعاون کریں گے۔
ایم او یو کے تحت مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ کے تبادلے، تعلیمی وسائل اور علمی معلومات کے اشتراک کی راہیں بھی ہموار ہوں گی، جس سے آفات کے انتظام کے شعبے میں جدت اور سیکھنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ معاہدہ سرینگر میں اے جی میر، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور کمانڈنٹ جنرل، ہوم گارڈز، سول ڈیفنس و ایس ڈی آر ایف جموں و کشمیر کے دفتر میں دستخط کیا گیا۔
اس موقع پر حکام نے کہا کہ یہ شراکت داری ایک زیادہ مضبوط اور آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار جموں و کشمیر کی تعمیر کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے، جس میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور تحقیق پر مبنی حل کلیدی کردار ادا کریں گے۔
حکام کے مطابق تعلیمی علم اور عملی میدان کے تجربے کو یکجا کرکے آر آر یو اور جے کے ایس ڈی آر ایف مرکز کے زیر انتظام علاقے میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں اور عوامی تحفظ کو مؤثر طور پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کے تحت کشمیر میں تقریباً 4 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط
سرینگر، پولیس نے منگل کے روز جاری نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت اونتی پورہ اور سرینگر میں علیحدہ کارروائیوں کے دوران تین مبینہ منشیات فروشوں کی تقریباً 4 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لیں۔
جنوبی کشمیر کے ذیلی ضلع اونتی پورہ میں پولیس نے چرسو، اونتی پورہ کے رہائشی نثار احمد خانڈے کے دو منزلہ رہائشی مکان اور 7 کنال 18 مرلہ اراضی کو، جس کی مالیت تقریباً 2.50 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، ضبط کر لیا۔
یہ کارروائی انسدادِ منشیات و نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں کے قانون (این ڈی پی ایس ایکٹ) کی دفعہ 68-ایف کے تحت عمل میں لائی گئی۔
پولیس کے مطابق ٹول پلازہ پولیس پوسٹ کے انچارج کی جانب سے سینئر افسران کی نگرانی میں کی گئی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ مذکورہ جائیداد منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے ممنوعہ مادوں کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی۔ خانڈے متعدد منشیات سے متعلق مقدمات میں ملوث بتایا جاتا ہے۔
دریں اثنا، سرینگر پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات کے تحت دو مبینہ منشیات فروشوں کی 1.5 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کر لیں۔
بٹمالو پولیس اسٹیشن نے سکندر فردوس کے نام پر مسلم آباد، نندریش کالونی، سرینگر میں واقع تقریباً 80 لاکھ روپے مالیت کے تین منزلہ رہائشی مکان کو این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68F(1) مع دفعہ 68E کے تحت ضبط کیا۔ ملزم ایف آئی آر نمبر 18/2022 میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت نامزد ہے۔
ایک اور کارروائی میں کرال کھڈ پولیس اسٹیشن نے غلام حسن بھٹ ساکن میرگنڈ کنالوان، بجبہاڑہ، اننت ناگ کے تقریباً 70 لاکھ روپے مالیت کے ایک منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کیا۔ بھٹ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2022 میں ملزم ہے اور اس وقت ضمانت پر ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ضبط شدہ جائیدادیں منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل شدہ آمدنی سے خریدی گئی تھیں۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ناردرن ریلوے نے پٹھانکوٹ سے ملک کے مختلف حصوں کے لیے 8.3 ٹن لیچی روانہ کی، کسانوں کو نئی منڈیوں تک رسائی
جموں، ناردرن ریلوے کے جموں ڈویژن نے پٹھانکوٹ، پنجاب سے لیچی پارسل لوڈنگ سروس میں ایک اور کامیابی حاصل کرتے ہوئے پٹھانکوٹ کینٹ ریلوے اسٹیشن سے 8.3 ٹن لیچی لوڈ کر کے ایس ایل آر کے ذریعے ملک کے مختلف اہم ریلوے اسٹیشنوں، جن میں باندرہ ٹرمینس، سورت، سہارنپور اور احمد آباد شامل ہیں، روانہ کی ہے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق لیچی کے سیزن کے دوران مختلف مقامات کے لیے پارسل لوڈنگ سروس مسلسل جاری ہے اور یہ مقامی کسانوں اور تاجروں کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعۂ نقل و حمل بن چکی ہے۔ تازہ پھل پارسل وینوں کے ذریعے کم وقت میں اور محفوظ طریقے سے ملک کے مختلف حصوں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
اس کامیاب ترسیل پر سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اوچت سنگھل نے کہا کہ جموں ڈویژن زرعی مصنوعات کی نقل و حمل کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان کے مطابق پارسل لوڈنگ سروس نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ ’’کسان ریل‘‘ کے تصور کو بھی عملی شکل دے رہی ہے۔انہوں نے زیادہ سے زیادہ کسانوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ لیچی کے سیزن کے دوران پارسل وینوں اور لوڈنگ و اَن لوڈنگ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سنگھل نے پارسل لوڈنگ سروس کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تیز رفتار ترسیل، کم لاگت، وسیع منڈیوں تک رسائی اور سامان کی حفاظت و بھروسے مندی یقینی بنتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا مکمل طور پر محفوظ، تمام انتظامات مکمل، یاترا کامیاب رہے گی: جتیندر سنگھ
سری نگر، مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ اس سال امرناتھ یاترا کامیاب رہے گی اور یاترا کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا چکے ہیں۔ یاترا جولائی کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگی۔
وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس سال سالانہ امرناتھ یاترا طویل مدت کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔
انہوں نے سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ”اس بار یاترا کا دورانیہ زیادہ ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی سمیت تمام پہلوؤں کا مکمل خیال رکھا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یاترا انتہائی کامیاب رہے گی۔”
جنوبی کشمیر میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہوگی اور 57 دن بعد 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
اس سے قبل، سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں محکمہ پنشن و پنشنرز ویلفیئر کی جانب سے منعقدہ 59ویں پری ریٹائرمنٹ کونسلنگ ورکشاپ اور 13ویں بینکرز آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ کی گئی گورننس اور پنشن اصلاحات سے جموں و کشمیر کے ملازمین اور پنشنرز کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے، خاص طور پر ریاست کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد خطے میں مرکزی حکومت کے ملازمین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث ابتدائی طور پر کام کے بوجھ اور خدمات کی فراہمی سے متعلق بعض مشکلات سامنے آئیں، تاہم حکومت اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ان مسائل کو بتدریج حل کر لیا گیا۔
جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر سینٹرل پنشنرز ایسوسی ایشنز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں نے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے عملی حل بھی تجویز کیے۔ ان کی تعمیری شراکت داری نے سابق ریاستی ملازمین کو مرکزی حکومت کے نظام میں شامل کرنے اور پنشن اصلاحات کے مؤثر نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے ملازمین اور پنشنرز وزیر اعظم مودی کی قیادت میں شروع کی گئی عوام دوست اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو گزشتہ ایک دہائی میں پنشن نظام میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا5 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا5 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
ہندوستان3 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
جموں و کشمیر3 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
دنیا1 week agoحوثیوں کی دھمکی: اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل پابندی لگا دیں گے
دنیا1 week agoایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی میں امریکہ شریک نہیں ہوگا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام
دنیا1 week agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی







































































































