دنیا
ایران امریکہ مذاکرات، ٹرمپ ریڈ لائنز سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے: جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ریڈ لائنز سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر ہم ایرانیوں کے ساتھ ہونے والے اصل مذاکرات کو پھر سے یاد کریں تو ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے تعمیری معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوشش کر رہے تھے جو امریکہ کے مفاد میں ہو، سچی بات یہ ہے کہ پوری انتظامیہ اس پر متفق تھی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کرنے کے لیے سمجھداری سے کام لیتا تو یہ ان کے اپنے مفاد میں بھی ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ صدر پر چھوڑ دوں گا کہ وہ مذاکرات کے لیے کیا حدود مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عام طور پر یہ کام خفیہ طور پر کرتے ہیں اور یہ اعلان نہیں کرتے کہ وہ مذاکرات میں کیا کریں گے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے وہ پابند ہو جاتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران اپنی ٹیم اور دیگر افراد کے ساتھ اہم گفتگو کرنے والے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
ایویان-لے-بیں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہے اور اگر ایران “مناسب رویہ اختیار نہیں کرتا” تو اس کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے طے پانے والی اور جمعہ کو باضابطہ منظوری کے لیے پیش کی جانے والی مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “یہ حتمی نہیں ہے، یہ صرف ایک مفاہمتی یادداشت ہے۔” اور ایران کے خلاف امریکی فوجی آپشن اب بھی برقرار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدہ ناگزیر ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات
واشنگٹن وائٹ ہاؤس نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت نامے (ایم او یو) کو جاری کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اس معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی اس مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ ہی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے اور لبنان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کریں گے۔
2. امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
3. دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے پر متفق ہوئے ہیں، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
4. امریکہ فوری طور پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کر دے گا اور 30 دنوں کے اندر اسے مکمل طور پر ہٹا لے گا۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ حتمی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر اپنی فوجی دستوں کو ایران کے قریب سے ہٹا لے گا۔
5. ایران 60 دنوں کے دوران خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک تجارتی جہازوں کی بغیر کسی فیس کے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایران عمان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
6. امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے حتمی معاہدے کے تحت کم از کم 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی منصوبہ بندی کرے گا، جس کے لیے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے فراہم کیے جائیں گے۔
7. حتمی معاہدے کے تحت امریکہ ایران پر عائد تمام یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیاں (اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے سمیت) ایک مقررہ مدت میں ختم کر دے گا۔
جاری یو این آئی، ایم جے
دنیا
ایران سے افزودہ یورینیم باہر نہیں لے جایا جائے گا: بقائی
تہران، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر قائم ہے کہ ملک سے افزودہ یورینیم باہر نہیں لے جایا جائے گا۔
مسٹر بقائی نے ایرانی ٹیلی ویژن پر کہا، “ہم نے شروع سے ہی کہا ہے کہ افزودہ مواد ملک سے باہر نہیں لے جایا جائے گا۔
ایک متبادل یہ ہے کہ اس کی سطح کو ایران کے اندر ہی کم کیا جائے۔ یہ کوئی نیا متبادل نہیں ہے۔” ان کا یہ بیان امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور ایران پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات چیت ہوگی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے ایم او یو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ حتمی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر ایران سے ملحقہ علاقوں سے اپنے فوجی ہٹا لے گا اور تب تک اضافی فوج تعینات نہیں کرے گا۔ معاہدے کے چوتھے پیراگراف میں لکھا ہے، “امریکہ حتمی معاہدے پر دستخط کے 30 دنوں کے اندر ایران سے ملحقہ علاقوں سے فوجی ہٹانے کا بھی وعدہ کرتا ہے۔”
نیز، دستاویز کے نویں پیراگراف کے مطابق، معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ اس خطے میں اضافی فوج نہیں بھیجے گا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا7 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی





































































































