تازہ ترین
وادی میں دو الگ جھڑپوں میں 4 عسکریت پسند جاں بحق : مکمل رپورٹ

خبراردو: پلوامہ، کوکرناگ اور سوپور میں فوج اور جنگجوﺅں کے مابین خونین معرکہ آرائیاں واقع ہوئی جن میں4جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ پولیس نے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کےساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج و فورسز نے پلوامہ کے پنزگام علاقے میں دوران شب جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لاتے ہوئے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو پنزگام علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کردیا۔ پولیس کے بقول فورسز نے جونہی علاقے میں داخل ہوکر گھر گھر تلاشی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں موجود مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے تلاشی پارٹی پر بندوق کے دہانے کھول دئے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کی اور اس طرح علاقے میں جھڑپ کاآغاز ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کے 1بجے تا صبح ساڑھے 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ جاری تھاتاہم صبح 10بجے کے قریب جائے جھڑپ کے نزدیک گولیوں کا تبادلہ تھم گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے جائے جھڑپ کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی اور یہاں ملبے کی باریک بینی سے تلاشی شروع کی جس کے بعد ملبے سے 3جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوﺅں کی شناخت شوکت احمد ڈار ولد غلام رسول ڈار ساکن پنزگام، مظفر احمد شیخ ولد عبدالعزیز ساکن ٹہب اور عرفان احمد وانی ساکن سوپور کے طورپر ہوئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجوﺅں کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ ہیں جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے علاوہ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرلیا گیا۔ادھر علاقے میں جھڑپ کے اختتام پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پارٹی پر پتھراﺅ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کے گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی ۔ ادھر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ کے ہتھ لنگو علاقے میں سنیچر کو فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک جنگجو مارا گیا۔ معلوم ہو اکہ فوج کی 23آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر سوپور کے ہتھ لنگو علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ فورسز نے علاقے میں جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے کا چہار سو سخت محاصرہ عمل میں لاکر یہاں کسی بھی شخص کے عبور و مرور پر قدغن عائد کی۔ اس دوران فورسز نے علاقے کے کھیت اور باغات میں سخت پہرہ بٹھاتے ہوئے جنگجوﺅں کے تماممکنہ فرار راستوں کو سیل کردیا۔ فورسز نے اس موقعے پر علاقے میں مزید کمک طلب کرتے ہوئے جگہ جگہ بلٹ پروف گاڑیوں کو تعینات کردیا۔ اس دوران فورسز نے جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی جس کے ساتھ ہی علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اُٹھا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے اختتام پر یہاں ایک جنگجو مارا گیا جس کی شناخت وسیم احمد نائک ساکنہ اونتی پورہ کے بطور ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے مارے گئے جنگجو کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا ۔
ادھر پولیس نے سنیچر کو مارے گئے جنگجوﺅں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ وہ پولیس ، سی آر پی ایف اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو پولیس کے کئی عرصے سے مطلوب تھے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں سنیچر کی صبح فورسز نے پرانے قصبے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ علاقے میں محاصرہ قائم ہونے کے ساتھ ہی یہاں نوجوانوں کی چند ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے دہرونہ کوکرناگ علاقے کامحاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوچکی تھی کہ علاقے میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے طارق احمد خان نامی جنگجو پناہ لئے ہوئے ہے ۔اس دوران فورسز نے جونہی مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پارٹی پر کئی گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی علاقے میں مختصر وقفے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم چند منٹ بعد جونہی فورسز نے جائے جھڑپ کے ارد گرد تلاشی لی توانہوں نے یہاں پر کسی کو نہیں پایاجس کے ساتھ ہی فورسز نے علاقے سے جنگجو مخالف آپریشن کو منسوخ کردیا۔ اس دوران علاقے میں آپریشن کے دوران مقامی جنگجو کے پھنسے ہونے کے ساتھ ہی ہڑتال ہوئی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔
معلوم ہو اکہ اولڈ ٹاﺅن کوکرناگ میں انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر سخت بندشیں عائد کیں جس کے بعد عوام میں یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ علاقے میں مقامی لشکر جنگجو پھنسا ہوا ہے۔ اس دوران انتظامیہ نے تینوں علاقوں میں افرا تفری سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کی غرض سے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر پنزگام جھڑپ کے مابعد عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو بند رکھنے کا فیصلہ لیاہے۔ادھر پلوامہ اور سوپور جھڑپ میں جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف پلوامہ کے متعدد جبکہ سوپور کے چند علاقوں میں ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میںیہاں معمولات کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ نمائندے کے مطابق پنزگام جھڑپ میں جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں پلوامہ کے ٹہب، ملنگ پورہ، نیوہ، اونتی پورہ علاقوں میں سخت ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں عوامی، کاروباری، تجارتی اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی میں مکمل طور پر بند ہوئی.
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































