دنیا
امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے عباس عراقچی جنیوا روانہ
قاہرہ، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہو گئے ہیں۔ تاہم، معاہدے کی شرائط پر تاحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آ رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عباس عراقچی منگل کے روز ہونے والے مذاکرات میں ’سفارتی اور ماہرین‘ کے وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دوران سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کیسس، عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سمیت دیگر حکام سے ان کی ملاقات متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کریں گے۔ یہ ملاقات 6 فروری کو مسقط (عمان) میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے بعد ہو رہی ہے، جسے فریقین نے ’اچھی شروعات‘ قرار دیا تھا لیکن کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
جنیوا اجلاس سے قبل عوامی بیانات میں ایرانی حکام نے مشروط لچک کے ساتھ سخت مؤقف بھی اختیار کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے اتوار کے روز بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے لیے تیار ہو سکتا ہے لیکن کچھ امور پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’’اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ واقعی معاہدہ چاہتا ہے۔‘‘
مسٹر تخت روانچی نے تصدیق کی کہ ایران اپنی پالیسی میں لچک کے طور پر 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی سطح کم کرنے پر بات چیت کر سکتا ہے، تاہم افزودگی ختم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اب ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔‘‘
ایران کے نائب وزیر خارجہ (اقتصادی سفارت کاری) اور مذاکراتی ٹیم کے رکن حمید قنبری کے حوالے سے ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ مسقط میں ہونے والے سابقہ مذاکرات میں توانائی اور کان کنی کے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور امریکہ میں تیار کردہ طیاروں کی ممکنہ خریداری جیسے امور پر بھی غور کیا گیا تھا۔ مسٹر قنبری نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں یہ بات یقینی ہونی چاہیے کہ بیرون ملک منجمد ایران کے اثاثوں کو ’حقیقی اور قابلِ استعمال‘ طریقے سے بحال کیا جائے۔
دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اب تک کوئی ملک ایران کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکا، لیکن وہ اسے انجام دینے کی پوری کوشش کریں گے۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اسرائیل کے حملوں کی حمایت کریں گے۔
یو این آئی۔ م ع۔ ایس وائی
دنیا
وائٹ ہاؤس عشائیہ: شاہ چارلس کا ٹرمپ کے پرانے بیان پر دلچسپ جوابی وار
واشنگٹن، شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں شاہی خاندان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں برطانوی بادشاہ نے صدر ٹرمپ کے ایک پرانے بیان کا جواب بھرپور طنز و مزاح کے ساتھ دیا۔
صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکہ دوسری عالمی جنگ میں مداخلت نہ کرتا تو آج یورپی ممالک کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے اسی تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مخاطب کیا اور کہا کہ صدر صاحب! میں یہ کہنے کی ہمت کروں گا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکہ میں لوگ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے۔ شاہ چارلس کا یہ جملہ سن کر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شاہ چارلس اس وقت شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی دور کی تاریخ کا ذکر کر رہے تھے جب دونوں طاقتیں براعظم پر قبضے کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔ اس موقع پر شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو برطانوی رائل نیوی کی اس آبدوز کی اصل گھنٹی بھی تحفے میں دی جس نے دوسری عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا کہ جب بھی ہماری ضرورت پڑے، بس یہ گھنٹی بجا دیں۔ اس ظرافت بھرے انداز کو تقریب کے شرکاء نے بہت سراہا اور اسے سفارتی آداب میں ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’’میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا‘‘ ٹرمپ کی بندوق اٹھا کر ایران کو پھر دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
ایران جنگ اور مذاکرات کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روز متعدد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک بار پھر نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو دھمکانے کے لیے بندوق اٹھائے ہوئے اپنی اے آئی تصویر بھی جاری کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جلد سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے معاملات کو درست انداز میں سنبھالنے میں ناکام ہے اور لگتا ہے کہ اس کو غیر جوہری معاہدہ کرنا نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی ایک اے آئی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ بندوق تھامے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں










































































































