ہندوستان
ہندوستان کا اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہی قومی سلامتی کی بنیاد ہیں: راجناتھ سنگھ
امپار کے اعلیٰ سطحی وفد کی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ سے ملاقات
نئی دہلی، ملک میں بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی، فرقہ وارانہ کشیدگی اور قومی یکجہتی کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمز (امپار) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ڈاکٹر ایم جے خان کی سرپرستی میں مرکزی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ سے نئی دہلی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک طویل، بامعنی اور سنجیدہ ملاقات کی۔
اس ملاقات میں کرناٹک کے سابق وزیر و معروف سیاسی رہنما روشن بیگ کی موجودگی کو خصوصی اہمیت حاصل رہی، جنہوں نے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے ملک کے مسلمانوں میں پائے جانے والے احساسِ عدم تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کئی اہم نکات کی جانب وزیرِ دفاع کی توجہ مبذول کرائی۔مسٹر روشن بیگ نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے ملک کی تعمیر، دفاع اور ترقی میں صفِ اوّل میں رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض حلقوں کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی، نفرت پر مبنی طرزِ فکر اور اشتعال انگیز ماحول سماجی توازن کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں، بالخصوص اقلیتی طبقات میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور کسی فرد یا گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔
وفد میں سابق عدالتی شخصیات، دفاعی امور کے ماہرین، سینئر صحافی، دانشورانِ ملت، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ معتبر شخصیات شامل تھیں۔ ملاقات نہایت مثبت، سنجیدہ اور مستقبل رُخ ماحول میں منعقد ہوئی، جس کا مرکز و محور قومی سلامتی، داخلی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کا تحفظ رہا۔
وفد نے وزیرِ دفاع کے سامنے اس حقیقت کو واضح کیا کہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور متنوع سماج ہے، جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی احترام اور رواداری ہی داخلی سلامتی کی اصل بنیاد ہیں۔ وفد کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ہندوستان عالمی سطح پر ایک مؤثر اور طاقتور کردار ادا کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے، اندرونی انتشار، نفرت انگیز بیانیہ اور سماجی تقسیم نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کی شبیہ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اس موقع پر امپار کے قومی جنرل سکریٹری نثار احمد نے کہا کہ ہندوستان کی طاقت ہمیشہ “کثرت میں وحدت” کے اصول سے پھوٹتی رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی ہم آہنگی کا فروغ محض ایک اخلاقی یا سماجی فریضہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہر شہری کا خود کو محفوظ، باوقار اور ریاست کا برابر کا شریک محسوس کرنا ہی جمہوری استحکام کی حقیقی علامت ہے۔
امپار کے نائب صدر جاوید یونس نے ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والے نفرت انگیز واقعات، سماجی اضطراب اور افواہوں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینی نظم و ضبط اور قانون کی حکمرانی ہی ایسے تمام رجحانات کا مؤثر اور پائیدار جواب ہیں، اور یہی راستہ قومی مفاد کے عین مطابق ہے۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن خواجہ محمد شاہد نے کہا کہ امن و امان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد ہی کسی بھی مضبوط اور مستحکم ریاست کی پہچان ہوتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نفرت اور تقسیم پر مبنی سیاست سے اگرچہ وقتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، مگر اس کے دور رس نتائج قومی سلامتی اور سماجی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
ملاقات کے دوران مرکزی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے وفد کے خیالات کو توجہ اور سنجیدگی سے سنا اور کہا کہ ہندوستان کا اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہی قومی سلامتی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دستورِ ہند کے تحت مذہب، ذات یا زبان کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز کی گنجائش نہیں، اور حکومت تمام شہریوں کے حقوق، وقار اور تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیرِ دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سماجی رہنماؤں اور شہری تنظیموں کے ساتھ مسلسل مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مسائل کو بروقت، مثبت اور تعمیری انداز میں حل کیا جا سکے۔
وفد نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستانی مسلمان نہ صرف ملک کے وفادار شہری ہیں بلکہ قومی اتحاد، امن اور ترقی کے لیے ہر سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ وفد کے اراکین نے ذمہ دار شہریت، قانون کی پاسداری اور ہر قسم کی انتہا پسندی سے اجتناب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر کمیونٹی کے حقوق اور وقار کا تحفظ ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بناتا ہے۔
وفد نے حکومت کی جانب سے مکالمے کے اس موقع کو سراہتے ہوئے امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی تعاون اور مسلسل رابطے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد میں شامل نمایاں شخصیات میں سابق ہائی کورٹ جج زیڈ یو خان، دفاعی امور کے ماہر قمر آغا، ڈاکٹر ایم جے خان، روشن بیگ، نثار احمد، جاوید یونس، کرنل اے ایچ خان، سراج قریشی، ڈاکٹر ندا فاطمہ، محترمہ تحسین زیدی، ڈاکٹر تاجور محمد خان، محمد احمد، ڈاکٹر نکہت نقوی، اختر علی خان، اطہر علی، ابراہیم احمد اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔ م الف
ہندوستان
فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
نئی دہلی، فضایئہ کا ایک مال بردار طیارہ اے این 32 ہفتہ کو آسام کے جورهاٹ فضائیہ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہو گیا جس میں سوارفضائیہ کے پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ حادثے میں شہید ہوئے فضائیہ کے اہلکاروں میں دو اگنی ویر بھی شامل ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم نے فرض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو اس حادثے میں پانچ بہادر جوانوں کو کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حادثے کی جانچ کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ مال بردار طیارہ صبح دس بجے کے قریب فضائیہ کے جورهاٹ اسٹیشن پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے اترتے وقت اس میں آگ لگ گئی، جس سے یہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کے حادثے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ یہ طیارہ باقاعدہ پرواز پر تھا۔
طیارے میں آگ لگنے کے بعد یہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ فضائیہ کے شہید اہلکاروں میں طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہے جبکہ کو-پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ اے این-32 دو انجن والا مال بردار طیارہ ہے جو دہائیوں سے فضائیہ کے لیے لاجسٹکس کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں، خاص طور پر اونچے علاقوں اور دور دراز کے حصوں میں مختلف مہمات میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس حادثے نے اے این-32 بیڑے کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے کئی بڑے حادثوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک جون 2019 میں ہوا تھا، جب 13 لوگوں کو لے جا رہا ایک اے این-32 طیارہ آسام کے جورهاٹ سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے سے زیادہ دن چلے تلاشی اور بچاؤ مہم کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ طیارے میں سوار سبھی 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں 29 لوگوں کو لے جا رہا ایک اور اے این-32 طیارہ چنئی کے تامبرم اسٹیشن سے پورٹ بلیئر جاتے وقت خلیج بنگال کے اوپر لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کی طرف سے چلائی گئی سب سے بڑی تلاشی اور بچاؤ مہموں میں سے ایک کے باوجود یہ طیارہ کئی برسوں تک لاپتہ رہا۔ آخر کار 2024 میں سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ ملا جس سے سبھی 29 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
اے این-32 طیارہ 1980 کی دہائی سے ہی فضائیہ کے مال بردار بیڑے کی ریڑھ رہا ہے۔ اس طیارے نے فوجیوں کی آمد و رفت، لاجسٹکس سپلائی مشن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور آفات سے راحت کے کاموں میں اہم کردار نبھایا ہے۔ طیارے نے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں اور سرحدی علاقوں میں مہمات کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ وقت کے ساتھ، اس طیارے میں ایوی اونکس، نیویگیشن سسٹم اور آپریشنل اپ گریڈیشن کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی فرانس، سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ، عالمی رہنماؤں سے کریں گے ملاقات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو فرانس اور سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہو گئے۔
اس دوران وہ 15 جون سے فرانس میں منعقد ہونے والے تین روزہ جی-7 سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے علاوہ کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ ہندوستان پارٹنر ملک کے طور پر اس گروپ کی میٹنگ میں تیرھویں بار حصہ لے رہا ہے۔ سرکاری پروگرام کے مطابق مسٹر مودی اپنے دورے کے دوران فرانس اور سلوواکیہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ تفصیلی دو طرفہ بات چیت ہوگی، جس میں اسٹریٹجک، اقتصادی، دفاع، ٹیکنالوجی اور اختراع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسٹر مودی فرانس کے شہر نیس، ایویان اور پیرس کا دورہ کریں گے۔ جی-7 اجلاس کے دوران ان کی گروپ کے رکن ممالک کے رہنماؤں، پارٹنر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ اجلاس میں جنوبی کوریا، کینیا، برازیل اور مصر جیسے ممالک کو بھی پارٹنر ملک کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت مختلف عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سکیورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کا معاملہ بھی ایجنڈے میں سر فہرست رہنے کا امکان ہے۔
فرانس کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون دورے کا مرکزی نقطہ رہے گا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپ، یونیورسٹیوں اور انوویشن اداروں کے تعاون سے جڑے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
سلوواکیہ کے دورے کے دوران دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی بات چیت ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان کچھ معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ وزیر اعظم 13 سے 14 جون تک فرانس کے نیس میں رہیں گے۔
اس کے بعد وہ 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا دورہ کریں گے اور پھر پیرس واپس آئیں گے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بچوں کا پھر مزدوری میں لوٹنا تشویشناک: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بچہ مزدوری کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے کہ بچوں کو دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اس برائی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی سخت ضرورت ہے کانگریس صدر نے کہا کہ بچوں کو استحصال سے بچانے کی ذمہ داری سب کی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اجتماعی اقدامات کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ہر بچے کے سیکھنے، بڑھنے اور بہتر مستقبل کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہر بچے کو صحت، تعلیم، تحفظ اور استحصال سے پاک بچپن کا حق ہے۔ بچہ مزدوری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ناانصافی ہے جو بچوں سے ان کا مستقبل چھین لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1986 میں بنائے گئے بچہ مزدوری سےمتعلق ایکٹ نے ملک میں چائلڈ لیبر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کچھ قانونی ترامیم، بچوں کے تحفظ کے بجٹ میں کٹوتی اور کووڈ-19 وبا کے طویل مدتی سماجی و اقتصادی اثرات کی وجہ سے بچوں کے دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلے جانے کے تشویشناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی غذائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے مطابق 29.3 فیصد بچے اسٹنٹنگ (کم نشوونما) اور 31.8 فیصد کم وزن سے متاثر ہیں، جو ملک میں غذائیت سے متعلق چیلنجوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے تعلیم کے معیار پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نیتی آیوگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دیہی ہندوستان میں چھٹی جماعت کے 42 فیصد، ساتویں جماعت کے 36 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 29 فیصد طلبہ دوسری جماعت کے معیار کا سبق پڑھنے کے اہل نہیں ہیں۔ اسی طرح چھٹی جماعت کے 64 فیصد، ساتویں جماعت کے 59 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 54 فیصد طلبہ عام ضرب اور تقسیم کا سوال حل نہیں کر پاتے ہیں، جو سیکھنے کے نتائج میں سنگین کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ صرف معاشی ترقی ہی کروڑوں خاندانوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کافی اور ہمہ گیر ثابت نہیں ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں کے بچے اسکول جانے کے بجائے کام کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ہم وطنوں سے اپیل کی کہ چائلڈ لیبر کو جڑ سے ختم کرنے اور ہر بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں۔
یو این آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان7 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا4 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا4 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا7 days agoایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی میں امریکہ شریک نہیں ہوگا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
دنیا5 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں





































































































