تازہ ترین
مودی کو گائے کا 3 کلو گوشت مل جاتا ہے، 350 کلو بارود نہیں: کانگریس لیڈر

خبراردو:
کانگریس کے لیڈر ہارون یوسف نے مودی حکومت کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اگر کہیں گائے کا 3 کلو گوشت بھی فروخت ہو رہا ہو، نریندر مودی کو فوری پتہ چل جاتا ہے لیکن پلوامہ دھماکے میں استعمال ہونے والے 350 کلو دھماکہ خیز مواد کو وزیراعظم کیوں ٹریس نہیں کروا سکے۔
@narendramodi Ji can trace 3 kg of beef but cannot trace 350 kg of RDX #ModiFailsNationalSecurity
— Haroon Yusuf (@haroonyusuf22) February 21, 2019
ہارون یوسف کے بیان پر بھاجپا رہنماوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ بھارتی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر روی شنکر نے ہارون یوسف کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن قرار دیا۔ بی جے پی دہلی کے نائب صدر راجیو ببر نے ہارون یوسف کا بیان شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہارون یوسف نے پلوامہ واقعے کے چند روز بعد ہی سکیورٹی اداروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں تو اظہار یکجہتی کیا لیکن جلد ہی سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ایسے بیانات داغنے شروع کر دیئے جو کانگریس کا دوغلا پن ظاہر کرتے ہیں”۔
نئی دہلی سے بی جے پی کے اقلیتی رہنما بھی پیچھے نہ رہے اور ہارون یوسف کے بیان کو بھارت تقسیم کرنے کی سازش ٹھہرا دیا۔ موراچا کا کہنا تھا کہ “لوگ پلوامہ حملے کے بعد صدمے کی کیفیت میں ہیں اور ہارون یوسف وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بیانات دے کر معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں”۔
ہارون یوسف نے کہا کہ “میں نے جو کہا وہ حقیقت ہے، سچ سے کون انکار کر سکتا ہے۔ گائے کا گوشت ملنے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا مقصد ہندو مسلم نفرت کو ہوا دے کر مزید بھڑکانا تھا”۔
ہارون یوسف نے وزیراعظم کی خطے میں کشیدگی بڑھانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنا سوال دہرایا کہ ” مودی کو دھماکہ خیز مواد کی اتنی بڑی مقدار (350 کلو گرام) کی سکیورٹی اداروں نے اطلاع کیوں نہیں پہنچائی”۔
جموں و کشمیر
ریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
سرینگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کے صدر طارق حمید کرّا نے جمعرات کو کہا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ بحال نہیں کر دیا جاتا، تب تک کانگریس عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ (وزراء کی کونسل) میں شامل نہیں ہوگی۔
طارق کرّا نے آج یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے، نہ کہ کوئی وزیر کا عہدہ حاصل کرنا۔ انہوں نے واضح کیا، “کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارا اصل مسئلہ ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے۔ اگر ہم حکومت سے باہر ہیں، تو یہ ایک اصول کی وجہ سے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جب تک مکمل ریاست کا درجہ واپس نہیں ملتا، ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ‘اصولوں پر مبنی’ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس کے باوجود ہم عمر عبداللہ حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ جب بھی ہمیں لگے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ کر رہی ہے یا حکومت کو بی جے پی سے کوئی خطرہ ہے، تو اس وقت آپ کانگریس پارٹی کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا پائیں گے۔”
کانگریس رہنما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع اور ردو بدل کی قیاس آرائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی کانگریس مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا اس کا سب سے بڑا سیاسی مطالبہ ہے اور اس نے حکومت میں شمولیت کو اسی شرط سے جوڑ رکھا ہے۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کابینہ میں جلد توسیع کی جا سکتی ہے۔
طارق کرّا نے ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے میں شامل ہونے کی نیشنل کانفرنس کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کانگریس ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ جب ان سے نیشنل کانفرنس کے اس اعلان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن احتجاج کے لیے ‘انڈیا الائنس’ کے اراکین اور دیگر جماعتوں کو مدعو کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے کانگریس کے دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “ہم پہلے بھی جنتر منتر جا چکے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو ہم نے ایک سال پہلے ‘سرینگر چلو’، ‘جموں چلو’ اور پھر ‘دہلی چلو’ کا نعرہ دیا تھا۔ اصل میں یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات ہم نے ایک سال پہلے کہی تھی اور جو کام ہم نے شروع کیا تھا، آج وہ لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اس وقت تھوڑی ہچکچاہٹ تھی یا کوئی مجبوری تھی۔ آج تمام لوگ اسی نکتے پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے کانگریس پارٹی نے شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔م اع
دنیا
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں امریکہ ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر آگئیں
لندن، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 71 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگئی، قیمتوں میں اب تک 38 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امن معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں غیر معمولی پیشرفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی حالات پیدا ہونے سے پہلے کی سطح پر آگئیں۔ بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کی تازہ کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد خام تیل کی قیمت 71 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگئی ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 126 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گئی تھیں، تاہم سفارتی کوششوں کی کامیابی کے بعد قیمتوں میں اب تک 38 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ قطری حکام نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت اور بڑی پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔
عالمی میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری ان مذاکرات کو انتہائی مثبت قرار دیا ہے، جس سے مستقل امن معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے باعث خلیجی ممالک سے دنیا بھر کو خام تیل کی سپلائی کا نظام تیزی سے بہتر ہوا ہے، جس نے مارکیٹ سے سپلائی کے تعطل کا خوف ختم کر دیا ہے۔
عالمی تجارت کی سب سے اہم کڑی یعنی آبنائے ہرمز سے تجارتی اور مال بردار جہازوں کی آمد و رفت میں بتدریج اضافہ ہونے لگا ہے، جس کے باعث عالمی انرجی مارکیٹ پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی ’آئی اے ای اے‘ کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کی تردید
تہران، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ایران کے جوہری تنصیبات تک رسائی دینے والی خبروں کی تردید کردی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جن جوہری مراکز کو بمباری میں نقصان پہنچا ہے وہاں تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو رسائی دینے کی اطلاعات غلط ہیں۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ فی الحال انسپکٹرز کو صرف دو مقامات بوشہر پاور پلانٹ اور تہران ری ایکٹر تک رسائی حاصل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
دنیا3 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت








































































































