تازہ ترین
آفاق اشرف وانی: دودھ گاہکوں کے بجائے ندی نالوں کی نذر کرنے والا ڈیری فارم مالک

سری نگر،4 فروری (یو این آئی) گاہکوں کو صاف و شفاف اور بغیر کسی قسم کی ملاوٹ کا دودھ فراہم کرنا میرے لئے انتہائی ضرر رساں ثابت ہوا اور حالات اس قدر سنگین ہوگئے کہ میں دودھ کو لوگوں تک پہنچانے کی بجائے ندی نالوں کی نذر کرنے پر مجبور ہوگیا۔
یہ باتیں وسطی ضلع گاندربل سے تعلق رکھنے والے آفاق اشرف وانی کی ہیں جن کا حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوگیا تھا جس میں انہیں کافی مقدار میں دودھ ضائع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
موصوف نوجوان نے روز گار حاصل کرنے کے لئے بینک سے قرضہ لے کر ‘وانی ڈیری فارم‘ قائم کیا ہے۔
انہوں نے اس واقعے کے متعلق یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ میرے فارم سے جو لوگ دودھ لیتے تھے وہ اس میں ملاوٹ کرکے اپنے گاہکوں کو فروخت کرتے تھے جس کی وجہ سے میرا فارم نہ صرف بد نام ہوگیا بلکہ کام بھی کم ہوا۔
انہوں نے کہا: ’میں اپنے فارم سے صاف و شفاف اور بالکل خالص دودھ ایجنٹوں کو دیتا تھا لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ بھی کم ہوگئی اور قیمت بھی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا فارم روزانہ تین سو لیٹرخالص دودھ مہیا کرتا ہے جب اس کی ڈیمانڈ کم ہونے لگی، قیمت گھٹنے لگی تو میں اس کو بیچنے کے بجائے ضائع کرنے پر مجبور ہوگیا جس سے مجھے زائد از ڈھائی لاکھ روپیوں کا نقصان اٹھانا پڑا‘۔
انہوں نے کہا: ’ایک طرف بینک قرضے کا بوجھ بھاری سے بھاری تر ہو رہا تھا دوسری طرف فارم کا خرچہ چلانا پڑتا تھا تو میں ایسا کرنے پر مجبور ہوگیا‘۔
موصوف فارم مالک نے کہا کہ میرے فارم کے ساتھ اور بھی کئی لوگ وابستہ ہیں جن کی روزی روٹی بھی اسی پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا: ’میں نے جموں وکشمیر بینک سے کافی قرضہ حاصل کرکے اپنا یونٹ قائم کیا ہے اور دن رات محنت و مشقت کرکے اس کو چلا رہا ہوں اب اگر یہ فائدہ کے بجائے نقصان دہ ہی ثابت ہوگا تو کوئی نہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر انسان مجبور ہوجاتا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’یہ کاروبار انتہائی پاک کاروبار ہے اس میں ایمانداری اور صاف و پاک ہونا ضروری ہے‘۔
آفاق اشرف نے کہا کہ اس کاروبار کو اختیار کرنے سے اپنی روزی روٹی کی سبیل بھی ہوتی ہے اور دوسروں کو بھی روز گار فراہم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب میں نے دوسرے ایجنٹوں کو دودھ دینے کی بجائے دودھ کو خود گاہکوں کی دہلیز تک پہنچانے کا فیصلہ لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’میں نے اس کے لئے بینک سے مزید قرضہ لیا اور اپنے فارم کے دودھ کی ہوم ڈیلیوری کو یقینی بنانے کے لئے لوڈ کیرئر خریدے ہیں تاکہ لوگوں تک خالص دودھ بھی پہنچے اور میرا فارم بھی ترقی کر سکے‘۔
موصوف نے کہا کہ جب میں نے تنگ آکر بہ بانگ دہل دودھ ضائع کیا تو اس کے بعد ضلع انتظامیہ کے عہدیدار میرے پاس آئے باقی کسی سماجی یا سیاسی لیڈر نے میرے مشکل کی طرف توجہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں تک خالص دودھ پہنچانے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ فارموں کے دودھ کو ہی بازاروں میں بیچنے کی اجازت دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ کو ہر ضلع میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والے کاروباریوں کے خلاف قانونی کارروائیاں ہونی چاہئے۔
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان آنے کا امکان
تہران، عرب ٹی وی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکہ ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ
سری نگر، ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز پہلگام کے ننون بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا، تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا سے قبل سیکیورٹی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔
جنوبی کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس مشق کا مقصد یاترا کے دوران ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف سیکیورٹی اور امدادی اداروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
موک ڈرل میں مختلف ہنگامی صورتحال کی نقل تیار کی گئی، جس کے ذریعے شریک اداروں نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور ردِعمل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی۔
اس مشق میں اننت ناگ پولیس، سی اے پی ایف، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ مشق کے دوران فوری کارروائی، مؤثر مواصلاتی نظام، انخلا کے طریقہ کار، ہجوم کے انتظام اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سینئر افسران نے مشق کی نگرانی کی اور شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر یاترا کے دوران تعینات تمام اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا7 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک





































































































