ہندوستان
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ انصاف پر ان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے بعد متاثرہ نابالغ لڑکی کی والدہ نے خوشی اور سکون کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم سے انہیں انصاف پر دوبارہ اعتماد حاصل ہوا ہے متاثرہ کی والدہ، نے کہا، “اس فیصلے سے میرا یقین بحال ہوا ہے کہ قانون بچوں اور متاثرین کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسی کو اپنے حقوق ثابت کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑے گی اور اس فیصلے سے بہت سے ایسے بچوں کی مدد ہو گی جو بولنے سے قاصر ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) اس وقت ان کے ساتھ تھا جب وہ بے بس محسوس کرتی تھیں اور ان کی کوئی نہیں سنتا تھا۔ ان کی حمایت نے انہیں انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ دیا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سال مارچ میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نابالغ متاثرہ لڑکی کے پستان مس کرنے اور شلوار کا ازاربند کھولنے کو ریپ کی “کوشش” نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ صرف ریپ کی “تیاری” تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں اپنے ایک فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ متاثرہ نابالغ کا پستان چھونا اور اس کی شلوار کا ازار بند کھولنا عصمت دری کی “کوشش” نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ عصمت دری کی محض “تیاری” ہے۔ حقوق اطفال کے تحفظ کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک نیٹ ورک جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف متاثرہ کی جانب سے فوری طور پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔
درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے صریح طور پر غلط اور مجرمانہ تعزیری قانون کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ مزید برآں، سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کے خلاف جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (POCSO) ایکٹ کے تحت عصمت دری کی کوشش کے الزام کو بحال کیا۔
نومبر 2021 میں، کاسا گنج، اتر پردیش میں، دو نوجوانوں نے ایک 11 سالہ لڑکی کو زبردستی ایک پل کے نیچے گھسیٹ لیا اور اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش کی۔ بچی کے رونے کی آواز سن کر دو راہ گیر وہاں پہنچے جس کے بعد دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ اس معاملے میں اپنے مارچ 2025 کے فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا، “یہ عمل عصمت دری کی محض ایک ‘تیاری’ ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ یہ ‘ریپ’ یا ‘ریپ’ کی کوشش ہے۔” اس فیصلے نے الزامات کی سنگینی کو نمایاں طور پر کم کر دیا۔
حقوق اطفال کے تحفظ اوران کی بہبود کے لیے 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا اور متاثرہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں خصوصی چھٹی کی درخواست دائر کی۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے ایسے معاملات میں زیادہ حساسیت کو یقینی بنانے کے لیے رہنما خطوط قائم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
ہائی کورٹ کے احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قومی عدالتی اکیڈمی، بھوپال کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنسی زیادتی کے متاثرین سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران جج اور عدالتی عمل میں حساسیت پیدا کرنے کے مقصد سے ایک جامع اور مکمل رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ کمیٹی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تین ماہ میں یہ رپورٹ تیار کرے اور سپریم کورٹ کو پیش کرے۔
سینئر وکیل جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی جانب سے متاثرہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایس ایچ پھولکا نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا، “یہ بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی طرف ایک دور رس فیصلہ ہے۔ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ عدالتی بحث میں متاثرین کے خلاف کسی قسم کے امتیاز یا تعصب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم اس فیصلے کے لیے بینچ کے شکر گزار ہیں۔” سپریم کورٹ نے گائیڈ لائنز بنانے میں نیٹ ورک سے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔
دریں اثنا، بچوں کے حقوق کے قومی کنوینر روی کانت نے کہا، “یہ فیصلہ جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے انصاف، وقار اور حساسیت کو یقینی بنانے کے لیے ہماری طویل اور پرعزم جدوجہد کا اختتام ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس سے عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہوتا ہے ۔ یہ معلومات جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
دہلی سے بغیر محرم خواتین حج کے لیے مدینہ روانہ
بغیر محرم حج سفر خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مضبوط علامت : کوثر جہاں
نئی دہلی آج سعودی ایئرلائن کی ساتویں حج پرواز نمبر ایس وی-5909 کے ذریعے 43 بغیر محرم خواتین دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس شہر مدینہ روانہ ہوئیں اس موقع پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں، حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی، ڈپٹی ایگزیکٹو آفیسر محسن علی اور حج کمیٹی کے دیگر عملے نے ان خواتین کا استقبال کیا اور پھولوں کے ساتھ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے انہیں حج کے سفر پر روانہ کیا۔
اس موقع پر چیئرپرسن کوثر جہاں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی اس قابلِ تعریف پہل سے اب معاشرے کے ہر طبقے کے لیے سہولیات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی اس پہل کے تحت بغیر محرم (بغیر مرد ساتھی) خواتین کا حج پر جانا نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک اہم مثال بھی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آج دہلی سے حج کے لیے روانہ ہونے والی 43 خواتین میں سے 12 دہلی سے، 21 اتر پردیش سے، 3 بہار سے، 4 جموں و کشمیر سے، 2 مدھیہ پردیش سے اور 2 اتراکھنڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 18 اپریل سے شروع ہونے والی حج پروازوں کے سلسلے کی یہ ساتویں پرواز تھی، جس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 2721 عازمین حج مدینہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اب تک روانہ ہونے والوں میں 1423 مرد اور 1298 خواتین شامل ہیں۔
آئندہ 20 مئی تک سعودی ایئرلائن کی 54 پروازوں کے ذریعے دہلی اسٹیٹ سمیت شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے 21,100 سے زائد عازمین حج مدینہ منورہ اور جدہ کے راستے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ اس سال دہلی امبارکیشن سے حج کے لیے پہلے مرحلے میں 31 پروازوں کے ذریعے 12,240 عازمین مدینہ منورہ جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 23 پروازوں کے ذریعے 8,860 عازمین مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ جب کہ دہلی ریاست کے عازمین حج کی تعداد 3196 ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ڈیریک او برائن کا بی جے پی اور ایجنسیوں کے ذریعے ممتا بنرجی کو ‘نشانہ بنانے’ کا الزام
نئی دہلی، ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیریک او برائن نے منگل کے روز مرکز اور متعدد اداروں پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سب مل کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بنا رہے ہیں سوشل میڈیا پر ایک سخت الفاظ میں لکھی گئی پوسٹ میں او برائن نے لکھا، “سب ایک عورت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں،” اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع، کئی وزرائے اعلیٰ اور مرکزی ایجنسیوں کا نام لیتے ہوئے اسے ایک مربوط کوشش قرار دیا۔
انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ “سی اے پی ایف کے 2400 پلاٹونوں” کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ “سب” بنرجی کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ ریمارکس حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، خاص طور پر انتخابات کے دوران جب قانون نافذ کرنے والے اداروں، مرکزی افواج کی تعیناتی اور آئینی اداروں کا کردار اکثر تنازع کا مرکز بن جاتا ہے۔
بی جے پی ماضی میں اس طرح کے الزامات کو بارہا مسترد کر چکی ہے، اس کا موقف ہے کہ مرکزی ایجنسیاں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور سکیورٹی کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق کی جاتی ہے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کے حق میں رہی ہے اور اس کے لیے وہ وقتا فوقتا حکومت پر دباؤ بھی ڈالتی رہی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت حکمت عملی کے تحت اسے نافذ نہیں کر رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ 10 سالوں سے حکومت پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے میں بھی اپنی حمایت دی، لیکن مودی حکومت نے جان بوجھ کر اور حکمت عملی کے تحت اسے حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑ دیا، جس کی وجہ سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ آئی۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں اس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین کے ریزرویشن کا بل منظور کرنے کے حوالے سے مودی کو خط لکھا تھا۔ سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی 16 جولائی 2018 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مودی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور پھر حد بندی سے جوڑ کر اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
مسٹر رمیش نے کہا، “خواتین کے ریزرویشن کے تعلق سے کانگریس کا موقف اٹل اور غیر تبدیل شدہ رہا ہے۔ راہل گاندھی کے لکھے ہوئے خط کے آٹھ سال بعد بھی، وزیر اعظم حد بندی سے جوڑ کر ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کرنے کے خواہشمند ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس مطالبے پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔”
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ












































































































