جموں و کشمیر
بارہ مولہ میں چار منشیات فروش گرفتار :پولیس

سری نگر، منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف اپنا کریک ڈاون جاری رکھتے ہوئے بارہ مولہ پولیس نے چار منشیات فروشوں کی گرفتاری عمل میں لا کر ان کے قبضے سے ممنوع نشیلی اشیاءبرآمد کرکے ضبط کی۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ چندوسہ کے نزدیک پولیس نے ناکہ چیکنگ کے دوران دو افراد کو روک کر ان کی جامہ تلاشی لی جس دوران ان کے قبضے سے 40گرام ہیروئن برآمد ہوا۔
پولیس نے منشیات فروشوں کی شناخت فاروق احمد ڈار ولد غلام نبی ساکن چاکلو حال نجی بٹ کریری اور محمد الطاف صوفی ولد عبدالعزیز ساکن چاکلو بارہمولہ کے بطور کی دونوں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی ۔
موصوف ترجمان کے مطابق ایس ایچ او کنزر کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے دھوبی ون برزلہ کے نزدیک ناکہ لگایا جس دوران سومو گاڑی زیر نمبر JK05B-0134جس میں دو افراد سوار تھے کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی۔پولیس کے مطابق دوران تلاشی منشیات فروشوں کے قبضے سے 510گرام چرس جیسی نشیلی اشیاءاور 11نشہ آور ادویات کی بوتلیں برآمد کی گئیں۔پولیس نے گاڑی میں سوار منشیات فروشوں کی شناخت ہلال احمد وانی ولد بلال احمد وانی پسران غلام نبی ساکن برزلہ کنزر کے بطور کی ہے۔
دریں اثنا پولیس نے عوام الناس سے ایک دفعہ پھر اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو مطلع کریں۔
بتادیں کہ آئی جی کشمیر نے جمعے کے روز بارہ مولہ کا دورہ کرنے کے موقع پر آفیسران سے تاکید کی تھی کہ وہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرئے ۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
این سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
سری نگر، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے سراج العلوم ویلفیئر فاؤنڈیشن کے لیے ایک عبوری لیکویڈیٹر مقرر کرتے ہوئے ادارے کو اپنے اثاثے فروخت یا منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔ ٹریبونل نے مشاہدہ کیا کہ بادی النظر میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کو “ہندوستان کی خودمختاری، سلامتی اور سالمیت کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں” کے لیے استعمال کیا گیا۔
این سی ایل ٹی کی چنڈی گڑھ بنچ نے 11 جون کو یہ حکم رجسٹرار آف کمپنیز (آر او سی)، جموں و کشمیر اور لداخ کی جانب سے کمپنیز ایکٹ کی دفعات 271 اور 272 کے تحت دائر درخواست پر جاری کیا، جس میں سیکشن 8 کمپنی کو تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
ٹریبونل نے حکم دیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے منسلک سرکاری لیکویڈیٹر فوری طور پر کمپنی کے معاملات، اثاثوں، بینک کھاتوں، مالیاتی ریکارڈ اور دستاویزات کا کنٹرول سنبھالے، جب تک مزید کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔
ٹریبونل نے کمپنی کے ڈائریکٹروں اور عہدیداروں کو 30 دن کے اندر اثاثوں اور واجبات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں سراج العلوم کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے کے بعد کی گئی ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے والا یہ جموں و کشمیر کا پہلا دینی مدرسہ ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ ادارے کے کالعدم جماعت اسلامی کے ساتھ خفیہ روابط تھے، جبکہ اس پر قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں اور انتہاپسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
مدرسے پر پابندی کے بعد جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جہاں سینکڑوں طلبہ اور والدین نے ادارہ دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر کی تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کے مقدمے میں ڈی سی ایم او شوپیاں کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپہ
سری نگر، کشمیر کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے ہفتہ کے روز ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر (ڈی سی ایم او) شوپیاں کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کرکے ناجائز سرکاری مراعات حاصل کرنے کے مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔
حکام کے مطابق جنوبی کشمیر کے اضلاع شوپیاں اور پلوامہ میں یہ تلاشیاں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت درج ایف آئی آر کے سلسلے میں انجام دی گئیں۔
ای او ڈبلیو کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی سروس ریکارڈ میں تاریخِ پیدائش کے اندراجات میں مبینہ جعلسازی اور رد و بدل کے ذریعے غیر مستحق فوائد حاصل کرنے کی تحقیقات کا حصہ ہے۔
آپریشن کے دوران کیس سے متعلق دستاویزات اور دیگر مواد کا جائزہ لیا گیا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق تلاشیاں قانونی طریقۂ کار کے مطابق اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر شوپیاں کے دفتر اور پلوامہ کے علاقے تھامونا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
ہندوستان7 days agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ




































































































