تازہ ترین
انگلینڈ میں 3.3 شدت کا زلزلہ، جھٹکے لندن تک محسوس کیے گئے

لندن، انگلینڈ میں بدھ کی رات آنے والے زلزلے نے عوام میں ہلچل مچادی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ رات 11 بج کر 23 منٹ پر لنکاشائر کے علاقے میں تقریباً تین کلومیٹر گہرائی میں آیا۔ زلزلے کے جھٹکے ساؤتھ لیکس، لنکاشائر، کینڈل اور الورفسٹن سمیت 20 کلو میٹر کے علاقے تک محسوس کیے گئے۔
برطانوی جیولوجیکل سوسائٹی کے مطابق زلزلے کی شدت 3.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ کچھ رپورٹس میں اسے 3.4 شدت کا بتایا گیا ہے۔ ایک ہزار سے زائد شہریوں کے جھٹکے محسوس کرنے کی اطلاعات ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں آنے والا دوسرا زلزلہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا زلزلہ نقصان کا باعث نہیں بنتا تاہم شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تجزیہ
موسمیاتی تبدیلی او ر ہندوستانی زراعت کا نیا ماڈل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی استحکام، غذائی تحفظ، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اگرچہ صنعتی ترقی، شہری توسیع اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے معیشت کی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم زراعت آج بھی ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا تصور زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ صدی میں ہندوستانی زراعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی زرعی طریقے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور غیر متوقع موسمی حالات جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب زراعت کا انحصار موسمی اندازوں، مقامی تجربات اور روایتی مہارتوں پر تھا، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب اور مٹی کی مسلسل خرابی نے زرعی پیداوار کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صرف زرعی قرضے، منڈی تک رسائی یا سپلائی چین کی بہتری کافی نہیں رہی بلکہ اب ایک نئے زرعی وژن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری اور آب و ہوا سے مطابقت بنیادی ستون ہوں۔
اسی تناظر میں ہندوستان کے ایگری ٹیک (Agri Tech) ایکو سسٹم کے اندر“کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر”یعنی آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت اور“سسٹین ایبل فارمنگ”یعنی پائیدار کاشتکاری سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سرمایہ کار، حکومتیں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی ادارے اور ترقیاتی تنظیمیں اس بات کو سمجھنے لگی ہیں کہ مستقبل کی زراعت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ زیادہ پائیدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظام پر مبنی ہوگی۔
ہندوستانی زراعت اس وقت ایک پیچیدہ بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات ہیں اور دوسری طرف قدرتی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً چار فیصد میٹھے پانی پر ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ مٹی کی نامیاتی ساخت میں کمی، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور بدلتے موسمی پیٹرن نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
زرعی زمینیں مسلسل نامیاتی مادے سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال نے اگرچہ وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن طویل مدت میں اس نے مٹی کی صحت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں کسان زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔
اسی دوران مون سون کی روایتی ترتیب بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلے بارش کا ایک متوازن نظام موجود تھا، لیکن اب یا تو بارش تاخیر سے آتی ہے، یا بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، یا چند دنوں میں انتہائی شدت سے برس کر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی نے کسانوں کی منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فصلوں کے وقت بیجوں کے انتخاب، پانی کی دستیابی اور زرعی لاگت سب غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک معاشی اور سماجی حقیقت بن چکی ہے۔ شدید موسمی واقعات میں اضافے نے زراعت کے استحکام کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، ژالہ باری، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
غیر مستحکم زرعی آمدنی کا مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی پالیسی مباحث میں قیمت اور آمدنی کی ضمانت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر کھیتوں کی آمدنی میں درمیانی مدت میں 15 سے 25 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت دونوں خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی بحران ہے۔ اگر آبادی بڑھتی رہے، پانی کم ہوتا جائے، زمین کی صحت گرتی رہے اور موسم غیر یقینی ہو جائے تو روایتی زراعت کے ذریعے اس مساوات کو حل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایگری ٹیک سرمایہ کاری اور پائیدار زراعت ایک نئی امید کے طور پر سامنے آتی ہے۔
ایگری ٹیک ایکو سسٹم دراصل زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حل اور سائنسی جدت کے امتزاج کا نام ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز، ڈرونز، موسمی پیش گوئی کے نظام، سیٹلائٹ امیجنگ، آبی انتظام، اسمارٹ آبپاشی، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
پہلے ایگری ٹیک سرمایہ کاری کا زور بنیادی طور پر منڈی تک رسائی، سپلائی چین، زرعی قرضوں اور لاجسٹکس پر تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کی توجہ ان حلوں پر منتقل ہو رہی ہے جو موسمیاتی خطرات کو کم کر سکیں۔ یعنی ایسے نظام جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، مٹی کی صحت بہتر بنائیں، کاربن اخراج کم کریں اور کسانوں کو موسمی جھٹکوں کے خلاف زیادہ مضبوط بنائیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب زراعت کو محض ایک کاروباری موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجودی مسئلے کے حل کے میدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کا بنیادی مقصد ایسے زرعی نظام پیدا کرنا ہے جو موسمی جھٹکوں کو برداشت کر سکیں، کم وسائل میں مؤثر پیداوار دیں اور ماحولیات پر منفی اثرات کو کم کریں۔
اس تصور میں فصلوں کی تنوع، پانی کا مؤثر استعمال، موسمی پیش گوئی پر مبنی کاشتکاری، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، مٹی کی بحالی، نامیاتی مواد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ سازی شامل ہے۔
مثلاً اگر کسی علاقے میں بارش غیر یقینی ہے تو وہاں ڈرپ ایریگیشن، مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہو تو ایسی اقسام متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ پائیدار زراعت اب محض ماحولیاتی کارکنوں کا نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔پائیدار کاشتکاری کا مقصد قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے طویل مدت تک زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں مٹی کی صحت، پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور کم کیمیائی استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔
روایتی زرعی ماڈل نے زیادہ پیداوار تو دی، لیکن اس کی قیمت زمین اور پانی نے ادا کی۔ زیر زمین پانی تیزی سے کم ہوا، مٹی میں نامیاتی مادہ گھٹا اور کیمیائی آلودگی بڑھی۔ اگر یہی ماڈل جاری رہا تو آنے والے عشروں میں زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔پائیدار کاشتکاری اس بحران کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس میں فصلوں کی گردش، نامیاتی کھاد، مربوط غذائی انتظام، بائیولوجیکل کیڑوں کا کنٹرول اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔
سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑی اقتصادی تبدیلی بھی ہے۔ وہ کمپنیاں جو پانی بچانے، مٹی بہتر بنانے، موسمی پیش گوئی، ڈیجیٹل زراعت، کاربن کریڈٹ اور زرعی رسک مینجمنٹ کے حل فراہم کر رہی ہیں، مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ایسے ماڈلز پیش کر رہے ہیں جو کسانوں کو درست وقت پر معلومات، بہتر بیج، مؤثر آبپاشی اور بیماریوں کی پیشگی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان
ایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
نئی دہلی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکز کی مودی حکومت پر حملہ بولا ہے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کانگریس صدر نے کہا کہ “فیول لوٹ” کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پٹرول ڈیزل کے دام بڑھائے گئے ہیں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں پٹرول کی قیمتوں میں کل 7.35 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 7.53 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے عام لوگوں کی بچت کو “جلانے” کے لیے پٹرول چھڑک دیا ہے۔
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ سال 2004 سے 2014 کے درمیانیو پی اے حکومت کے دوران بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں 175.34 فیصد کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں بین الاقوامی کروڈ آئل کی قیمتوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود پٹرول کی قیمت 71.41 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے اور ڈیزل 56.71 روپے سے بڑھ کر 95.20 روپے فی لیٹر پہنچ گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے عوام سے گزشتہ 12 برسوں میں ایندھن کے ذریعے 43 لاکھ کروڑ روپے کی “لوٹ” کی ہے، جو ہر روز تقریباً 1000 کروڑ روپے کے برابر ہے۔
مسٹر کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایچ پی سی ایل، بی پی سی ایل اور آئی او سی جیسی سرکاری تیل کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی درج کی گئی، جس سے صاف ہے کہ بی جے پی “عوام نہیں، منافع” کی سیاست کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
نئی دہلی راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب رہنما پرمود تیواری نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکز کی مودی حکومت پر زوردار حملہ بولا ہے انہوں نے کہا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دوران پٹرول کی قیمت 71 روپے فی لیٹر تھی، جو اب بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مبارک ہو مودی جی، آپ نے پٹرول کی قیمتوں کی سنچری مکمل کر ہی لی۔
مسٹر پرمود تیواری نے وزیر اعظم نریندر مودی کو “مہنگائی مین” بتاتے ہوئے کہا کہ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ “اچھے دن” کا اصلی مطلب کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھا کر عام لوگوں کی جیب پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تازہ اضافے میں پٹرول 2.61 روپے اور ڈیزل 2.71 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔ اس کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
کانگریس نے بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عوام پر پڑ رہے اقتصادی بوجھ پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کو راحت دینے میں پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
یواین آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
دنیا7 days agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
ہندوستان4 days agoسونیا، کھرگے، راہل، پرینکا نے راجیو گاندھی کو ان کی 35 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا


































































































