دنیا
امریکہ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے درمیان میزائل ذخائر کی کمی سے نمٹنے کے لیے 25.4 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا
ماسکو، امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کے دوران انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی سال 2027 کے بجٹ میں کئی گنا اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔
اسپوتنک نامہ نگارکی طرف سے پینٹاگن کی حالیہ بجٹ رپورٹ کے تجزیے کے مطابق، امریکہ ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (ٹی ایس اے اے ڈی) اور پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپبلیٹی-3 میزائل سیگمنٹ انہانسمنٹ (پی اے سی-3 ایم ایس ای) میزائلوں کے لیے کل 25.4 ارب ڈالر کا التزام کرنا چاہتا ہے۔
فنڈنگ میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب آپریشن کے ابتدائی ہفتوں میں بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال سے امریکی ذخیرے میں شدید کمی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی دفاعی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس تیز گراوٹ سے اسٹریٹجک کمزوریاں پیدا کری ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران ڈرونز اور میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش میں، محکمہ دفاع نے مالی سال 2027 کے لیے ٹی ایس اے اے ڈی اور پی اے سی-3 ایم ایس ای سسٹمز پر کل 25.4 ارب ڈالر خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ٹی ایس اے اے ڈی پروگرام میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے، جسے میزائل ڈیفنس ایجنسی سے ہٹا کر امریکی فوج کے تحت کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی فنڈنگ میں 1,289 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2026 کے 823.125 ملین ڈالر سے بڑھا کر 11.435 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔
نیز پی اے سی-3 ایم ایس ای پروگرام میں بھی ایک بڑی توسیع کی تجویز ہے۔ امریکی فوج نے اس پروگرام کے لیے 12.229 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے، جو 2026 کے لیے مختص کیے گئے 1.646 ارب ڈالر سے 642.9 فیصد زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی بحریہ نے پہلی بار اپنے جنگی جہازوں کے لیے پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائلوں کی خریداری شروع کرنے کے مقصد سے 1.731 ارب ڈالر کا بجٹ طلب کیا۔ یہ ایک اہم تزویراتی توسیع تصور کی جارہی ہے، جس میں فوج کے پریمیئر گراؤنڈ بیسڈ انٹرسیپٹر سسٹم کو پہلی بار بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
یو اے ای ایران مخالف کارروائیوں میں ملوث تھا : عباس عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق سید عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’’یکجہتی کی خاطر‘‘ متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران سے متعلق یو اے ای اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔
دوسری جانب گزشتہ روز اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے کبھی جنگ نہیں چاہی اور اسے روکنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں۔
انور قرقاش کے مطابق یو اے ای نے ہمیشہ سیاسی حل اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج میں عرب۔ایران تعلقات کو محاذ آرائی اور تصادم کی بنیاد پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی کشیدگی اور سفارتی اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
بیجنگ، ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی ترسیل کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی آزادانہ اور محفوظ ترسیل یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔
دوسری جانب چینی سرکاری ٹی وی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی نئی سمت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ تعمیری اور اسٹریٹجک طور پر مستحکم تعلقات قائم کریں گے۔
شی جن پنگ کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی سمت آئندہ تین برسوں اور اس سے آگے بھی اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی۔
چینی صدر نے کہا کہ تجارت، زراعت، صحت، سیاحت اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ تائیوان کے مسئلے کو انتہائی احتیاط کے ساتھ سنبھالا جائے۔
چینی میڈیا کے مطابق دونوں صدور نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور شمالی کوریا سمیت مختلف عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، تائیوان، توانائی اور عالمی سلامتی جیسے معاملات پر کشیدگی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک بیک وقت تعاون کے دروازے بھی کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ نے چینی صدر کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہمارا مستقبل ایک ساتھ شاندار ہوگا
بیجنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان عظیم عوامی ہال میں اہم سربراہی اجلاس تقریباً دو گھنٹے پندرہ منٹ تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں تقسیم کے بجائے اعتماد کی فضا قائم کرنے پر زور دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے بھرپور امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس میں واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات اپنی مضبوط ترین سطح پر ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ہمارا مستقبل ایک ساتھ شاندار ہوگا‘‘۔
انہوں نے چینی صدر کو ’’عظیم رہنما‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ہونا اور دوستی رکھنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور مضبوط ہوں گے۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو شراکت داری کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے اور دونوں ممالک مل کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں استحکام پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ تعاون دونوں ممالک کے لیے مفید اور تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا۔
شی جن پنگ کے مطابق دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے تاکہ بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا اور بہتر ماڈل قائم کیا جا سکے۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں اور ایک ملک کی کامیابی دوسرے کے لیے بھی مواقع پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات میں کہا کہ چین اپنی منڈی مزید کھولے گا اور امریکی کمپنیوں کو وسیع تر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
چینی صدر نے تجارت، صحت، سیاحت، زراعت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ اس دورے کا بنیادی مرکز اقتصادی امور ہیں، تاہم اجلاس میں ایران، تائیوان، تجارت، سلامتی اور عالمی کشیدگی جیسے حساس معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔
اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی شریک تھے۔
رپورٹس کے مطابق پیٹ ہیگستھ کسی امریکی صدر کے ہمراہ چین کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی وزیر دفاع بن گئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا7 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا6 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
دنیا5 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا7 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
ہندوستان3 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا7 days agoامریکی کوشش پھر ناکام، روس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد مسترد کر دی
ہندوستان7 days agoبی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
دنیا7 days agoحج 2026: رضاکارانہ کام کے خواہشمند افراد کیلیے خوشخبری














































































































