تجزیہ
صلاحیتوں کا ارتقاء

سہیل بشیر کار
صحیح مسلم میں رسول رحمت ﷺ نے ارشاد ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ‘‘ دینِ اسلام، جو جانور ذبح کرنے کے لیے بھی احسن طریقہ چاہتا ہے،کیسے ممکن ہے کہ وہ زندگی کے جملہ شعبہ جات کے بارے میں بہتری (احسان) نہ چاہے؟ہر کام میں بہتری اور نفاست کو پسند کیا جاتا ہے اور اسلام نے بھی اس بات کو پسند کیا ہے کہ مومن اپنے ہر کام میں ترقی کے اعلیٰ معیار کو پالے، چاہے وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معمولاتِ زندگی سے متعلق۔ اصل میں یہی احسان ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتاہے جس سے کہ نہ صرف وہ شخص خود فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ پوری انسانیت اس کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتی ہے۔ جس شخص میں احسان کی صفت پائی جاتی ہے، وہ بہر صورت اپنی صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر میں ہمیشہ رہتا ہے اور صلاحیتوں کے ارتقاء سے ہی متمدن قومیں اور تہذیبیں وجود پاتیں اور دوام حاصل کرتی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’’ صلاحیتوں کا ارتقاء‘‘ جناب انجینئر ایس امین الحسن کی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ فاضل مصنف اس میدان کے ماہر ہیں۔ انجینئر ایس امین الحسن نے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد سائیکالوجی میں ماسٹرس کیا ہے۔ آپNLP Trainer ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ اکیڈمک کیریئر کے ساتھ ساتھ آپ عملی میدان سے وابستہ ہیں۔
مشہور و معروف عالمِ دین اور فقیہ ڈکٹر محمد رضی الاسلام ندوی اس کتاب کے بارے میں رقم طراز ہیں :’’اس کتاب کی حیثیت ایک گائیڈ بک کی ہے، جو قاری کو صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر کرنے کے لیے نہ صرف بے چین کردیتی ہے، بلکہ اس کے لیے عملی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک فرد کیسے اپنی صلاحیتوں کا ارتقاء کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود ہی دیکھے کہ اس کے اندر کون سی صلاحیت رکھی گئی ہے۔‘‘
کتاب کو7 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پیش لفظ میں درج ہے:’’صلاحیتوں کے ارتقاء کے ضمن میں پہلا کام بنیادی طور پر ہر فرد کے ذہن میں یہ بات پیوست کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر صلاحیتوں کا خمیر رکھا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوتا جو بالکل ہی بے صلاحیت ہو۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے اندر کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے، انھیں بروئے کارلائے اور انھیں تعمیر وترقی کے کام میں لگائے۔ دنیا میں انسانوں کو ایک دوسرے پر جو فضیلت حاصل ہے وہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ہے۔ اسی کی بنیاد پر کاروبار دنیا کا انتظام چل رہا ہے۔ کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنیٰ ہے تو اس کی بنیاد پر معاشی زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔‘‘(ص 7)
فاضل مصنف صلاحیتوں کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ جو جتنی صلاحیت رکھتا ہے، دنیا میں آمدنی کے وسائل و ذرائع اس کے لیے اتنے ہی آسان ہوتے ہیں اور سماجی زندگی میں ترقی کے زینے طے کرنا آسان ہوتا ہے۔ سماج میں جو نظریاتی کش مکش ہوتی ہے، اس میں بھی صلاحیتوں ہی کی مسابقت ہوتی ہے۔ آج امریکا اگر اقوام کی امامت کرتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ دنیا بھر سے صلاحیتوں کو اس نے جمع کیا اور ان کے اظہار کے مواقع فراہم کیے۔ دنیا میں عروج، برتری اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو چار چاند لگائے۔ امت مسلمہ کا بھی جب چہار عالم میں ڈنکا بجتا تھا، اس وقت ان کی صفوں میں بڑے بڑے مفکر، دانش ور، سائنس دان، تاجر، دنیا کو کھنگالنے والے جنگی مہارت رکھنے والے اور علوم کی دنیا میں جاہلیت کو دعوت مبارزت دینے والے پائے جاتے تھے۔ آج امت کے زوال کے اسباب میں یہ بات مسلم ہے کہ تعلیم، مہارت اور ذہانت کے میدان میں وہ بہت پیچھے ہوگئی۔ اس کی نشاۃ ثانیہ کی راہ یہ بتائی جاتی ہے کہ علوم پر اس کا دست رس پھر سے بحال ہو۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ذہانت کے خلاف کہیں تعصب نہیں ہوتا۔ آج بھی صلاحیتوں کی قدر ہر جگہ ہوتی ہے۔‘‘(ص 8) لہٰذا ہر سطح پر صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں :’’ صلاحیتوں کی نشو و نما تحریک کے ایک کارکن سے لے کر ہر سطح کے قائدین کی ضرورت ہے، جس پر فرد اگر توجہ دینے لگے تو مجموعی طور پر تحریک صلاحیتوں کے میدان میں کافی آگے بڑھ سکتی ہے۔‘‘(ص 5)
پیش لفظ ہی میں مصنف ان چار باتوں کا ذکر کرتے ہیں، جو صلاحیتوں کے ارتقاء کے لیے ضروری ہیں : پہلی بات ہر فرد کو جاننا ضروری ہے کہ تربیت کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپنی ہمہ جہت تربیت کا سامان خود کرنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرد جس بھی سطح کا ہو ہمارے لیے سرمایہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے جو جس چیز میں ماہر ہے، اس سے بلا لحاظ مذہب و ملت استفادہ کرنا ہے، معاشرہ میں صلاحیتوں کے فروغ کے لیے جس طرح کی بھی کوشش ہو رہی ہوں ہمیں چاہیے کہ ان کوششوں میں ہم شامل ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ہمیں انتہائی محنت اور جنون پیدا کرنا ہوگا۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں :’’کچھ بننے سنور نے اور کچھ صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے کے لیے اندر سے ایک آگ چاہیے، جس کی گرمی اور حرارت ہمیں متحرک اور سرگرم کر دے۔ جن کی زندگیوں میں یہ آگ سرد پڑجائے، وہ راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ تنظیمی زندگی کے نتیجے میں ہمارے اندر کی وہ چنگاری کبھی ٹھنڈی ہونے نہیں پاتی۔ اگر کہیں ایسا ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ پھر سے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیا جائے۔ اندر کی وہ آگ جلتی رہے تو یہ بات یقینی ہے کہ ہم خود ہی متحرک رہیں گے اور اپنے لیے خود مہمیز کا کام کریں گے۔ اور اس آگ سے ہم خود اپنی ایک نئی شخصیت ڈھالیں گے اور سماج کو کوئی نئی چیز دے سکیں گے، انشاء اللہ۔ ہمارا اجتماعی ماحول کسی کے اندر کی آگ کو سرد ہونے نہیں دے گا بلکہ ایک دوسرے کے لیے مہمیز کا کام کرے گا۔‘‘(ص 12)
فاضل مصنف حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قاری کی امنگ پیدا کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں : ’’ایک آگ موسی علیہ السّلام کو دور سے دکھائی دی اور وہ اس کے قریب گئے، تا کہ وہ یا تو سردی میں گرمی کا سامان فراہم کر سکیں یا آگے کا راستہ معلوم کر سکیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو موسوی مشن کے علم بردار ہوتے ہیں خود ان کے سینے کے اندر ایک آگ ہوتی ہے، جس سے وہ اپنے لیے گرمی اور حرارت بھی پاسکتے ہیں اور آگے کا راستہ بھی روشن کر سکتے ہیں۔ ‘‘(ص 12)
برادر ایس امین الحسن چوں کہ موٹیویشنل اسپیکر بھی ہیں، لہٰذا وہ اپنی بات بہترین طریقے سے رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کتاب کے پہلے باب’’ صلاحیتوں کا فروغ۔ضرورت اور حکمت عملی‘‘کے آغاز میں بہت ہی اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں آدمی کا وزن اور اعتبار اس کی صلاحیتوں کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور اپ گریڈ کرنا عقل مندوں اور دنیا میں کچھ کر گزرنے کا شیوہ ہوتا ہے۔‘‘(ص 15) اس باب میں مصنف سمجھاتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کام موجودہ دور ہی میں اہم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں پیغمبروں کے تذکرہ میں کہا گیا ہے کہ ان کے ہاں بھی اونچے معیار کو پالینے کا تصور تھا۔ وہ لکھتے ہیں :’’ قرآن مجید میں جا بجا انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں کسی جگہ ان کی دعوت نمایاں ہے تو کسی جگہ ان کی گھریلو زندگی کے کچھ پہلو سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالی سے جو دعائیں کیں، قرآن نے انھیں بھی ابھار کر پیش کیا ہے‘‘ (ص 15)
فاضل مصنف قرآن مجید سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور اپنے لیکچرز میں قرآن کریم کے اہم رموز کو بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں بھی اس کے خوبصورت اشارے ملتے ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :’’ دل چسپ بات جس کی طرف لوگوں کا ذہن کم جا تا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن نے ان کی مخصوص صلاحیت کا ذکر کیا ہے، جو ان کی شناخت کا حصہ ہے۔ یعنی رہتی دنیا تک وہ اس صلاحیت کے حوالے سے بانی وموجد کی حیثیت سے جانے جاتے رہیں گے۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام بحیثیت کشتی ساز، حضرت ابراہیم علیہ السلام عالمی دعوت کا نقشۂ کار بنانے والے، حضرت داؤد علیہ السلام زرہ ساز، حضرت یوسف علیہ السلام بحیثیت ماہر پلاننگ اور مینجمنٹ وغیرہ۔‘‘(ص 16)
صلاحیتوں کے فروغ کی اہمیت کے حوالے سے وہ قاری کو دورِ رسالت میں لے جاتے ہیں۔ لکھتے ہیں : ’’صحابہ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ اورحضرت عمر ؓ رائے اور مشورے کے لوگ تھے۔ نبی اسلام ان سے قبائلی سیاست، جنگی اسٹریٹجی، جنگ میں استعمال ہونے والے نئے اوزار اور ہتھیار کے سلسلے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ اورحضرت خالد بن ولید ؓ میدان جنگ کے ماہرین تھے۔ ان سے جنگی مہمات کی قیادت کا کام لیا کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ اسلام کے اول مفتی اور قاضی تھے، سرور کونینﷺنے اپنی نگرانی میں انھیں مقدمات کے فیصلے کی ٹرینگ دی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اورحضرت ابی بن کعب ؓ قرآن کے پہلے مفسرین تھے۔ آپ نے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ ان حضرات سے قرآن سیکھا کریں۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ بہترین کمیونی کیشن کے آدمی تھے، ان سے ڈپلومیسی کا کام آپ نے لیا۔‘‘(ص16) آگے اس باب میں متنوع صلاحیتوں کی اہمیت، صلاحیتوں کے فروغ کے لیے حکمتِ عملی پر قیمتی نکات بیان کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ صلاحیتیں خود بہ خود پیدا نہیں ہوتیں، اس کے لیے محنت کرنا لازمی بھی ہے اور مستقل کام بھی۔
دوسرے باب میں مصنف نے سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں اہم بحث کی ہے،وہ لکھتے ہیں :’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں نبیﷺکا فارمولا کچھ اس طرح سے تھا، جس کا ذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے کہ Buy, Build and Borrowیعنی صلاحیتوں کو نشوونما دینا، سماج کے باصلاحیت افراد کو متاثر کرنا اور بعض مخصوص صلاحیتوں سے بہ وقت ضرورت استفادہ کرنا۔ ‘‘(ص 29)
صحیح بخاری کی وہ حدیث جس میں کہا گیا کہ’’ لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے (کسی میں اچھا مال نکلتا ہے کسی میں برا) سے دو اہم نکات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’انسانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اعلی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ دائرۂ اسلام میں ہیں یا اس سے باہر ہیں۔ صرف صلاحیتیں انسانیت کے لیے مفید نہیں ہوتیں، اگر وہ ایمان اور تقوی سے عاری ہوں۔ سب سے زیادہ اچھے انسان وہ ہیں جن میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہو۔‘‘ (ص 30) اسی طرح وہ حدیث مبارکہ جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جو انوں میں سے جو جاہلیت میں سب سے بہتر تھے، اسلام میں بھی بہتر رہیں گے‘‘کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے ضمن میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اپنی ہی صفوں میں جو مخلص کارکنان جو ہمہ دم دین کے ہر کام کی انجام دہی کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنی زندگی اسی کاز کے لیے وقف کر دینے کا تہیہ کیے ہوئے تحریک میں شامل ہوتے ہیں، ان پر پہلی توجہ دی جائے۔ ان کا تزکیہ ہو، ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں، ان کی شخصیت سازی ہو اور وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانیں تا کہ انھیں درجۂ کمال تک پہنچاسکیں۔ اسی کا نام تزکیہ ہے۔‘‘(ص 32) یہاں مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے اور ساتھ ہی واقعۂ ہجرت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے غیر مسلم بدو، عبد اللہ بن اریقط کی خدمات حاصل کیں، تاکہ وہ غیر معروف راستے سے یثرب کی طرف لے جائیں۔ روانگی کے لیے مقررہ وقت پر ابن اریقط اونٹوں کے ساتھ غار میں ان سے ملنے آیا، اور وہ سیدھے شمال کی سمت میں یثرب کی طرف جانے کے بجائے جنوب مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ بہت ہی پر خطر سفر تھا۔ اور دوسری طرف قریش انھیں گرفتار کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے تھے۔ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی نے خود کو خدا کے سپرد کر دیا تھا، تاہم انھوں نے راستہ بتانے والے کی مدد حاصل کرنے میں دریغ نہیں کیا، وہ شخص دشمنوں کا ہم مذہب یعنی مشرک تھا، لیکن وہ اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ قابل اعتماد بھی ہے اور راستوں کا غیر معمولی جان کار بھی ہے۔ اس لیے اس پر اعتمادکیا اور راستہ بتانے والے کی حیثیت سے اس کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا۔ آپ ؐ صلاحیتوں کی قدر کرتے تھے اور ان سے تحریک کے لیے خدمات حاصل کرنے میں دریغ نہیں کرتے تھے۔‘‘(ص 36)
تیسرے باب میں مصنف نے سیرت نبویؐ کی روشنی میں بتایا ہے کہ آپ نے اس دور میں کس طرح صلاحیتوں کی نشوونما کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے دس صلاحیتوں کے تحت نشونما کا تذکرہ کیا ہے۔ مقررین کی نشونما کے تحت وہ حضرت جعفر بن طیار کے نجاشی کے دربار میں تقریر کے تحت لکھتے ہیں :’’حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے دربار میں جس شان دار انداز سے تقریر کی، انھیں آج ہم پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دربار نجاشی میں اس کی کیا گونج رہی ہوگی اور سامعین کے حواس پر کیا اثرات مرتب کی ہوگی۔ ‘‘ (ص 47)
انجینئر ایس امین الحسن نے کتاب میں سیرت النبیﷺکو سمجھنے کے لیے نئے اہم زاویے بیان کیے ہیں۔ کاش ہمارے معاشرہ میں سیرت کے ان عملی پہلوؤں سے عوام الناس کو روشناس کیا جاتا۔ کتاب کے چوتھے باب میں مصنف نے تحریک اسلامی کی چار خصوصیات کی تفصیل بیان کی ہے۔ فاضل مصنف نے آج کے حالات میں کون سی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہیے؟اس سوال کے تحت چار اہم صلاحیتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، جن کی امت مسلمہ کو سخت ضرورت ہے۔
دنیا کی آدھی آبادی صلاحیتوں کے ارتقاء سے محروم ہے۔ ظاہر ہے اس کا متحمل کوئی بھی معاشرہ نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ رسول رحمت ﷺ نے خواتین کی صلاحیتوں کے ارتقاء پر خصوصی توجہ دی۔ اس معاشرہ میں خواتین چلتی پھرتی نظر آتی تھیں، مگر دھیرے دھیرے مسلم خواتین معاشرہ کی تعمیر میں وہ رول ادا نہ کر سکیں، جو ان سے مطلوب تھا۔
فاضل مصنف نے پانچویں اور چھٹے باب میں خواتین کے حوالے سے صلاحیتوں کے ارتقاء پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ پانچویں باب میں مصنف نے نسوانی صلاحیتوں، ازدواجی زندگی کا استحکام، تعلقات کا فن اور پرورش کے فن اور کمیونکیشن کے فن پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ چھٹے باب میں مسلم خواتین کا مطلوبہ کردار اور مطلوب صلاحیتیں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں مصنف نے کئی خواتین، جو عملی میدان میں سرگرم ہیں اور معاشرہ کی تعمیر میں جن کا رول ہے، کی مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں : ’’شاہدہ البغدادی دسویں صدی کی عراق کی ایک معروف اسلامی اسکالر ہیں۔ فاطمہ سمرقندی بارہویں صدی کی اسلامی اسکالرتھیں۔ اس طرح اور بے شمار خواتین ہیں، جن کا نام تاریخ میں ملتا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں اور مساجد میں بھی علوم اسلامیہ اور اس زمانے کی جدید سائنس پر لیکچر دیا کرتی تھیں، جن سے استفادہ کرنے والوں میں مردوخواتین دونوں شامل ہیں۔ ‘‘(ص 85)
کتاب کے آخری باب میں مصنف نے امت مسلمہ کے قائدین اور کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ قائدین اس وقت سب سے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں، جب وہ خود سیکھ رہے ہوتے ہیں اور کیڈر سے بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ‘‘ (ص 86)
مصنف نے سیکھنے کے مراحل کی خمیدہ لکیر(learning curves) کے تحت، علم کا علم، لا علمی کا علم، علم کی لاعلمی اور لاعلمی کی لاعلمی کے تحت اہم نکات واضح کیے ہیں۔ اس باب میں مصنف بار بار یہ سمجھاتے ہیں کہ انسان چاہے کسی بھی لیول کا ہو اس کو سیکھنا لازمی ہے۔ کبھی بھی کسی فرد کو یہ سمجھنا نہیں چاہیے کہ وہ کسی فیلڈ میں ماہر ہوگیا ہے۔اب اس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بھی مصنف نے قصہ موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے قرآنی واقعہ سے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :’’یہ اصول آپ کی زندگی میں کہیں بھی قابل اعتبار اور مکمل طور پر لاگو ہے، بند اور سخت رہنے سے آپ جہاں ہیں وہیں رہیں گے، جب کہ نئی تعلیم اور تبدیلی کھلا پن یقینی طور پر بہتر نشوونما اور صحت مند تبدیلی کے لئے ایک انتہائی ضروری پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور ترقی کی راہوں پر آپ گام زن ہوں گے۔‘‘(ص 96) مصنف نے جہاں جاہلیت پر تنقید کی ہے وہی امت مسلمہ میں رائج کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’ صرف مغربی تعلیم کو دوش دینا نا انصافی ہوگی۔ دینی تعلیم کے نام پر دین کا جو سطحی علم رائج کیا گیا اس کا بھی یہ نقصان ہوا کہ شادی کے دوسرے ہی دن سے حقوق وفرائض کی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے۔ جب کہ ازدواجی زندگی کی خوشیاں حقوق وفرائض کے خانوں میں تقسیم نہیں ہوتیں، بلکہ اخلاق اور احسان کی شیرینی سے حاصل ہوتی ہیں۔ وہ گھر جہنم نما ہے، جہاں صبح شام تُو تو میں میں ہوتی ہو اور جوتیوں میں دال بٹتی ہو۔ عورت کو اپنے Resourcefulness کی پہلی صلاحیت سے واقفیت ہونی چاہیے۔ ازدواجی زندگی کے استحکام میں اسے جو کردار ادا کرنا چاہیے وہ معلوم ہو۔‘‘(ص 65)
مصنف نے 96 صفحات کی اس مختصر سی کتاب میں بہت سارے قیمتی مباحث کو خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔اس کتاب کو صرف ایک بار پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ر بار بار استفادہ کرنا ہوگا۔
کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت ہے۔ مشہور و معروف ادارہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزدہلی نے شاندار گیٹ اپ پر طبع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔ یہ کتاب اس نمبر: 7290092403 سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
تجزیہ
ہندوستان موسمیاتی بحران کی زد میں: ایک جانب سیلاب، دوسری جانب جان لیوا گرمی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ‘کلائمیٹ وِپ لیش’ یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔
ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔
مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔
2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔
کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔
شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔
شدید گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ، کسان اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گرمی کی لہروں کے دوران بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ سسٹمز کے استعمال سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔
ماضی میں موسم نسبتاً قابلِ پیش گوئی تھا۔ گرمی کے بعد بارش آتی تھی اور بارش کا ایک متعین دورانیہ ہوتا تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ کہیں بارش حد سے زیادہ ہے، کہیں بالکل نہیں۔ کہیں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہے، تو کہیں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج کر رہی ہیں۔
یہ تبدیلیاں عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو شدید بارشوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار گرمی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔
ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں شدید بارش کے دوران سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں آبی گزرگاہوں، نالوں اور قدرتی ذخائر کو نظر انداز کرنے کے باعث بارش کا پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی لہروں کے دوران شہروں میں ‘ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ’ پیدا ہوتا ہے، جہاں کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت مزید بڑھا دیتے ہیں۔
موسمیاتی شدت کے صحت پر اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ گرمی کی لہروں سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب اور بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بچوں، بزرگوں اور کمزور معاشی طبقوں کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہوگی۔
سیلاب، گرمی اور موسمیاتی بے ترتیبی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ فصلوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں کمی ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
موجودہ صورتحال حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
آبی ذخائر کا بہتر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی مزاحم فصلوں کی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔
2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی علاقوں میں سیلاب اور شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسم کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔
اگرچہ ہندوستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن آبادی، زراعت اور معیشت کے اعتبار سے ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ماہرین، صنعت اور عوام مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی کم کر سکیں۔
موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
موسمیاتی تبدیلی او ر ہندوستانی زراعت کا نیا ماڈل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی استحکام، غذائی تحفظ، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اگرچہ صنعتی ترقی، شہری توسیع اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے معیشت کی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم زراعت آج بھی ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا تصور زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ صدی میں ہندوستانی زراعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی زرعی طریقے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور غیر متوقع موسمی حالات جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب زراعت کا انحصار موسمی اندازوں، مقامی تجربات اور روایتی مہارتوں پر تھا، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب اور مٹی کی مسلسل خرابی نے زرعی پیداوار کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صرف زرعی قرضے، منڈی تک رسائی یا سپلائی چین کی بہتری کافی نہیں رہی بلکہ اب ایک نئے زرعی وژن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری اور آب و ہوا سے مطابقت بنیادی ستون ہوں۔
اسی تناظر میں ہندوستان کے ایگری ٹیک (Agri Tech) ایکو سسٹم کے اندر“کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر”یعنی آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت اور“سسٹین ایبل فارمنگ”یعنی پائیدار کاشتکاری سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سرمایہ کار، حکومتیں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی ادارے اور ترقیاتی تنظیمیں اس بات کو سمجھنے لگی ہیں کہ مستقبل کی زراعت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ زیادہ پائیدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظام پر مبنی ہوگی۔
ہندوستانی زراعت اس وقت ایک پیچیدہ بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات ہیں اور دوسری طرف قدرتی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً چار فیصد میٹھے پانی پر ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ مٹی کی نامیاتی ساخت میں کمی، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور بدلتے موسمی پیٹرن نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
زرعی زمینیں مسلسل نامیاتی مادے سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال نے اگرچہ وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن طویل مدت میں اس نے مٹی کی صحت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں کسان زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔
اسی دوران مون سون کی روایتی ترتیب بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلے بارش کا ایک متوازن نظام موجود تھا، لیکن اب یا تو بارش تاخیر سے آتی ہے، یا بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، یا چند دنوں میں انتہائی شدت سے برس کر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی نے کسانوں کی منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فصلوں کے وقت بیجوں کے انتخاب، پانی کی دستیابی اور زرعی لاگت سب غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک معاشی اور سماجی حقیقت بن چکی ہے۔ شدید موسمی واقعات میں اضافے نے زراعت کے استحکام کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، ژالہ باری، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
غیر مستحکم زرعی آمدنی کا مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی پالیسی مباحث میں قیمت اور آمدنی کی ضمانت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر کھیتوں کی آمدنی میں درمیانی مدت میں 15 سے 25 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت دونوں خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی بحران ہے۔ اگر آبادی بڑھتی رہے، پانی کم ہوتا جائے، زمین کی صحت گرتی رہے اور موسم غیر یقینی ہو جائے تو روایتی زراعت کے ذریعے اس مساوات کو حل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایگری ٹیک سرمایہ کاری اور پائیدار زراعت ایک نئی امید کے طور پر سامنے آتی ہے۔
ایگری ٹیک ایکو سسٹم دراصل زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حل اور سائنسی جدت کے امتزاج کا نام ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز، ڈرونز، موسمی پیش گوئی کے نظام، سیٹلائٹ امیجنگ، آبی انتظام، اسمارٹ آبپاشی، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
پہلے ایگری ٹیک سرمایہ کاری کا زور بنیادی طور پر منڈی تک رسائی، سپلائی چین، زرعی قرضوں اور لاجسٹکس پر تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کی توجہ ان حلوں پر منتقل ہو رہی ہے جو موسمیاتی خطرات کو کم کر سکیں۔ یعنی ایسے نظام جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، مٹی کی صحت بہتر بنائیں، کاربن اخراج کم کریں اور کسانوں کو موسمی جھٹکوں کے خلاف زیادہ مضبوط بنائیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب زراعت کو محض ایک کاروباری موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجودی مسئلے کے حل کے میدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کا بنیادی مقصد ایسے زرعی نظام پیدا کرنا ہے جو موسمی جھٹکوں کو برداشت کر سکیں، کم وسائل میں مؤثر پیداوار دیں اور ماحولیات پر منفی اثرات کو کم کریں۔
اس تصور میں فصلوں کی تنوع، پانی کا مؤثر استعمال، موسمی پیش گوئی پر مبنی کاشتکاری، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، مٹی کی بحالی، نامیاتی مواد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ سازی شامل ہے۔
مثلاً اگر کسی علاقے میں بارش غیر یقینی ہے تو وہاں ڈرپ ایریگیشن، مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہو تو ایسی اقسام متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ پائیدار زراعت اب محض ماحولیاتی کارکنوں کا نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔پائیدار کاشتکاری کا مقصد قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے طویل مدت تک زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں مٹی کی صحت، پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور کم کیمیائی استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔
روایتی زرعی ماڈل نے زیادہ پیداوار تو دی، لیکن اس کی قیمت زمین اور پانی نے ادا کی۔ زیر زمین پانی تیزی سے کم ہوا، مٹی میں نامیاتی مادہ گھٹا اور کیمیائی آلودگی بڑھی۔ اگر یہی ماڈل جاری رہا تو آنے والے عشروں میں زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔پائیدار کاشتکاری اس بحران کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس میں فصلوں کی گردش، نامیاتی کھاد، مربوط غذائی انتظام، بائیولوجیکل کیڑوں کا کنٹرول اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔
سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑی اقتصادی تبدیلی بھی ہے۔ وہ کمپنیاں جو پانی بچانے، مٹی بہتر بنانے، موسمی پیش گوئی، ڈیجیٹل زراعت، کاربن کریڈٹ اور زرعی رسک مینجمنٹ کے حل فراہم کر رہی ہیں، مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ایسے ماڈلز پیش کر رہے ہیں جو کسانوں کو درست وقت پر معلومات، بہتر بیج، مؤثر آبپاشی اور بیماریوں کی پیشگی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا7 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
ہندوستان3 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا5 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا5 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا7 days agoوزیراعظم مودی میرے اچھے دوست، ہندوستان کے ساتھ جلد ہوگا تجارتی معاہدہ:ٹرمپ



































































































