جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی سیشن: این ایچ پی سی منصوبوں کی واپسی پر قرار داد 2 اپریل کو بحث کے لئے مقرر
جموں، جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کے کنٹرول کی بازیابی ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے میں قومی ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے زیر انتظام منصوبوں کی یو ٹی حکومت کو منتقلی سے متعلق ایک اہم قرارداد ایوان میں پیش کی جائے گی۔
یہ قرار داد نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سجاد شاہین نے جمع کرائی ہے، جو 27 مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے دوران 2 اپریل کو پرائیویٹ ممبرز ریزولیوشنز کے دن ایوان کی کارروائی میں شامل کی جائے گی۔
ایوانی ذرائع کے مطابق یہ تجویز اُن 14 قرار دادوں میں شامل ہے جنہیں باضابطہ قرعہ اندازی کے بعد بحث کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے:’یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت ہند کو ترغیب دی جائے کہ وہ یونین ٹریٹری حکومت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد جموں و کشمیر میں این ایچ پی سی کے زیرِ عمل پن بجلی منصوبوں کے آپریشنل کنٹرول یا ملکیتی حقوق مرحلہ وار اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر یو ٹی حکومت کو منتقل کرنے پر غور کرے، تاکہ آئینی دفعات اور بین الحکومتی انتظامات کے مطابق عمل ہوسکے۔‘
اگرچہ قرار داد کا متن نسبتاً نرم رکھا گیا ہے، لیکن اس کی سیاسی و معاشی اہمیت کے سبب یہ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے میں نمایاں بحث کا موضوع بننے جارہی ہے۔
جموں و کشمیر کی علاقائی سیاسی جماعتیں برسوں سے پن بجلی منصوبوں کی واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔
2015سال کے پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد کے ایجنڈا آف الائنس میں بھی یہ وعدہ شامل تھا کہ حکومت ہند سے ڈول ہستی اور اُوڑی بجلی منصوبوں کی منتقلی کے امکانات تلاش کیے جائیں گے، جیسا کہ رنگناتھن کمیٹی اور راؤنڈ ٹیبل رپورٹوں میں سفارش کی گئی تھی۔
اسی طرح نیشنل کانفرنس نے بھی 2024 کے اسمبلی انتخابات کے منشور میں واضح طور پر کہا تھا کہ مرکزی حکومت پر زور دیا جائے گا کہ وہ رنگناراجن کمیٹی کی سفارشات پر پوری طرح عمل کرے اور باقی تمام پن بجلی منصوبے جموں و کشمیر کو منتقل کیے جائیں۔
ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں پن بجلی کے وسیع وسائل ہیں، جن کی مکمل واپسی سے نہ صرف مقامی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے کی توانائی خود کفالت کی جانب بھی پیش رفت ممکن ہوگی۔ اسی لیے اس قرارداد کو آنے والے اجلاس میں ایک اہم سیاسی اور معاشی سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے دوران اس پر ہونے والی بحث پر ریاستی عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم
سری نگر، کشمیر کے کئی علاقوں میں ہفتہ کے روز تازہ بارش ہوئی جس کے باعث پورے خطے میں درجۂ حرارت میں کمی آئی اور جون کے مہینے میں بھی موسم بہار جیسا خوشگوار محسوس ہونے لگا۔
محکمۂ موسمیات، سری نگر کے مطابق کشمیر ڈویژن کے بیشتر مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں درجۂ حرارت 17 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 6.7 ڈگری سیلسیس کم ہے، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں درجۂ حرارت 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط سے 2.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
بارش کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں رات کا درجۂ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ وادی میں سب سے کم درجۂ حرارت گلمرگ میں 9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر بارش ہوئی، جن میں پہلگام میں 13 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 1.3 ملی میٹر اور گلمرگ میں 1.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو روز تک بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی چل سکتی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کا موسم جون کے وسط جیسا نہیں بلکہ اپریل کے آغاز جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’آج سری نگر کا موسم جون کے وسط کے بجائے اپریل کے ابتدائی دنوں جیسا لگ رہا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو گلمرگ اور پہلگام جیسے مقامات پر یقیناً کافی سردی ہوگی۔‘‘
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
سری نگر، حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے 19 سالہ رہائشی کو شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے کرناہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار نوجوان کی شناخت اسد خان کے نام سے ہوئی ہے، جو پی او جے کے کے شہر مظفرآباد کا رہائشی ہے۔ حکام کے مطابق نوجوان کو سب سے پہلے مقامی لوگوں نے اس وقت دیکھا جب وہ ایل او سی عبور کرکے اس جانب پہنچا۔
حکام نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیاں نوجوان سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ سخت نگرانی والی سرحد کس صورتحال میں عبور کرکے آیا۔
واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے سری نگر میں قائم چنار کورپس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ گرفتاری فوج اور جموں وکشمیر پولس کے مشترکہ آپریشن کے دوران عمل میں آئی۔
فوج کے مطابق، “مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چنار واریئرز نے جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 12 جون 2026 کو کپواڑہ کے سمری گاؤں کے قریب ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا، جس نے مشتبہ حالات میں لائن آف کنٹرول عبور کی تھی۔ چنار واریئرز اور جموں و کشمیر پولیس کی مستعد مشترکہ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو روک لیا اور کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کو ٹال دیا۔”
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ “گرفتار کیے گئے درانداز سے فی الحال تفتیش جاری ہے۔”
اسد خان گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کشمیر میں ایل او سی کے قریب گرفتار ہونے والے پی او جے کے کے دوسرے شہری ہیں۔
اس سے قبل یکم جون کو پی او کے کے علاقے حویلی کہوٹہ کے 22 سالہ رہائشی ذیشان احمد کو ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں مبینہ طور پر سرحد عبور کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق نوجوان کو ایل او سی کے قریب واقع سرحدی گاؤں سیلی کوٹ کے نزدیک گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ایک محبت کے سلسلے کے باعث سرحد پار کرکے آیا تھا۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
این سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
سری نگر، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے سراج العلوم ویلفیئر فاؤنڈیشن کے لیے ایک عبوری لیکویڈیٹر مقرر کرتے ہوئے ادارے کو اپنے اثاثے فروخت یا منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔ ٹریبونل نے مشاہدہ کیا کہ بادی النظر میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کو “ہندوستان کی خودمختاری، سلامتی اور سالمیت کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں” کے لیے استعمال کیا گیا۔
این سی ایل ٹی کی چنڈی گڑھ بنچ نے 11 جون کو یہ حکم رجسٹرار آف کمپنیز (آر او سی)، جموں و کشمیر اور لداخ کی جانب سے کمپنیز ایکٹ کی دفعات 271 اور 272 کے تحت دائر درخواست پر جاری کیا، جس میں سیکشن 8 کمپنی کو تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
ٹریبونل نے حکم دیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے منسلک سرکاری لیکویڈیٹر فوری طور پر کمپنی کے معاملات، اثاثوں، بینک کھاتوں، مالیاتی ریکارڈ اور دستاویزات کا کنٹرول سنبھالے، جب تک مزید کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔
ٹریبونل نے کمپنی کے ڈائریکٹروں اور عہدیداروں کو 30 دن کے اندر اثاثوں اور واجبات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں سراج العلوم کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے کے بعد کی گئی ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے والا یہ جموں و کشمیر کا پہلا دینی مدرسہ ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ ادارے کے کالعدم جماعت اسلامی کے ساتھ خفیہ روابط تھے، جبکہ اس پر قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں اور انتہاپسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
مدرسے پر پابندی کے بعد جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جہاں سینکڑوں طلبہ اور والدین نے ادارہ دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا3 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
دنیا4 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے




































































































