اہم خبریں
ترین کا ممکنہ گروپ: پاکستانی سیاست میں ہل چل

جہانگیر ترین نے آج لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ کوئی فارورڈ بلاک بنانے نہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نےا بھی فارورڈ بلاک بنایا ہے لیکن ان کے قریبی دوستوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف کارروائیاں نہ رکیں تو ملک میں بڑے پیمانے پر سیاسی ہلچل مچ سکتی ہے۔
جہانگیر ترین کے ایک قریبی سیاسی ساتھی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرڈی ڈبلیو کو بتایا، “جہانگیر ترین کے ساتھ تقریبا 12 ارکان قومی اسمبلی اور تیس سے زائد اراکین پنجاب اسمبلی ہیں۔ جہانگیر ترین چاہتے ہیں کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں لیکن اگر ان کے خلاف کارروائی اسی طرح چلتی رہی تو پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور مرکز میں بھی سیاسی ہلچل مچے گی۔‘‘
سیاسی انتقام
پی ٹی آئی کے اس رہنما کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ہوش کے ناخن لینے کے بجائے انتقامی کارروائیوں کو تیز کردیا ہے۔ “رحیم یار خان کے ایک وفاقی وزیر کے پاس 10 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ہیں۔ یہ فنڈز ترین کے قریبی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو نہیں دیے جارہے، جو اگلے انتخابات سے پہلے اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عثمان بزدار نے جہانگیرترین گروپ کے افراد کو بلا کر لالچ دینے کی بھی کوشش کی اور دوسرے طریقوں سے بھی ان کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ جہانگیر ترین کی حمایت ترک کر دیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔‘‘
ترین مخالف گینگ
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کا مزید کہنا تھا کہ لاہور سے ایک وفاقی وزیر اور ملتان سے ایک دوسرے وفاقی وزیر جہانگیرترین کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ “اس کے علاوہ ایک غیر منتخب معاون خصوصی بھی جہانگیر ترین کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ عثمان بزدار کا صرف ایک ووٹ ہے۔ پنجاب کی کئی نشستوں پر عمران خان کے ممکنہ طور پر ذاتی حیثیت میں پانچ سے دس ہزار ووٹ ہونگے لیکن ان نشستوں پر جو روایتی سیاستدان انتخابات لڑتے ہیں ان کے ووٹوں کی تعداد چالیس سے پچاس ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ لہذا یہ سیاسی طور پر عدم پختگی کا ثبوت ہے کہ عمران خان ایسے لوگوں کو نظر انداز کر دیں اور جہانگیر ترین کے خلاف کارروائیاں نہ رکوائیں۔‘‘
مسئلے کا حل
ملک کے کئی حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان دوریاں بڑھتی جارہی ہے خصوصا اس گروپ کی تشکیل کے بعد فاصلے مزید پڑھیں گے۔ تاہم سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رہنما اسحاق خاکوانی کا کہنا ہے کہ ان فاصلوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “عمران خان نے خود بیرسٹر علی ظفر کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ جہانگیر ترین کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر اور ثبوتوں کی جانچ پڑتال کریں اور وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں۔ میرا خیال ہے کہ حکومتی حلقوں کو اس رپورٹ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے اور جہانگیر ترین گروپ کی طرف سے بھی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘‘
عمران خان کو مستعفی ہوجانا چاہیے
نون لیگ کے رہنما اور سابق سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اکثریت کھوچکے ہیں اور ان کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “سیاسی جماعتوں کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی ان کو چھوڑ گئے ہیں یا علیحدگی کا اعلان کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پارلیمنٹ میں اکثریت ختم ہوگئی ہے۔ اگر یہ دنیا کی کسی جمہوری ملک میں ہوتا تو وہاں وزیراعظم استعفیٰ دے چکا ہوتا۔ عمران خان مغربی جمہوری ممالک کی بڑی مثالیں دیتے ہیں لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اکثریت کھونے کے بعد وہ استعفیٰ دے دیں۔ میرے خیال میں عمران خان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘
جاوید عباسی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جہانگیر ترین نے ابھی تک نون لیگ سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ “لیکن اگر وہ رابطہ کرتے ہیں تو پھر پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں اگر مرکز اور پنجاب میں حکومت گرتی ہے اور فوری طور پر الیکشن ہوتے تو پارٹی کو جہانگیرترین کا ساتھ دینا چاہیے۔ بصورت دیگر ترین کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔‘‘
مشکل وقت
جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ آنے والے مہینے عمران خان کے لیے بہت مشکل ہوں گے۔ “عمران خان کو پہلے ہی سیاسی طور پر بہت سارے چیلنجیز کا سامنا ہے اور اب یہ گروپ بھی نمودار ہو گیا ہے جو پی ٹی آئی کی گورنمنٹ کو بجٹ پاس کرنے سے روک بھی سکتا ہے یا اس میں رکاوٹیں بھی کھڑی کر سکتا ہے۔ میرا خیال ہے بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے بہت ساری مشکلات پیدا ہوں گی۔ ملک میں غیر سیاسی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اور اب یہ قائم رہے گی۔‘‘
اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی
لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ “اسٹبلشمنٹ شروع سے ہی عثمان بزدار کو پسند نہیں کرتی اور اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار بھی کر چکی ہے لیکن عمران خان عثمان بزدار کو وزیراعلی رکھنے پر بضد ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے بھی جی ایچ کیو اور وزیراعظم ہاؤس میں اختلاف ہے۔ خارجہ امور کے کچھ پہلوؤں پر بھی وزیراعظم عمران خان اور طاقت ور حلقے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ تو میرے خیال میں ان تمام اختلافات کے پیش نظر اسٹبلشمنٹ نے جہانگیر ترین کو کھڑا کیا ہے تاکہ عمران خان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور اختلافی امور کو اسٹیبلشمنٹ کی منشاء کے مطابق حل کیا جاسکے۔‘‘Dw
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان7 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر7 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
ہندوستان7 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا1 week agoامریکہ ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع




































































































