جموں و کشمیر
بارہ مولہ میں ملی ٹینٹ معاون گرینیڈ سمیت گرفتار :پولیس

سری نگر، شمالی ضلع بارہ مولہ کے پٹن علاقے میں سیکورٹی فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ ملی ٹینٹ معاون کی گرفتاری عمل میں لا کر اس کے قبضے سے گرینیڈ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بارہ مولہ کے پٹن علاقے میں ملی ٹینٹوں کی نقل وحرکت کی اطلاع ملنے کے بعد بارہ مولہ پولیس،2بٹالین ایس ایس اور 29آر آر نے چنار کراسنگ پٹن کے نزدیک ناکہ لگایاجس دوران ایک نوجوان نے سیکورٹی فورسز کو دیکھتے ہی راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی تاہم سلامتی عملے نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نوجوان کو دھر دبوچا۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوان کی شناخت معراج الدین بٹ ولد منظور احمد بٹ ساکن منڈیاری پٹن کے بطور ہوئی ہے۔
موصوف ترجمان کے مطابق جامہ تلاشی کے دوران ملی ٹینٹ معاون کے قبضے سے ایک ہینڈ گرینیڈ برآمد کرکے ضبط کیا گیا ۔
دریں اثنا پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جے اینڈ کے ایل جی نے مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے دورے کے دوران اس تاریخی ورثہ کمپلیکس کے تحفظ اور ترقی سے متعلق جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر جموں مشرق کے رکن اسمبلی یدھویر سیٹھی، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، پرنسپل سیکریٹری ثقافت برج موہن شرما، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو، ڈپٹی کمشنر جموں راکیش منہاس، ایس ایس پی جموں جوگیندر سنگھ، مبارک منڈی جموں ہیریٹیج سوسائٹی (ایم ایم جے ایچ ایس) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دیپیکا شرما اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس سے متصل تاریخی گدادھر مندر کی متاثرہ دیوار اور سلیب کی بحالی کے جاری کاموں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کام کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بحالی کے عمل میں تیزی لائی جائے۔
جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے لیفٹیننٹ گورنر کو مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس میں ریمپ پر مبنی کثیر منزلہ کار پارکنگ سہولت کی تعمیر کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
بعد ازاں لیفٹیننٹ گورنر نے نئے قائم کردہ لائبریری و کیفے ٹیریا کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایم ایم جے ایچ ایس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مبارک منڈی جموں ہیریٹیج کمپلیکس کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے باقی ماندہ کاموں کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
ان منصوبوں میں دربار ہال کا تحفظ، راجا رام سنگھ محل کا تحفظ، راجا امر سنگھ محل کا تحفظ، ڈوگرا آرٹ میوزیم کا تحفظ اور دیگر اہم کام شامل ہیں، جن کے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
تازہ ترین
بارہمولہ میں مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں کے الزام میں خاتون پر پی ایس اے نافذ
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خاتون کو مبینہ غیر قانونی اور قوم مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سخت عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق بارہمولہ پولیس نے بارہمولہ کے شیری علاقے کی رہائشی حسینہ بیگم کے خلاف پی ایس اے کے تحت نظر بندی وارنٹ پر عمل درآمد کیا ہے۔ پی ایس اے ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت حکام عوامی نظم و نسق یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کے خلاف مختلف اضلاع میں درج متعدد مجرمانہ مقدمات میں مبینہ شمولیت کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے خاتون کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں اسے ضلع جیل بھدرواہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون غیر قانونی اور مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں سے متعلق کئی مقدمات میں شامل رہی ہے، تاہم اس کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
بارہمولہ پولیس نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے اور سلامتی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف آئندہ بھی اسی نوعیت کی سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا2 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا5 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
جموں و کشمیر1 week agoمنوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل






































































































