تازہ ترین
بادامی باغ چلو مارچ ناکام :میرواعظ اورملک گرفتار

سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ میں سنیچرکی صبح فورسزگولی باری کے نتیجے میں سات عام شہریوں کی ہلاکت کیخلاف دی گئی تین روزہڑتال کال اورسوموارکوبادامی باغ کنٹونمنٹ چلوپروگرام کے پیش نظرمسلسل دوسرے روزبھی شہرخاص اورسیول لائنزکے علاقوں میں بندشیں عائدرہیں ۔مجوزہ احتجاجی مارچ اورممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے ضلع مجسٹریٹ سری نگرکی ہدایت پردفعہ 144کے تحت سوموارکوعلی الصبح سے ہی پولیس تھانوں رام منشی باغ ،رعناواری ،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج ،صفاکدل اورمائسمہ کے تحت آنے والے درجنوں علاقوں میں مکمل اورجزوی بندشیں عائدرہیں ،اوران سبھی علاقوں میں صبح سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات رکھے گئے تھے اورسیکورٹی دستوں نے بندش والے علاقوں میں جگہ جگہ خاردارتاریں اوردیگررکاؤٹیں ڈال رکھی تھیں تاکہ لوگوں کی آواجاہی پرروک لگائی جاسکے ۔بندش زدہ علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں مسلسل دوسرے روزبھی گھروں سے باہرآکرکہیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
انہوں نے کہاکہ ہم مسلسل دوسرے روزبھی گھروں میں محصوررہے ۔سٹی رپورٹرنے بتایاکہ لالچوک اورسیول لائنزکے دوسرے علاقوں سے سونہ واریابٹہ وارہ جانے والی سڑک پرپولیس وفورسزکاکڑاپہرہ بٹھادیاگیاتھا،اورصبح 12بجے تک یہاں سے کسی کوپیدل یاگاڑی میں سوارہوکرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔سونہ وار،اندرانگراوردیگرنزدیکی علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں سوموارکوعلی الصبح ہدایت دی گئی کہ وہ گھروں سے باہرآنے کی کوشش نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں کرفیونافذنہیں تھالیکن اندرون سڑکوں وگلی کوچوں پرپولیس وفورسزکے دستے جگہ جگہ تعینات کئے گئے تھے ،اسلئے لوگ گھروں میں رہے ۔اس دوران سیول لائنزمیں اُسوقت ٹیرگیس شلنگ اورنعرے بازی کی گونج سنائی دی جب بادامی باغ چلوپروگرام کے پیش نظرکئی دنوں سے روپوش سینئرمزاحمتی لیڈرمحمدیاسین ملک اپنے آبائی علاقہ مائسمہ سے درجنوں ساتھیوں بشمول خواتین کی قیادت کرتے ہوئے ایک جلوس لیکرنمودارہوئے۔سوموارکو صبح کے 11بجے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ملک یاسین بزرگوں،نو جوانوں،خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ بادامی باغ کنٹونمنٹ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ پرامن عوامی ریلی میں شامل پرجوش خواتین تھیں جو کفن باندھے ،ہاتھوں میں ’بھارتی ظالمو ! آؤ ہم سبھی کو مادو‘ کی تحریر یں لئے اور قتل و غارت کے لامتناہی سلسلے کی سخت الفاظ میں مذمت کررہی تھیں ۔
بڈشاہ چوک کے نزدیک پہلے سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات تھے اورجب ملک یاسین کی قیادت میں برآمدکیاگیااحتجاجی جلوس نزدیک پہنچاتوپولیس وفورسزنے کارروائی عمل میں لائی ۔احتجاجی مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کئی گولے داغے گئے جبکہ اس دوران پولیس وفورسزنے محمدیاسین ملک کوکئی ساتھیوں لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین مشتاق اجمل، محمد حنیف ڈار،امتیاز احمد ڈار،امتیاز احمد گنائی،شاکر احمد آہنگر،فیاض احمد ،بشارت احمد اور کئی دوسرے افرادسمیت گرفتارکرلیا۔لبریشن فرنٹ ترجمان نے کہاکہ گرفتاری کے دوران ملک یاسین زخمی ہوگئے اورپولیس اہلکاروں نے چیئرمین فرنٹ کونیم بے ہوشی کی حالت میں حراست میں لیکرساتھیوں سمیت پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔ گرفتاری سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے محمدیاسین ملک نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ سبھی ایک ساتھ بادامی باغ آرمی کنٹونمنٹ جو کشمیر میں فوج کا مرکز ہے پر جاکر بھارتی آرمی اور ریاست سے کہیں کہ کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایک ایک کرکے قتل کرنے کے بجائے وہ ہم سبھی کو ایک ساتھ قتل کرڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی اور نوآبادیاتی ذہن والی فورسز کو کشمیریوں کے خون کی لت پڑچکی ہے اور ہم آج اپنے آپ کو پیش کرکے ان کی اس لت کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ پلوامہ میں کیا گیا قتل عام اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد قتل عام نہیں ہے بلکہ بھارتی فوج اور فورسز نے اس سے قبل بھی ایسے کئی خونین واقعات رقم کررکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری معصومین کا خون بہاتے بہاتے بھارتی فوج اور فورسز اب انسانی خون کے عادی بن چکے ہیں ۔ اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ ہلاکتوں کیخلاف بطور احتجاج بادامی باغ آرمی ہیڈ کواٹر سریگر چلو کال پروگرام کی پیروی میں مزاحمتی قائد میرواعظ محمد عمر فاروق نے اپنی خانہ نظر بندی توڑتے ہوئے کئی مزاحمتی لیڈروں اور کارکنان کے ہمراہ بادامی باغ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس اور فورسز کی ایک بھاری جمعیت نے اُنہیں گرفتار کرکے نزدیکی پولیس تھانہ نگین میں بند کردیا۔ گرفتاری سے قبل موقعہ پر موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا سرکاری فورسز کشمیر میں لوگوں کو مارنے کی ایک میشین بن گئی ہے اور اس کیلئے انہیں باقاعدہ لائسنس حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک دن میں دس کشمیریوں جن میں ایک 8 ویں جماعت کا طالب علم ، نونہال معصوم بچی کے والد بھی شامل ہیں نے کشمیریوں کے دل مجروح کردئے ہے اور پورا کشمیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف ہمارے معصوم نوجوانوں کو اندھا دھند فائرنگ سے چن چن کے قتل کیا جارہا ہے وہیں دوسری جانب ان معصوموں کو دہشت گرداور بالائی ورکر کا نام دے کر ان کے قتل کا جواز پیش کیا جارہا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کشمیر میں معصوموں کی ہلاکت کو دہشتگردی کارنگ دے کر درحقیت ہندوستان کے لوگوں کو یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے تاکہ ان وؤٹ بنک کی سیاست کر کے آنے والے انتخابات میں فائدے حاصل کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا تاہم دنیااصل حقیقت سے واقف ہے کہ کشمیری عوام جو تنازعہ کشمیر کا پُر امن حل چاہتے ہیں کے اومظالم اور پُر تشدد کارروائیوں میں روز مرہ کی بنیادوں پرتشویش ناک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرواعظ نے کہا کشمیری عوام اپنے لخت جگروں اور نہتے شہروں کو شہید کئے جانے پر پُر ہڑتال کے ذریعے تعزیت،ہمدردی اور اپنے دکھی جذبات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ احتجاج باقی تمام راستوں پر غدغنیں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا قتل و غارت گری کے بعد فوج کی جانب سے یہ کہنا کہ ’’فوج عوام کے ساتھ ہے‘‘ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ انہوں نے کہا قیادت کشمیر میں دائمی امن و امان کی متمنی ہے تاہم قبرستان کی خاموشی ہمارے لئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام بھی امن و امان کی خواں ہے جس کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔دریں اثناء پولیس نے حریت(گ)کی خواتین اکائی مسلم خواتین مرکزکی جانب سے بادامی باغ تک جلوس لیکرجانے کی کوشش کاناکام بناتے ہوئے خاتون مزاحمتی لیڈریاسمین راجہ کوپریس کالونی سری نگرمیں کئی رفقاء سمیت حراست میں لیکرپولیس تھانہ منتقل کیا۔خیال رہے مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظرپولیس نے پہلے ہی سیدعلی گیلانی ،محمداشرف صحرائی ،انجینئرہلال احمدوار،جاویداحمدمیر،محمدیوسف نقاش ،ظفراکبر بٹ ،سیدامتیازحیدر،محمدیاسین عطائی ،بشیراحمدبٹ بڈگامی اوردیگرکئی مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں کوگھروں اورمختلف پولیس تھانوں میں بندکردیاہے ۔
دنیا
آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اس کی بندش سے انہیں روزانہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا، “وہ (ایران) اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یومیہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کما سکیں۔” مسٹر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کہہ رہا ہے کہ وہ اسے بند کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ ‘اپنی ساکھ بچانا’ چاہتے ہیں، جب کہ امریکہ نے اس کی مکمل طور پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار روز قبل کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ ایران اس آبنائے کو فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا، ’’لیکن اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا، جب تک کہ ہم ان کا بقیہ ملک اور ان کے لیڈروں کو بھی اڑا کر نہ رکھ دیں۔”
ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں اور امریکی میڈیا، خاص طور پر وال سٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کو ’نیچا دکھانے‘ یا اس کی تنقید کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے جوہری مقامات کو اس حد تک مکمل تباہ کر دیا ہے کہ ’خون کے پیاسے ایران‘ ان تک پہنچنے یا کھود کر نکالنے سے قاصر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی خلائی فورس کے پاس پچھلے جون میں حملہ کیے گئے تینوں مقامات کے ہر انچ پر کیمرے کی نگرانی ہے۔
‘آپریشن مڈ نائٹ ہیمر’ 22 جون 2025 کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی فوجی حملوں کا خفیہ نام ہے۔
ان حملوں کا بنیادی مرکز تین بنیادی جوہری انفراسٹرکچر سائٹس فورڈو یورینیم افزودگی پلانٹ، نتنز جوہری تنصیب اور اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر تھے۔
اس آپریشن میں امریکی فضائی اور بحری طاقت کا زبردست مظاہرہ پیش کیا گیا، جس میں 7 بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار شامل تھے، جنہوں نے براہ راست امریکہ سے 18 گھنٹے کا مشن چلایا۔ اس میں پہلی مرتبہ جنگ میں استعمال کیے گئے 30 ہزار پاؤنڈ کے ’بنکر بسٹر‘ بم، ایک امریکہ آبدوز سے داغے گئے 30 ٹومہوک میزائل اور ایرانی فضائی دفاع ہو تباہ کرنے کے لیے ایف-35 اور ایف-22 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں سمیت 125 سے زیادہ طیارے شامل تھے۔
امریکی حکام اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، ان سائٹس کو “انتہائی شدید نقصان” پہنچا۔ پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً دو سال پیچھے کر دیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کردی
واشنگٹن، امریکہ نے منگل کو کہا کہ اس نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے ہندوستانی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کی قیادت کی اپیل کے بعد، ایران پر منصوبہ بند فوجی حملے میں تاخیر اور جنگ بندی میں توسیع پر رضامند ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں جسے انہوں نے ایران کے اندر “سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار” صورتحال کے طور پر بیان کیا ہے، انہوں نے تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے متفقہ پوزیشن کے فقدان پر تشویش کا اظہاربھی کیا۔
بیان کے مطابق توقف کی درخواست پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کی تھی۔ واشنگٹن نے اس وقت تک کسی بھی جارحانہ کارروائی کو روکنے پر اتفاق کیا ہے جب تک کہ ایرانی رہنما اور نمائندے “مذاکرات کے لیے متفقہ تجویز” پیش نہیں کرتے۔
مسٹرٹرمپ نے کہا، “میں نے اپنی فوج کو ناکہ بندی جاری رکھنے اور تیار و قابل رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فعال دشمنی سے گریز کیا جائے تو بھی ایران پر دباؤ برقرار رہے گا۔
جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کہ ایران اپنی تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، “کسی نہ کسی طریقے سے،” بیان میں مزید کہا گیا کہ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات کو بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
یہ اقدام تیزی سے ابھرتے ہوئے علاقائی بحران میں سفارت کاری کے لیے ایک عارضی آغاز کا اشارہ ہے، جس میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تاہم، ناکہ بندی کا تسلسل بتاتا ہے کہ کشیدگی برقرار ہے اور اگر بات چیت میں کمی آئی تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
اس سے قبل تہران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک اور ایرانی بحری جہاز توسکا کو قبضے میں لینے پر امریکہ کی مذمت کرے اور اسے “بحری قزاقی” کا عمل قرار دیا جائے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، جو فی الحال رکی ہوئی ہے، میں اب تک تقریباً 4,000 جانیں جا چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئیں۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے قانون منظور کر لیا۔
تہران ، ایرانی میڈیا نے رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کیلئے قانون منظور کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لی جائے گی،قانون کے تحت ایران کو یہ حق ہو گا وہ حفاظتی خدمات کے نام پر جہازوں سے ٹیکس وصول کرے،قانون کے تحت یہ طے کیا جائے گا اہم آبی گزرگاہ سے کن ممالک کے جہاز گزریں گے،ایران مخالف ممالک کے بحری جہازوں پرسخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ دوسری جانب ایرانی اسپیکر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ کیا جنگ بیچ کر دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی 4 آپشنز امریکہ کے سامنے رکھ دیئے ۔
ان کا کہناتھا کہ کیا مہنگائی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو؟ کیا عوام کی قوت خرید سے محرومی کو عظیم بنانا چاہتے ہیں؟کیا چند طاقتوروں کو دوبارہ عظیم بنانے کے خواہشمند ہو؟کیا ایپسٹین اسکینڈل کودوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی ناکہ بندی ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیرت ہوئی ہم نے کل آبنائے ہرمز میں جو جہاز پکڑے اس میں ایران کیلیے تحائف تھے جو چین سے جا رہے تھے، چینی صدر شی جی پنگ سے میری اچھی انڈر اسٹیڈنگ ہے لیکن جنگ میں سب چلتا ہے، اس جہاز میں جو کچھ تھا وہ کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔
یو این آئی۔ م ا ع
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
جموں و کشمیر6 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ









































































































