تازہ ترین
لوگوں سے 100 کروڑ ٹھگنے والا ’کینڈی بابا‘ گرفتار

گرفتاری کے بعد کینڈی بابا کو پولس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ منگل کے روز کرائم برانچ نے اسے مقامی عدالت میں پیش کیا تھا جس کے بعد ٹھگی کرنے والے بابا کو 10 دنوں کی پولس حراست میں بھیجا گیا۔
کینڈی بابا کے نام سے مشہور راجیش نامی دھوکہ باز کو ہریانہ پولس کے کرائم برانچ نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کامیابی پولس کو پیر کی دیر شب اس وقت ملی جب وہ فرید آباد سیکٹر 30 میں چھپا بیٹھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کو سستا سونا فروخت کرنے، بیرون ممالک بھیجنے اور ان کی دولت دوگنی کرنے کا لالچ دے کر کینڈی بابا نے تقریباً 100 کروڑ کی ٹھگی کی تھی اور 2018 سے ہی فرار تھا۔
گرفتاری کے بعد کینڈی بابا کو پولس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز کرائم برانچ نے اسے مقامی عدالت میں پیش کیا تھا جس کے بعد ٹھگی کرنے والے بابا کو 10 دنوں کی پولس حراست میں بھیج دیا گیا۔ گرفتاری کے بعد پولس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کینڈی بابا بنیادی طور پر کروکشیتر کے شریف گڑھ کا رہنے والا ہے۔ شروع میں اس نے بابا بننے کا ڈھونگ کیا اور اپنے بھکتوں کو کینڈی تقسیم کرتے کرتے ‘کینڈی بابا’ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ پھر اس نے اپنا نام باضابطہ کینڈی بابا رکھ لیا، حالانکہ اصل نام راجیش ہے۔
پولس نے مزید بتایا کہ کینڈی بابا نے فرید آباد کے علاوہ کئی دیگر اضلاع میں بھی لوگوں سے ٹھگی کی ہے۔ یہ لوگوں کو سستا سونا فروخت کرنے اور بیرون ممالک بھیجنے کا جھانسہ دے کر پیسہ اینٹھنے کا کام کرتا تھا۔ 2018 میں جب لوگوں کو اس پر شبہ ہونے لگا تو وہ فرار ہو گیا۔ سی آئی اے انچارج سریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ “ملزم نے لوگوں سے تقریباً 100 کروڑ روپے کی ٹھگی کی ہے۔ 2018 سے ہی وہ فرار تھا۔ فرید آباد کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں اس کے خلاف تقریباً 30 معاملے درج ہیں۔”
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق کینڈی بابا عرف راجیش لاک ڈاؤن کی وجہ سے فرید آباد میں چھپا بیٹھا تھا اور اس نے اپنی شکل و شباہت بھی بدل رکھی تھی تاکہ پولس کی نظروں سے بچا رہے۔ پولس کو اس کے پاس سے ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے۔
(قومی آواز)
دنیا
مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے: ابراہیم عزیزی
تہران، ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن غیر ضروری مطالبات نہیں مانیں گے۔
ایک انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے کہا ملکی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایران کو جو بھی کرنا پڑا وہ کرے گا، امریکہ سے بات چیت کے لیے آخری حد کا تعین کر دیا ہے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا انحصار امریکہ کے مثبت اشاروں پر ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ سے مذاکرات کو میدان جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں، ان سے کامیابیاں ملتی ہیں تو مذاکرات متوقع ہیں، اگر یہ میدانِ جنگ کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے تو مذاکرات کا میدان بھی ہمارے لیے ایک موقع ہے، لیکن ایسا نہیں ہوگا اگر امریکی اپنے دباؤ پر مبنی رویے کے تحت اسے حد سے زیادہ مطالبات کا میدان بنانے کی کوشش کریں۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری پہلی شرط ہے، ماضی کی امریکی رویوں کی وجہ سے ایران میں گہری بے اعتمادی پہلے سے موجود ہے، امریکہ کا موجودہ رویہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں بلکہ ایران کو جھکانا چاہتا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی بھی کسی کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
ایرانی صدر نے ایکس پر لکھا امریکا پر تاریخی عدم اعتماد اب بھی برقرار ہے، وعدوں کا احترام بامعنی بات چیت کی بنیاد ہے، امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں، ان متضاد بیانات سے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
ماسکو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے بے مثال مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے پیر کو صحافی جان فریڈرکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ “وہ مذاکرات کریں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں، تو انہیں ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔”
امریکی صدر نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔
دریں اثناء ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران دھمکیوں کے دباؤ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
غور طلب ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران میں بعض اہداف پر حملے کرکے جنگ کا آغاز کیا تھا، جس سے کافی نقصان ہوا تھا اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ 7 اپریل کو امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔
اس کے بعد پاکستان کے شہر اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دوبارہ جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی۔ ثالث اب بات چیت کا ایک نیا دور شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
برطانیہ اور فرانس اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کر کے ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر رہے ہیں: روس
ماسکو، روس نے کہا ہے کہ برطانیہ اور فرانس اپنی جوہری صلاحیتوں کو بڑھا کر جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گرشکو نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کا نیا نظریاتی نقطہ نظر کئی طریقوں سے ایشیا پیسیفک کے علاقے میں امریکہ کی توسیع شدہ جوہری ڈیٹرنس پالیسی کی یاد دلاتا ہے اور وہ کھلے طور پر نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے مشترکہ ایٹمی مشنز میں حمعاون بننے کے منصوبوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
مسٹر گرشکو نے کہا، “اس طرح کے اقدامات نیٹو کے رکن ممالک کی اشتعال انگیز فوجی جوہری سرگرمیوں کے عمومی پیٹرن کے مطابق ہیں، جو ہمارے ملک کے خلاف ہیں۔” برطانیہ اس سے قبل بھی اپنی جوہری صلاحیتوں کو بڑھانے کا اعلان کیا تھا اور وہ بھی روس مخالف نعروں کے تحت۔ یہ بذات خود اسلحے کی دوڑ کو بڑھانے کا کام کرتا ہے، جو نہ صرف این پی ٹی کے اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ معاہدے کی براہ راست ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی حکام نے صورتحال کو اس طرح پیش کیا جیسے ان کا تازہ ترین “جوہری ڈیٹرنس” کا نظریہ فرانس اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو مضبوط کرے گا۔ اس نظریے میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے شفافیت کو ترک کرنا اور دیگر یورپی یونین اور نیٹو ممالک کے علاقوں میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے امکانات شامل تھے۔
مسٹر گرشکو نے کہا، “دراصل، وہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک اور دھچکا لگا رہے ہیں، جس سے اضافی اسٹریٹجک خطرات اور ایک جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے لیے ترغیبات پیدا کر رہے ہیں،” ۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا





































































































