اداریہ
کشمیر وادی کے معروف نوجوان صحافی مدثر اعلی اچانک انتقال کر گئے

کشمیر وادی کے معروف نوجوان صحافی اور انگریزی روز نامے ”گریٹر کشمیر“کے سینئر ایڈ یٹرمدثر اعلیٰ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔اس دورا ن وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے صحافی برداری کے ساتھ ساتھ سیاسی سماجی،ادبی اور سرکاری حلقوں نے دُکھ کا اظہارکر کے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم کی موت کو کشمیر ی صحافت کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چرار شریف سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کے سینئراور با صلاحیت صحافی مدثر علی جمعہ کے اچانک موت نے وادی کشمیر کے سیاسی و صحافتی اور ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مدثر نے گذشتہ رات دیر گئے سینے میں درد کی شکایت کی اور اسپتال پہنچانے سے قبل ہی انہوں نے آخری سانس لی۔اس دوران دوران جمعہ مدثر کے برادر جہانگیر علی نے اپنے بھائی کے انتقال کی اندوہناک خبر فیس بک پر دی۔مدثر کی اچانک موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس نے مدثر کے جاننے والے ایک وسیع حلقے کو سوگوار کیا۔مدثر فی الوقت جموں کشمیر کے موقر انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے ساتھ وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ مدثر کئی معروف ملکی و غیر ملکی صحافتی اداروں کیلئے بھی لکھتے تھے۔وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف قصبہ سے تعلق رکھنے والے مدثر کو صحافتی حلقوں میں رپورٹنگ کی علامت کے طور جانا جاتا تھا۔اس کے علاوہ مدثر ایک منجھے ہوئے تجزیہ نگاراور مدیر بھی تھے۔مدثر کے انتقال پرزندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور انجمنوں نے گہرے دکھ،غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ادھر جموں کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے مدثر اعلی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مدثر کی اچانک رحلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہامدثر علی کی اچانک موت کی خبر سن کر مجھے سخت صدمہ ہوا۔ صحافت میں ان کا مستقبل روشن تھا۔ ان کی جوان مرگی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اللہ انہیں جنت اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا’مدثر نے کئی بار میرا انٹریو لیا ہے اور میں نے پریس کانفرنسوں کے دوران کئی بار ان کے مشکل سوالات کو ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے رپورٹر تھے، وہ شائستہ تھے لیکن انہیں آسانی سے کبھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انہیں شدت سے یاد کیا جائے گا۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اظہار غم کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’مدثر علی کی اچانک رحلت کی خبر سن کر مجھے صدمہ ہوا۔ میں انہیں کئی برسوں سے جانتی تھیں، وہ ایک اچھے انسان تھے۔ مجھے ابھی بھی یقین ہی نہیں ہو رہا ہے۔ اللہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے مدثر اعلیٰ کے وفات کر دکھ کا اظہار کر کے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کی ہے ادھر سرینگر پریس کلب نے بھی مرحوم صحافی کے وفات پرگہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ناظم طلاعات جموں و کشمیر سید سحرش اصغرنے اپنے ایک ٹویٹ میں وادی کے سینئر صحافی مدثر علی کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گریٹر کشمیر سے وابستہ مدثر علی کی وفات کی خبر سن کر مجھے دکھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ مرحو م کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔اس دوران کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) میڈیا گرپ کے منیجنگ ڈائر ایکٹر محمد اسلم بٹ کی قیادت میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا ہے،جس دوران مدثر اعلی کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور مرحوم کے حق میں دعا مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کی ہے۔انہوں نے مدثر اعلیٰ کی موت کو صحافت کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ادھر کشمیر نیوز سروس کے چرار شریف دفتر پر ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا ہے جسمیں کے این ایس کے ابو نعیم اللہ، بریٹر کشمیر کے ارشید حسین، روزنامہ جنگ کے عادل سلام، منظور پکھر پوری، میر غضنفر سی این ایس، سجاد احمد فور ٹی وی، نوید احمد کے این او، عاشق حسین اے این آئی، شیر شیران، کرنٹ نیوز آف انڈیا، سلیم چراری اور صحافی برادری سے وابستہ دوسرے لوگوں نے شرکت کر کے مرحوم صحافی کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ اسمیں پر کشمیر نیوز سروس کے چیف ایڈیٹر جناب محمد اسلم بٹ صاحب کا تحریری تعزیت نامہ پڑھ کر سنایا گیا۔ نشست کے دوران مرحوم مدثر احمد کی بے وقت جدائی کو کشمیر کی صحافت کا خاص نقصان قرار دیکر مرحوم کے قلمی خدمات پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی اگرچہ تعزیتی نشست میں متاثر خاندان سے وابستہ آذاد علی موجود رہیے تاہم بعد میں قصبے کے سینئر صحافی علام قادر کی سربراہی میں ایک وفد تعزیت پرسی کیلئے مدثر احمد کے گھر واقعہ گلشن آباد گیا اور انکے لواحقین کو کشمیر نیوز سروس کی طرف سے تعزیت کا اظہار کر کے مرحوم کے جنت نشینی کے لئے دعا کی ہے۔ادھر انجمن اردو صحافت جموں و کشمیر کے صدر تمام عہدہ داران اور ممبران نے مدثر اعلی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مرحوم کے وفات پر سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت اور مرحوم کے حق میں دعا مغفرت کی ہے۔ادھر جنرلسٹ ایسوسی ایشن ترال کے اور کشمیر عظمی کے سید اعجاز نے مدثر اعلی کی اچانک وفات پر رنج و غم کا اظہار کر کے ان کے بلند درجات کے لئے دعا کی ہے۔اس دوران روزنامہ ایشن میل مدیر اعلیٰ رشید راہل نے مدثر علی کی وفات کو کشمیر صحافت کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے انہوں نے مرحوم کے لئے حق میں دعا مغفرت اور پسماند گان کی صبر کے لئے دعا کی ہے۔ادھر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے بھی مدثر علی کی وفات کو ایک بڑے نقصان سے تعبیر کیا ہے انہوں بہادر صحافی کے جنت نشینی کے لئے دعا ہے۔صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے نوجوان صحافی مدثر علی کے عہد جوانی میں فوت ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے سانحہ ارتحال پر مرحوم کے جملہ سوگوران خصوصاً والدین اور گریٹر کشمیر کے عملہ کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ انہوں نے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے گئے اور دعا کی کہ اللہ مرحوم کے والدین، لواحقین اور ساتھیوں کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مدثر علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مدثر نے کم عمری میں ہی صحافت کے میدان میں اپنا لوہا منوایا تھا اور اُن کی عہد جوانی میں موت سے صحافتی میدان میں ایک بڑا خلاء پید اہوگیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مدثر علی کے انتقال کی خبر سننا کسی صدمہ عظیم سے کم نہیں۔ صحافتی میدان میں ان کا ایک روشن مستقبل تھا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”مدثر علی نے کئی بار میرا انٹرویو لیا ہے اور میں نے متعدد بار اُن کے سخت سوالات سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ مدثر ایک پکے اورمنجھے ہوئے رپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شائستہ انسان تھے۔“ انہوں نے دعا کی کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے اور اُن کے لواحقین اور ساتھیوں کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنیکی توفیق عطا کرے۔پارٹی جنر ل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، صوبائی یوتھ صدر سلمان علی ساگر، ترجمان عمران نبی ڈار، معاون ترجمان سارا حیات شاہ اور ضلع صدر بڈگام عبدالاحد ڈار نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور اُن کی جنت نشینی کیلئے بھی دعا کی۔اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے معروف صحافی مدثر علی کی اچانک وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی پیغام میں بخاری نے مدثر کو پیشہ صحافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صحافی اقدار کے ساتھ کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ”مرحوم شریف النفس اور ملنسار تھا جس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی، اگر چہ نوجوان مگر ایک منجھاہوا صحافی تھا جوکہ اپنی نیوز سٹوریوں میں حیرت انگیز اور تحقیقی چیزیں سامنے لاتے تھے اور ہمارے انتظامی نظام میں پائی جارہی خامیوں کو بھی بھر پور اُجاگر کیا“۔ اپنی پارٹی نے سوگوار کنبہ، اُن کے رشتہ داروں، دوست واحباب کے علاوہ گریٹر کشمیرکے ادارتی عملہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جہاں وہ حال کام کرتے تھے۔ بخاری نے اللہ سے مرحوم کے لئے مغفرت اور لواحقین کویہ ناقابلِ تلافی نقصان بردداشت کرنے کی ہمت عطا کرنے کی دعا کی ہے۔
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت





































































































