تازہ ترین
جی 20 کی صدارت سنبھالنا ملک کے لیے ایک اہم لمحہ : مودی

نئی دہلی، 14 نومبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی سال 2022,23 کے لیے انڈونیشیا کے بالی میں منعقد ہونے والے جی ,20 سربراہی اجلاس میں خوراک اور توانائی کی حفاظت، صحت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے موضوعات پر ہندوستان کی کامیابیوں کو عالمی رہنماؤں کے ساتھ شیئر کریں گے ہندوستان کی طرف سے اس بااثر عالمی تنظیم کی صدارت سنبھالے گا اور اگلے سال جی-20 لیڈروں کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دے گا۔
دنیا کے 20 اقتصادی طور پر طاقتور ممالک کے 17ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بالی روانہ ہونے سے پہلے اپنے بیان میں، مسٹر مودی نے کہا، ‘بالی چوٹی کانفرنس کے دوران، میں عالمی ترقی، خوراک کی بحالی پر توجہ مرکوز کروں گا اور دیگر جی-20 کے ساتھ وسیع بات چیت کروں گا۔ توانائی کی حفاظت، ماحولیات، صحت اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے عالمی تشویش کے اہم مسائل پر رہنما۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جی-20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر وہ چوٹی کانفرنس میں آنے والے کئی دوسرے ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور ان کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو، ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پیریز کاسٹاجون اور سنگاپور کے وزیر اعظم لی ہسین کے ساتھ مسٹر مودی کی دو طرفہ ملاقاتوں کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ کووڈ کے بعد کی وبائی بیماری میں ‘ایک ساتھ مل کر بازیافت کریں، مضبوط ہو جائیں’ کے تھیم پر منعقد ہونے والی اس سمٹ میں ‘فوڈ اینڈ انرجی سیکیورٹی’، ‘صحت’ اور ‘ڈیجیٹل ریفلیکشن’ کے موضوعات پر تین سیشن ہوں گے۔
مسٹر مودی 15 نومبر کو بالی میں ایک استقبالیہ میں مقامی ہندوستانی برادری سے خطاب کریں گے۔ G-20 کی صدارت سنبھالنے کو ملکی تاریخ میں ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ہمارے ملک اور شہریوں کے لیے ایک اہم لمحہ کے طور پر، بالی سربراہی اجلاس کی اختتامی تقریب میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے G-20 کی سربراہی میں ہندوستان کا خیرمقدم کیا۔ -20 کی چیئرمین شپ سونپیں گے۔ ہندوستان 01 دسمبر 2022 سے سرکاری طور پر G-20 کی صدارت سنبھالے گا۔ میں اگلے سال جی 20 سربراہی اجلاس میں جی 20 ممبران اور دیگر مدعو کرنے والوں کو بھی اپنی ذاتی دعوت دوں گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ G-20 سربراہی اجلاس میں اپنی بات چیت کے دوران وہ ہندوستان کی کامیابیوں اور عالمی چیلنجوں سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے ہماری غیر متزلزل عزم کو اجاگر کریں گے۔ ہندوستان کی G-20 چیئرمین شپ “واسودھائیوا کٹمبکم” یا “ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل” کے موضوع پر مبنی ہوگی، جو سب کے لیے مساوی ترقی اور مشترکہ مستقبل کے پیغام کو اجاگر کرتی ہے۔
جموں و کشمیر
تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم
سری نگر، کشمیر کے کئی علاقوں میں ہفتہ کے روز تازہ بارش ہوئی جس کے باعث پورے خطے میں درجۂ حرارت میں کمی آئی اور جون کے مہینے میں بھی موسم بہار جیسا خوشگوار محسوس ہونے لگا۔
محکمۂ موسمیات، سری نگر کے مطابق کشمیر ڈویژن کے بیشتر مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں درجۂ حرارت 17 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 6.7 ڈگری سیلسیس کم ہے، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں درجۂ حرارت 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط سے 2.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
بارش کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں رات کا درجۂ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ وادی میں سب سے کم درجۂ حرارت گلمرگ میں 9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر بارش ہوئی، جن میں پہلگام میں 13 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 1.3 ملی میٹر اور گلمرگ میں 1.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو روز تک بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی چل سکتی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کا موسم جون کے وسط جیسا نہیں بلکہ اپریل کے آغاز جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’آج سری نگر کا موسم جون کے وسط کے بجائے اپریل کے ابتدائی دنوں جیسا لگ رہا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو گلمرگ اور پہلگام جیسے مقامات پر یقیناً کافی سردی ہوگی۔‘‘
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی





































































































