دنیا
جنگی صورتحال کے باوجود حکومتی نظام فعال ہے: مسعود پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کا نظامِ حکومت پوری طرح فعال ہے اور مفلوج ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باوجود تمام سرکاری ادارے فعال ہیں اور ملک بھر میں ریاستی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام گورنرز سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالات غیر معمولی ہیں، لیکن انتظامی نظام متاثر نہیں ہوا۔ ملک بھر میں ضروری خدمات اور سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور حکومت حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں، مگر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ م ع
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلسطین میں غزہ جنگ کے بعد پہلی بار انتخابات، سیاسی عمل دوبارہ شروع
غزہ، فلسطینیوں کے لیے غزہ جنگ کے بعد پہلی بار انتخابات عمل کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلسطین میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار سیاسی عمل کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ حصوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان انتخابات کو خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ غزہ کے علاقے دیر البلاح میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ 2006 کے بعد پہلی بار ہو رہی ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 15 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جو اپنے مقامی نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان انتخابات میں حصہ لینے والے زیادہ تر امیدواروں کا تعلق تحریکِ فتح یا آزاد گروپوں سے ہے، جبکہ غزہ میں حماس کے امیدواروں کے نام باقاعدہ فہرستوں میں شامل نہیں ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی بڑی تعداد جنگی حالات کے باوجود سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ترکی اسرائیلی جنگی کوششوں کے باوجود ‘محتاط اور مثبت’ موقف پر برقرار ہے: ایردوان
انقرہ، ایک طرف اسرائیل جیسے عناصر جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ وہ اس عمل کو “احتیاطی انداز میں پُرامید” رہ کر دیکھ رہے ہیں۔
جمعہ کو استنبول کے دولماباہچے صدارتی دفتر میں منعقدہ ‘ ترکیہ صدی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط مرکز’ تقریب سے خطاب میں ایردوان نے کہا کہ نہ تو خطہ اور نہ ہی دنیا ماضی کی طرف لوٹ سکتی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ “بڑے جھٹکے سے پیدا ہونے والی دراڑوں کے اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوتے جائیں گے۔
“صدر ایردوان نے کہا: “حال ہی کے برسوں کے ایک بڑے سیکیورٹی بحران کو کامیابی سے نمٹا کر ترکیہ نے ایک بار پھر اپنی خطے میں استحکام کے جزیرے کے طور پر اپنی حیثیت کو قائم اور مضبوط کر دیا ہے۔” ترک صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب اسرائیل نے خطے میں متعدد محاذوں پر اپنی فوجی جارحیت میں توسیع کی ہے، جس میں غزہ جنگ، لبنان اور شام میں جاری حملے اور ایران کے ساتھ براہِ راست تنازع شامل ہیں۔
ترکیہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے علاقائی عدم استحکام کو گہرا کرسکتے ہیں اور وسیع تر تنازع کو بھڑکا سکتے ہیں، جبکہ ترکیہ ایک مستحکم کردار کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔ صدر ایردوان نے ترکیہ کو عالمی سطح پر ایک اہم سرمایہ کاری مرکز کا درجہ دلانے کے زیر مقصد وسیع اصلاحات کا عندیہ بھی دیا اور بین الاقوامی سرمایہ کو راغب کرنے کے لیے نئی ترغیبات کا اشارہ دیا۔
حکومت کے اقتصادی روڈ میپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ایردوان نے کہا کہ انقرہ “جامع ضوابط” متعارف کرائے گا جن کا مقصد ترکیہ کو “دنیا کے سب سے زیادہ پرکشش سرمایہ کاری مراکز میں سے ایک” بنانا ہے، اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مسابقت میں دوبارہ بہتری لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مرکز میں استنبول فنانس سنٹر ہے، جہاں حکومت کمپنیوں کے لیے اضافی ٹیکس مراعات جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ترک رہنما نے کہا کہ اس مرکز کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت کرنے والی کمپنیوں کو منافع پر 95 فیصد ٹیکس معافی سے استفادہ ملے گا، جو استنبول کو عالمی مالیاتی ترسیل اور تجارت کے لیے ایک کلیدی مرکز بنانے کی سمت ایک اقدام ہے۔ یہ اقدامات ترکیہ کی وسیع تر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان اپنی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے متبادل مالی مراکز کا مرکز بننے کی اپنی کشش کو تقویت دے گا۔ صدر ایردوان نے اس اقدام کو اقتصادی لچک مضبوط کرنے اور اعلیٰ قدر والی سرمایہ کاری میں توسیع کی طویل مدتی بصیرت کا حصہ قرار دیا، اور اشارہ دیا کہ جب انقرہ عالمی سرمایہ کاری کے تیزی سے مسابقتی منظرنامے میں اپنی برتری تیز کرنا چاہتا ہے تو مزید ضوابطی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ







































































































