جموں و کشمیر
کشمیر میں منشیات کے معاملات میں شدت، دیہی علاقوں تک منشیات کا جال پھیل چکا ہے: سرکار
جموں، جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعہ کو پیش کیے گئے ایک تفصیلی جواب میں محکمہ صحت و طبی تعلیم نے انکشاف کیا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے میں منشیات کے استعمال کا مسئلہ نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور صرف وادی کشمیر ہی میں منشیات کے علاج کے مراکز میں 16 ہزار 759 مریض رجسٹرڈ ہیں، جبکہ مجموعی طور پر کشمیر بھر میں اندازاً 70 ہزار نوجوان منشیات کے استعمال میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان میں تقریباً 50 ہزار افراد ہیروئن کے انجکشن کے ذریعے استعمال کے عادی بتائے گئے ہیں، جو صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔
ایوان میں فاروق احمد شاہ، سرجیت سنگھ سلاتھیا، علی محمد ساگر اور غلام محی الدین میر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے کہا کہ منشیات کا پھیلاؤ صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ تحصیل اور دیہی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ ضلع سری نگر میں سب سے زیادہ مریض رجسٹرڈ ہوئے، جبکہ بارہمولہ، کولگام، پلوامہ اور بڈگام اضلاع بھی اس فہرست میں نمایاں ہیں۔
حکومت کے مطابق کشمیر صوبے کے تمام اضلاع میں علاج کے خصوصی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں بیرونی مریضوں کے علاج سے لے کر بستروں کی سہولت تک تمام خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جموں ڈویژن میں بھی نو اضلاع میں یہ مراکز فعال ہیں، جبکہ باقی اضلاع میں علاج بیرونِ مریض خدمات کے ذریعے جاری ہے۔
حکومت نے بتایا کہ منشیات سے متعلق مشاورتی خدمات، بحالی پروگرام، خصوصی ادویات اور آگاہی مہمات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت نے مزید کہا کہ پلوامہ اور سانبہ کے حوالے سے فی الحال کسی نئے بڑے مرکز کے قیام کا منصوبہ موجود نہیں، تاہم پلوامہ کے ترال علاقے میں قائم بحالی مرکز پورے ضلع کے مریضوں کا بوجھ سنبھال رہا ہے۔ سانبہ ضلع میں گزشتہ برس سے علاج کا مرکز فعال ہے جہاں ماہر نفسیات، مشاورت، علاج اور مفت ادویات کی فراہمی کی سہولت موجود ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ’نشہ مکت بھارت‘ مہم، ضلع اور پنچایت سطح کی نگرانی، اسکول و کالج اویئرنیس پروگرام اور پولیس و انتظامیہ کی مشترکہ کارروائیاں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم محکمے نے اعتراف کیا کہ مسئلہ انتہائی سنجیدہ ہے اور مسلسل نگرانی و سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ،ایم افضل۔
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت مہم: 12 دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ “نشہ مکت ابھیان” کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف 12 دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔
ریاسی ضلع میں “ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم” کا آغاز کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی سماجی ردعمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
انہوں نے کمیونٹیز، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور 15 لائسنس منسوخ کیے گئے۔ منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں بھیجا گیا اور انہیں مشاورت فراہم کی گئی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کو ریاست کا درجہ نہ دینا ’سزا‘ کے مترادف: عمر عبداللہ
سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے اور اسے عوام کے ووٹ دینے کی “سزا” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عبداللہ حکومت پر “کام نہ کرنے، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے تھے۔
اپوزیشن لیڈر نے جمعہ کو کہاکہ “ریاست کا درجہ اپنے وقت پر ملے گا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔”
اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے بی جے پی بے چین ہو گئی ہے اور اب وہ کھل کر یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ریاست کا درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو ان کے ووٹ کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں اسمبلی زیادہ پرسکون اور نتیجہ خیز طریقے سے چلی۔
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے “لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرانے والے تھے۔”
اپوزیشن لیڈر مسٹر شرما نے الزام لگایا کہ حکومت کے وعدے، جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر، 200 یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار، اب تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کمزور ہو گئی ہے اور وزراء زمینی سطح پر فعال نہیں ہیں۔
مسٹر شرما نے انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام کاموں کے لیے بھی لوگوں کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
جموں و کشمیر10 hours agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند







































































































