تازہ ترین
اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی فکر کریں …

ندیم احمد خان:
آج معاشرے میں ہر طرف بے دینی کا سیلاب ہے، مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہیں، ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور ہم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے، نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جبکہ بعض کو اپنی کسی حکمت کی بنا پر اولاد نہیں دیتا۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: “جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے”۔ (الشوریٰ: 49۰50)
اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، ارشاد الہٰی ہے: “اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ”۔ (التحریم:6)
اس آیت میں اسی کی طرف اللّٰہ تعالیٰ نے توجہ دلائی اور بڑے پیار بھرے انداز میں انسان کو خطاب کیا:” اے ایمان والو!” یعنی اللہ نے انسان کو اس رشتہ سے پکارا جو بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہے، اور وہ رشتہ ایمانی ہے، پھر فرمایا کہ:” تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ” وہ کیسی آگ ہے، اس کی صفت بیان کی ہے کہ” جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، اور اس پر ایسے نگران فرشتے مقرر ہیں جو بڑے طاقتور اور سخت ہیں، اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم ملتا ہے، اسے وہ پورا کرتے ہیں۔”اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اخروی کامیابی کے حصول کے لئے محض اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور خود نیک عمل کرتے رہنا کافی نہیں ہے، کیونکہ اگر یہی کافی ہوتا تو پھر اتنا فرمایا جاتا کہ اپنے آپ کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ، لیکن آگے”واھلیکم” بھی فرمایا کہ: اپنے اہل و عیال کو بھی اس آگ سے بچاؤ۔
ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے اور ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ مجھے اپنی قبر میں جانا ہے، میری بیوی کو اپنی قبر میں جانا ہے، بچوں کو اپنی قبر میں جانا ہے، ان کو سمجھانے کے لئے کون دماغ خراشی کرتا پھرے، اپنی فکر کرو، خود صحیح ہوجاؤ، یہی کافی ہے، اور اس کے لئے اپنے تئیں بظاہر دینداری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے کہ خود نماز، روزہ کا پابند، نوافل کا عادی اور اپنے طور پر منکرات سے بچنے والا، لیکن گھر کا ماحول اور اولاد کا طرز عمل گھر کے سربراہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ گھر کے سربراہ نے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر نہیں نبھائی، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی سمتیں مختلف ہیں، لہٰذا اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے کوشش تو بہت کی،مگر بچے نہیں مانتے،ہم کیا کریں؟ قرآن کریم نے “نار” (آگ) کا لفظ ذکر کرکے ایسے لوگوں کو لاجواب کردیا کہ ذرا سوچو: اگر بہت بڑی آگ دہک رہی ہو اور تمہارے بچے اس آگ میں کودنا چاہیں تو کیا ان کے اصرار اور ضد پر ان کو اس آگ میں جانے دوگے؟ اور اس وقت یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے بہت سمجھا لیا، کیا تم ان کا آگ میں کودنا برداشت کرلو گے؟جبکہ جہنّم کی آگ تو اس دنیا کی آگ سے ستر گناہ زیادہ سخت ہے۔ تب کیا کرو گے؟ ٹھیک ہے اگر والدین یا سربراہ نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے تو وہ عنداللہ برء الذمہ ہوجائیں گے، لیکن کہا تک اپنی ذمہ داری نبھائی ہے؟ اور کس حد تک کوشش کی ہے؟ یہ ہر شخص اپنے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔
اولاد کے عقیدہ، اعمال،اخلاق اور تعلیم وتربیت کی فکر بہت ضروری ہے، عقائد کا تعلق ایمان سے ہے، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دین سے ہے، قرآن کریم میں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی، حضرت یعقوب علیہ السلام نے دینی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد سے سوالیہ انداز میں استفسار کیا کہ:” ما تعبدون من بعدی”۔(البقرہ:۳۳۱)( میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟) یہ اولاد کے ایمان کی فکر ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصیت کی: ” میرے بیٹو اللّٰہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا “۔(البقرہ:۲۳۱)
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنی اولاد کے متعلق یہ ارشاد ہے: ” اور اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے رہے”۔(مریم:۵۵)
جبکہ آج کا اکثر مسلمان طبقہ اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہیں دیتا، اپنی اولاد اور بیوی بچوں کو خوش کرنے کے لئے دین وشریعت کی پرواہ نہیں کرتا، بلکہ الٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کو ناراض کردیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ السلام نے ہر انسان پر کسی نہ کسی درجہ میں ایک ذمہ داری عائد کی ہے، اور فرمایا:” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔
آج معاشرے میں ہر طرف بے دینی کا سیلاب ہے، مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہیں، ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور ہم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو جنم سے ہی اچھی باتوں کی طرف راغب کریں، تاکہ بچوں کا دل و دماغ اچھی اور نیک کاموں کی طرف لگا رہے، اپنے بچوں کو آلہ سے آلہ تعلیم حاصل کرایے ساتھ میں دینی تعلیم بھی دیں، تاکہ بچہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم باخبر رہیں۔
بچوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ نماز کی تلقین کرنا اچھے کاموں کی طرف راغب کرنا برے کاموں سے روکنا، یہی والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے، تاکہ والدین کو جب آخرت میں اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ وہاں بری ہوسکے.
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر







































































































