اداریہ
وادی میں ” نارمل حالات “ کی تعریف اور تشریح کیا ؟

آج کا اداریہ :
گزشتہ ہفتہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں کشمیر کے حالات پر بحث کے دوران کہا کہ کشمیر کے حالات بالکل نارمل ہیں۔
جس کےلئے انہوں نے بہت ساری چیزیں اس بات کو ثابت کرنے کےلئے کہی ۔ جیسے اسکولوں میں ۹۸ فیصد حاضری ہونا بھی شامل تھا ۔ جیسے کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے درست کرتے ہوئے کہا کہ یہ امتحانات میں ۹۸فیصدی حاضری ہے جبکہ اسکولو ں میں ۵ فیصد سے کم رہی ہے ۔
اس سے پہلے کشمیر کے دوسرے دورے پر ستمبر میں آئے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے حالات کے بہتری پر آنے کی مثال اینٹ کے بٹھوں سے اٹھنے والے دھویں اور ریت نکلاتے اشخاص کی صورت میں دی تھی ۔
لیکن دوسری جانب پچھلی جمعہ کو وادی کے چار روزہ دورے پر ۵ رکنی ایک سیول سوسائٹی گروپ کی قیادت کرنے والے بھاجپا کے سابق لیڈر یشونت سنہا نے دور ہ مکمل ہونے پر کہا کہ وادی کے حالات معمول پر نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ” وادی کے مختلف علاقوں میں انکی نقل و حرکت پر پولیس قدغن حکومت کی جانب سے زمینی حقائق پر پردہ پوشی ایک دانستہ منصوبہ ہے۔
سنہا نے یہ بھی کہاکہ یہ کہنا مشکل ہے حالات کب معمول پر آئے گے ، لیکن حکومت ہند کس طرح کا رویہ اختیار کرتی ہے اس پر منحصر ہے ۔ سنہا کو شوپیاں اور پلوامہ کے دورے کی اجازت نہیں گئی تھی ۔
گروپ کے دورے کے دوران سرینگر میں تین دن مکمل طور پر تمام کاروباری ادارے بند رکھے گئے تھے ۔
ایک طرف حکومت کی جانب سے حالات کے معمول پر ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے لیکن وہہیں دوسری جانب وادی کا دورہ کرنے کے بعد یشونت سنہا گروپ اس کے بر عکس بول رہی ہے ۔ اگر زمینی صورتحال سے بھی دیکھا جائے تو دکانیں کھولنا منی بسیں چلنا حالات کے معمول پر آنے کا ثبوت بلکہ مجبوری زیادہ لگ رہا ہے کیوںکہ دکانداروں، کاروباریوں اور ٹرانسپورٹروں ہزاروں کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ عام شہریوں کے کامکرنے کے دوران چہرے پر خوف ، تشویش اور اداسی دور سے دیکھی جا سکتی ہے ۔
مرکز نے تو ۵ اگست ے کشمیر کو پھر سے جنت بنانے کا وعدہ کیا تھا اور خصوصی پوزیشن کو سکریت پسندی کی وجہ بھی بتا یا تھا ۔لیکن تب کے بعد شہر کے کئی علاقوں اور جنوبی کشمیر میں دکانوں پر دھمکیوں کے پوسٹر بھی لگے دیکھے گئے ۔ شوپیاں میں سیب سے جڑے افراد کو سیب اتارنے کی دھمکیاں ملی ۔ ایک درجن غیر ریاستی ٹرک ڈرائیور و مزدور نا معلوم افرادکی گولیاں کا نشانہ بنے ۔
سرینگر شہر کے علاوہ کئی اضلاع میں کئی دھماکے بھی ہوئے جن میں درجنوں زخمی اور کچھ افراد کی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئی ۔ گزشتہ روز ہی اننت ناگ میں بیک ٹو ولیج کے دوران فائرنگ اور دھماکے میں دوافراد مارے گئے ،جبکہ کشمیر یونیورسٹی کے باہر ایک دھماکے میں کئی افراد زخمی ہوئے.
حکومت کو اب چاہیے کہ جس چیز کےلئے اس نے خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کی ہے ،اسے ثابت کر کے دیکھائے، نہ کہ ان کےلئے یہ کاونٹر پروڈکٹیو ہی ثابت نہ ہو.
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت





































































































