ہندوستان
’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
نئی دہلی، کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے اور ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے بدھ کو کہا، ”وزیر داخلہ امت شاہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں حد بندی بلوں کو پاس نہیں کرا پانے کے بعد اپنی ”بے عزتی“ کی تلافی کرنے کے لیے لگاتار اپوزیشن پر حملے کر رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ کی طرف سے دیئے جانے والے لالچ کے باعث ایسے کئی لیڈر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں، جو محض دو سال پہلے مضبوط بی جے پی مخالف ایجنڈے پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لیڈروں کو دیے جا رہے لالچ ”حیران کن“ ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک ” تنگ ذہنی اور دھوکہ دہی پرمبنی مہم“ چلا رہے ہیں، جو مختلف وسائل سے لیس ہیں اور مبینہ طور پر الگ الگ افراد کی ضروریات کے مطابق منصوبے بنارہے ہیں اورلالچ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس مہم میں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں لیکن بالاخر یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
یو این آئی اف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سلوواکیہ کے دورے پر پہنچنے پر کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری مزید گہری ہوگی مسٹر مودی نے سلوواکیہ کے دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی اور وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “براتیسلاوا پہنچ گیا ہوں۔ یہ دورہ ہند-سلوواکیہ تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کی امید ہے۔”
وہاں پہنچنے پر وزیر اعظم کا رسمی استقبال کیا گیا، جس میں سلوواکیہ کی صدیوں پرانی روایت کے مطابق انہیں بریڈ اور نمک پیش کیا گیا۔ یہ منفرد روایت مہمان نوازی، خیر سگالی اور دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مسٹر مودی نے اس استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا، “براتیسلاوا میں استقبال کے دوران بریڈ اور نمک پیش کرنے کی روایتی رسم دیکھنے کو ملی۔
یہ سلوواکیہ کے بھرپور ثقافتی ورثے اور وہاں کے لوگوں کی خیر سگالی و دوستی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس دورے کے دوران سلوواکیہ کی لوک روایات کو ظاہر کرنے والا ایک ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم نے میاوا علاقے کے لوک گروپ ‘کوپانیسیارک’ کی ایک دلکش پیشکش دیکھی۔ انہوں نے کسی ملک کی تاریخ اور شناخت کو برقرار رکھنے میں روایتی فنون کے کردار کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کہا، “سلوواکیہ کے میاوا علاقے کے کوپانیسیارک گروپ کی ایک بہترین پیشکش دیکھی۔ اس طرح کی لوک روایات اپنی ثقافت اور تاریخ کو سنبھال کر رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔”
براتیسلاوا میں مسٹر مودی کا استقبال کرنے کے لیے ہندوستانی برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس پُرجوش استقبال کے لیے غیر مقیم ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیونٹی کی یہ محبت ہندوستان اور سلوواکیہ کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، “میں ہندوستانی برادری کے لوگوں کی اس محبت اور گرمجوشی کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔
ایسے جذبات ہمارے لوگوں کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں اور ہند-سلوواکیہ کی دوستی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔”
وزیر اعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان بدلتے ہوئے عالمی اور معاشی حالات کے درمیان وسطی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن سلوواکیہ، تجارت، سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، دفاعی تعاون، اختراع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آمدورفت جیسے شعبوں میں ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔
صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ مسٹر مودی کی ملاقاتوں میں معاشی تعاون بڑھانے، صنعتی شراکت داری کو مضبوط کرنے، تکنیکی تعاون میں بہتری لانے اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہونے کی امید ہے۔
اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔
ہندوستان اور سلوواکیہ کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ سفارتی تعلقات رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھی ہے، جبکہ ہندوستانی کمپنیوں نے سلوواکیہ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، خاص طور پر آٹوموبائل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ وہیں سلوواکیہ کی کمپنیوں نے بھی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
براتیسلاوا کا یہ دورہ مسٹر مودی کے وسیع یورپی سفارتی رابطے کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت، معاشی تعاون اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنا کر ہند-سلوواکیہ تعلقات کو ایک نئی رفتار دے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
امریکہ-ایران معاہدے سے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی امید : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں ایک اہم پیش رفت میں امریکہ اور ایران کے درمیان بنی رضامندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خطے میں امن اور استحکام قائم ہوگا۔
مسٹر مودی نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “میں مغربی ایشیا میں تنازعہ ختم کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی مفاہمت کا خیرمقدم کرتا ہوں، جس نے دنیا بھر میں سنگین اقتصادی خلل پیدا کیا ہے اور کئی ممالک میں جانی نقصان کا سبب بنا ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان بنی رضامندی سے خطے میں امن قائم ہوگا اور جہاز رانی اور تجارت کی آزادی یقینی ہوگی۔
وزیر اعظم نے کہا، ” ہندوستان کو امید ہے کہ اس مفاہمت پر عمل درآمد سے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی میں مدد ملے گی اور جہاز رانی اور تجارت کی آزادی یقینی ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بقیہ مسائل پر بات چیت ایک پائیدار حتمی معاہدے تک پہنچے گی۔” واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے مغربی ایشیا میں گزشتہ 107 دنوں سے چلے آ رہے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بحری ناکہ بندی ہٹانے کی بات کہی ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائی فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر4 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا6 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان4 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا5 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا1 week agoامریکہ سے پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں: ایران








































































































