ہندوستان
بہار نتائج میں عرب آمرانہ انتخابات کی جھلک، ہندستان میں جمہوری عمل بے معنی ہوتا جا رہا ہے

نئی دہلی بہار اسمبلی انتخابات کے غیرمعمولی اور یکطرفہ نتائج پر اپنے شدید ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے الزام لگایا کہ بہار میں سامنے آئے انتخابی نتائج جمہوری ڈھانچے کے لیے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں محمد ادیب نے کہا کہ: “جس نوعیت کے نتائج بہار میں دیکھنے کو ملے ہیں، وہ ہمیں ان عرب ممالک کی یاد دلاتے ہیں جہاں بادشاہت یا ڈکٹیٹرشپ کے زیرِ سایہ انتخابات محض رسمی کارروائی ہوتے ہیں اور جہاں حکمراں جماعت کے حق میں 90 فیصد ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ ہندستان جیسے جمہوری ملک میں ایسے نتائج نہ تو متوقع ہوتے ہیں اور نہ ہی قابلِ قبول۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتخابی نتائج اسی طرز پر آنے لگیں تو پھر ہندستان میں انتخابات کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔
محمد ادیب نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک کے جمہوری و آئینی اداروں پر “مکمل گرفت” قائم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتِ حال میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ممکن ہی نہیں رہتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “انتخابی مہم کے دوران بی جے پی لیڈران کی ریلیوں میں خالی کرسیاں نظر آتی تھیں، عوامی ناراضگی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ عین انتخابات کے دوران ہر خاتون ووٹر کے اکاؤنٹ میں دس دس ہزار روپئے ٹرانسفر کیا جانا اور الیکشن کمیشن کا خاموش تماشائی بنے رہنا اور پھر این ڈی اے الائنس کی غیرمعمولی کارکردگی الیکشن کمیشن کے ساتھ مضبوط گٹھ جوڑ کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔”
انتخابی نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کے انتخابی نتائج کے اثرات صرف بہار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کے دیگر خطوں میں بھی مسلم قوم کو مزید مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
محمد ادیب نے انڈیا الائنس کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ: “اویسی کی پارٹی سے اتحاد نہ کرنا انڈیا الائنس کی بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوئی۔ اگر اتحاد ہو جاتا تو کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹتا بلکہ نتائج مختلف اور بہتر ہوتے۔”
انہوں نے الائنس کی ناقص کارکردگی کی بنیادی وجہ اندرونی اختلافات کو قرار دیتے ہوئے کہا: “جب اتحاد میں شامل پارٹیاں آپس میں ہی مقابلہ کریں گی تو نتائج ایسے ہی آئیں گے۔ بہار میں شکست کی سب سے بڑی وجہ الائنس کی اندرونی کھینچ تان اور بدانتظامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔ م الف
ہندوستان
ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل ملکی مفاد کے خلاف، مودی حکومت ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگی ہے: جے رام
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ہند-امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہندوستان کے اقتصادی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر دو روزہ ہندوستان دورے پر قومی راجدھانی (دہلی) میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 فروری کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری کردہ مشترکہ بیان کے تحت امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ہندوستان نے امریکی زرعی اور صنعتی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم یا کم کرنے اور پانچ سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر تک کی خریداری کا یقین دلایا تھا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی ‘ریسیپروکل ٹیرف’ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا، جس سے ہندوستان کو دی گئی ٹیرف رعایت مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ہندوستان سمیت تمام تجارتی شراکت داروں پر عارضی طور پر 10 فیصد ٹیرف لگا دیا اور اب ہندوستان امریکی جانچ کے دائرے میں ہے۔
کانگریس لیڈر کا الزام ہے کہ امریکہ اس جانچ کا استعمال ہندوستان پر دباؤ بنانے کے لیے کر رہا ہے تاکہ وہ مجوزہ ٹریڈ ڈیل پر دستخط کر دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے “سودا نہیں بلکہ لوٹ” ثابت ہوگا اور اس سے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے کسان شدید طور پر متاثر ہوں گے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے باوجود امریکہ نے ان پر بھی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو کسی بھی ایسے تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں، جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو ملائیشیا سے سبق لینا چاہیے، جس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنی ٹریڈ ڈیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے وزیر اعظم مودی پر صدر ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا، جس میں امریکی صدر نے کئی بار کہا ہے کہ انہوں نے “آپریشن سندور” رکوایا تھا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس دعوے کی عوامی طور پر تردید کرنی چاہیے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی کے لیے جوڈیشل آفیسر کی عرضی مسترد کی، کہا کہ وہ کولیجیم کو ہدایت نہیں دے سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کو ہماچل پردیش کے ایک جوڈیشل آفیسر کی اس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے پر غور کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ جج کے طور پر ترقی سے متعلق معاملات میں ہائی کورٹ کولیجیم کو کوئی عدالتی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتیدرخواست گزار اروند ملہوترا، جو اس وقت دھرم شالہ میں فیملی کورٹ کے پرنسپل جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے ان سے جونیئر افسران کے ناموں کی سفارش کی تھی، جن کی ترقیوں کو بعد میں سپریم کورٹ کولیجیم نے منظوری دے دی تھی۔
درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ بلبیر سنگھ نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں ہماچل پردیش ہائی کورٹ کولیجیم کو ہدایت دی تھی کہ وہ جج کے عہدے پر ترقی کے لیے درخواست گزار اور ایک اور جوڈیشل آفیسر کے ناموں پر دوبارہ غور کرے۔
انہوں نے عرض کیا کہ جہاں دوسرے افسر کے معاملے میں اس ہدایت پر عمل کیا گیا، وہیں درخواست گزار کے سلسلے میں ایسی کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی۔ تاہم، جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جے مالیا باگچی کی بنچ نے اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے درخواست گزار کی امیدواری کو مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے سینئر کونسل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ درخواست گزار دفعہ 32 کے تحت دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، درخواست گزار نے ہائی کورٹ کی متعلقہ اتھارٹی سے انتظامی سطح پر رجوع کرنے یا دیگر عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے عرضی کو نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ کولیجیم نے 3 جون کو جوڈیشل افسران چراغ بھانو سنگھ، بھوپیش شرما اور یوگیش جسوال کے ناموں کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ میں جج کے طور پر ترقی دینے کے لیے منظوری دی تھی۔
اس سے قبل، 2024 میں، ڈسٹرکٹ ججز چراغ بھانو سنگھ اور اروند ملہوترا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے جج کے عہدے پر ترقی کے لیے سفارشات پیش کرتے وقت ان کی میرٹ اور سینیرٹی کو نظر انداز کیا تھا۔ اس سال ستمبر میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ان کی امیدواری پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وزیر خارجہ جے شنکر منگولیا اور کوریا کے چار روزہ دورے پر
نئی دہلی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر پیر سے منگولیا اور جنوبی کوریا کے چار روزہ سرکاری دورے پر رہیں گے وزارت خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ منگل تک منگولیا کا دورہ کریں گے دورے کے دوران وزیر خارجہ منگولیا کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور اپنی ہم منصب وزیر خارجہ بی بٹسیٹسیگ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے اس کے بعد وہ بدھ کو جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے۔ دو روزہ دورے کے دوران وزیر خارجہ کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ وہ جمعرات کو جیجو میں امن اور خوشحالی کے لیے جیجو فورم میں کلیدی خطبہ بھی دیں گے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
ہندوستان6 days ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“





































































































