اداریہ
کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا معاملہ

اداریہ:
مرکزمیں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار نے ۲۰۱۴ اور ۲۰۱۹ کے چناﺅ میں پیش کئے گئے منشور میں دئے گئے وعدوں میں کچھ کو پورا کر دیکھایا ہے اور بہت سارے ابھی باقی ہیں ۔ انہی میں سے ایک کشمیری پنڈتوں کی کشمیر واپسی یا گھر واپسی کامعاملہ ہے ،جنہیں ۳۰ سال سے زائد کا عرصہ کشمیر کو چھوڑے ہوا ہے ۔ ۱۹۸۷ میں وادی میں ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے بعد نوجوانوں کی جانب سے بندوق کا سہارا لینے کے بعد کشمیری پنڈتوں کو خوف کے عالم میں کشمیر چھوڑنا پڑا ۔ ۹۰ کی دہائی میں ہوئی ہلاکتوں میں سے دو سو سے زائد کشمیری پنڈت بھی بندوق کا نشانہ بنے تھے ۔
جس کے بعد ایک لاکھ سے زائد کشمیری پنڈت یہاں سے منتقل ہو کر جموں دہلی اور دوسرے شہروں میں بسنے چلے گئے ۔ اب ان کشمیری پنڈتوں کو کشمیر سے گئے تیس سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے ،وہاں انہوں نے صفر سے شروع کیا ہو گا اور آج ان میں سے ایک کثیر تعداد ایک آرام دہ زندگی گزار رہی ہو گئی ۔ اب سوال یہ کہ یہ کثیر تعداد کیا وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس کشمیر آئے گی جو اس نے ان تیس سالوں میں وہاں اپنے لئے بنایا ہے ۔کشمیری پنڈتوں کے کچھ گروپ بھی کام کرتے نظر آرہے ہیں جو پنڈتوں کی واپسی کی مانگ کرتے ہیں ۔ لیکن ان پنڈتوں کی کثیر تعداد شائدہی بڑے پیمانے پر واپسی کے لئے سڑکوں پر احتجاج کرتی دیکھائی دی گئی ہو ۔ اس وقت وادی سے
باسٹھ ہزار کشمیری پنڈت رجسٹرڈ وادی سے باہر ہیں .
اب یہ کشمیری پنڈت کشمیر واپس آنا چاہیں گے یا نہیں لیکن دوسری جانب سے مرکزی سرکار کے سامنے ایک اور مسئلہ انہیں یہاں اپنی املاک پر قبضہ ختم کرواتے ہوئے وہیں بسایا جائے یا پنڈت کالونیاں تعمیر کروائی جائے ۔اپنی پرانی جگہوں پر بسانے کےلئے حکومت کو سیکورٹی کے خدشات لاحق ہیں وہیں دوسری جانب سے یہاں موجود کئی مین سٹریم لیڈران کے علاوہ علیحدگی پسند لیڈران الگ کالونیوں کی مخالفت میں ہیں۔
اب خبریں یہ بھی گردش کر رہی تھیں وادی میں تین جگہیں پنڈتوںکو بسانے کےلئے منتخب کی گئی ہیں ۔ لیکن اب خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کے بعد اب وادی میں کوئی بھی یہاں زمین خرید سکتا ہے اور رہ بھی سکتا ہے ت5و اس مسلے کو بھی یک طرف کیوں نہیں ڈال دیا جاتا جس سے کسی حد تک کشمیریوں کو آبادی میں تبدیلی کا خطرہ کم ہو جائے .
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر






































































































