تازہ ترین
جموں و کشمیر میں دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ پابندی

جموں و کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ 4 جی پر پابندی کا 17واں ماہ چل رہا ہے جس سے تعلیم و تجارت شدید طور سے متاثر ہے۔
مواصلاتی کمپنیاں صارفین سے 4 جی انٹرنیٹ کے پیسے مسلسل لے رہی ہیں لیکن سروس 2 جی فراہم کر رہی ہیں۔ صارفین اس سے سخت ناراض ہیں۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی سے ایک روز قبل مواصلاتی نظام پر پابندی عائد کی تھی۔ وہیں، 2 جی انٹرنیٹ خدمات 25 جنوری 2020 کو بحال کیا گیا۔
جموں و کشمیر واحد ایسا خطہ ہے جہاں سنہ 2012 سے 226 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات پر پابندی عائد کی جا چکی ہے جبکہ پانچ اگست سے یہ انٹرنیٹ پر دنیا کی سب سے طویل ترین پابندی مانی جا رہی ہے۔
سنہ 2020 میں جموں و کشمیر میں 46 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات منقطع کی جا چکی ہیں جن میں جنوبی کشمیر کا پلوامہ اور شوپیان اضلاع سر فہرست ہیں-
ان دو اضلاع میں سنہ 2020 میں بیشتر اوقات سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم آرائیوں سے قبل ہی 2 جی انٹرنیٹ کو منقطع کیا گیا ہے- اس کے علاوہ وادی میں 15 اگست اور 26 جنوری کے ایام پر بھی انٹرنیٹ خدمات منقطع کی جا رہی ہیں۔
4 جی انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے صارفین کا رد عمل غم و غصے سے بھرا ہوا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ کہ گزشتہ ایک برس سے وہ لگاتار 4 جی کے حساب سے موبائل ریچارج کروارہے ہیں لیکن خدمات 2 جی کے دستیاب ہے۔
حالیہ دنوں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں میں پریس کانفرس کے دوران کہا کہ لوگ 4 جی انٹرنیٹ سے متعلق جلد ہی خوش خبری سنیں گے۔ تاہم اس بیان کے ایک روز بعد ہی انتظامیہ نے 4 جی پابندی میں مزید توسیع کر دی۔
مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کو 4جی انٹرنیٹ بحال کرنا چاہیے یا کچھ نئی اسکیم جاری کرنے کے احکامات صادر کرے جس سے وہ 2 جی سروس کے مطابق ہی رقم ادا کر سکے ۔
عام لوگ، طلباء اور تاجر 4 جی پر پابندی سے شدید پریشانی اور نقصان میں مبتلا ہیں- گزشتہ برس کشمیر کی تاجر انجمن کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ اور کووڈ 19 لاک داؤن کی وجہ سے انہیں 40 ہزار کروڑ کا مالی نقصان ہوا-
جموں و کشمیر میں جہاں 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی جاری تو ہے وہیں 2 جی کو بھی ناساز گار حالات کے دوران وقتاً فوقتاً منقطع کیا جا رہا ہے۔
سنہ 2020 میں جموں و کشمیر میں 46 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات منقطع کیے جا چکے ہیں جن میں جنوبی کشمیر کا پلوامہ اور شوپیان اضلاع سر فہرست ہیں-
اب دیکھنا ہے کہ کیا جموں و کشمیر کی انتظامیہ عوام کے مطالبات پور غور کرتی ہے یا انہیں پھر نظر انداز کر دیتی ہے۔(ای ٹی وی)
ہندوستان
فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
نئی دہلی، فضایئہ کا ایک مال بردار طیارہ اے این 32 ہفتہ کو آسام کے جورهاٹ فضائیہ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہو گیا جس میں سوارفضائیہ کے پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ حادثے میں شہید ہوئے فضائیہ کے اہلکاروں میں دو اگنی ویر بھی شامل ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم نے فرض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو اس حادثے میں پانچ بہادر جوانوں کو کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حادثے کی جانچ کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ مال بردار طیارہ صبح دس بجے کے قریب فضائیہ کے جورهاٹ اسٹیشن پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے اترتے وقت اس میں آگ لگ گئی، جس سے یہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کے حادثے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ یہ طیارہ باقاعدہ پرواز پر تھا۔
طیارے میں آگ لگنے کے بعد یہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ فضائیہ کے شہید اہلکاروں میں طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہے جبکہ کو-پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ اے این-32 دو انجن والا مال بردار طیارہ ہے جو دہائیوں سے فضائیہ کے لیے لاجسٹکس کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں، خاص طور پر اونچے علاقوں اور دور دراز کے حصوں میں مختلف مہمات میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس حادثے نے اے این-32 بیڑے کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے کئی بڑے حادثوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک جون 2019 میں ہوا تھا، جب 13 لوگوں کو لے جا رہا ایک اے این-32 طیارہ آسام کے جورهاٹ سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے سے زیادہ دن چلے تلاشی اور بچاؤ مہم کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ طیارے میں سوار سبھی 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں 29 لوگوں کو لے جا رہا ایک اور اے این-32 طیارہ چنئی کے تامبرم اسٹیشن سے پورٹ بلیئر جاتے وقت خلیج بنگال کے اوپر لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کی طرف سے چلائی گئی سب سے بڑی تلاشی اور بچاؤ مہموں میں سے ایک کے باوجود یہ طیارہ کئی برسوں تک لاپتہ رہا۔ آخر کار 2024 میں سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ ملا جس سے سبھی 29 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
اے این-32 طیارہ 1980 کی دہائی سے ہی فضائیہ کے مال بردار بیڑے کی ریڑھ رہا ہے۔ اس طیارے نے فوجیوں کی آمد و رفت، لاجسٹکس سپلائی مشن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور آفات سے راحت کے کاموں میں اہم کردار نبھایا ہے۔ طیارے نے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں اور سرحدی علاقوں میں مہمات کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ وقت کے ساتھ، اس طیارے میں ایوی اونکس، نیویگیشن سسٹم اور آپریشنل اپ گریڈیشن کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
امریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔ بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
واشنگٹن-تہران بات چیت میں “امید” اور “احتیاط” ایک ساتھ جاری
واشنگٹن، تہران، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری “تناؤ اور مذاکرات” کے چکر میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان “معاہدہ متن تیار ہے” کے بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ہم نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے” کے اشاروں سے تیزی پکڑنے والے اس عمل کے دوران، میز پر موجود شرائط اور متفقہ “اسلام آباد معاہدہ” کی تفصیلات واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
تہران کے نمائندے ہارون آئکاچ اور واشنگٹن کے رپورٹر تونا شانلی کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے “متفقہ ضابطے” کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات “حتمی دستخط” سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے اس مسودے کے حوالے سے جسے وہ “اسلام آباد معاہدہ” کہتے ہیں، تہران کی جانب سے آنے والی معلومات ایران کی حکمتِ عملی اور سرخ لکیروں کو واضح کرتی ہیں۔ ہارون آئکاچ کے بیان کے مطابق؛ تہران انتظامیہ نے سب سے نازک مسئلے یعنی جوہری معاملے کو “دوسرے مرحلے” میں رکھنے کی پیشکش قبول کی ہے۔
ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر واضح طور پر اعتراض کیا ہے اور اس کی جگہ اس ذخیرے کی “شرح افزودگی” میں تحفیف لانے کی تجویزپیش کی ہے۔ آبنائے ہرمز کو تجارتی نقل و حمل کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے؛ تاہم سیکیورٹی کا سابقہ درجہ بحال نہیں ہوگا اور اسے ایران اور عمان کے کنٹرول میں رکھے جانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان میں حملوں سمیت علاقے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس عمل کے دوران ایران کے بین الاقوامی نظام میں موجود مالی اثاثوں کی واپسی کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔
تونا شانلی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ذرائع اور ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کی بنیاد پر سامنے آنے والا “پانچ نکاتی منصوبہ” مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
– جوہری مواد کی منتقلی: امریکہ جوہری ذخیرے کے تلف یا ایران سے باہر منتقل کیے جانے پر مُصر ہے۔
– جوہری پروگرام کا خاتمہ: پروگرام کے مکمل طور پر ختم کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
– مطابقت شرطی واپسی: منجمد فنڈز کو آزاد کرنے کے لیے ‘معاہدے کی مکمل پابندی’ شرط رکھی گئی ہے۔
– آبنائے ہرمز: محاصرہ ختم کیا جائے اور آبنا کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
– دہشت گردی کی مالی معاونت: علاقائی گروپوں کو فراہم کردہ مالی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ
طے پا گیا تو ایران کی بین الاقوامی نظام میں مکمل شمولیت کا راستہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔ اس تناظر میں ایک وسیع اقتصادی پیکیج زیرِ غور ہے جو حتیٰ کہ امریکی کمپنیوں کو بھی ایران کے تیل تک رسائی فراہم کرے گا۔ فریقین کے اسی ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ملاقات کے امکان کے پیشِ نظر، سفارتی ذرائع اس عمل کو ‘امید افزا مگر محتاط’ انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا2 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک




































































































