ہندوستان
جی-20 سمٹ کے لیے مودی جنوبی افریقہ کے لیے روانہ

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی جی -20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کی صبح تین روزہ دورے پر جنوبی افریقہ روانہ ہوگئے۔
جنوبی افریقہ روانگی سے قبل مسٹر مودی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جی-20 چوٹی کانفرنس پہلی بار کسی افریقی ملک میں منعقد ہو رہی ہے، اس لیے اس کی بہت اہمیت ہے اور یہ کہ وہ اس چوٹی کانفرنس میں “وسودھیو کٹمبکم” کے نقطہ نظر کی بنیاد پر ہندوستان کی بات رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی مسائل پر بات کرنے کا ایک اچھا موقع ہوگا اور وہ اس سربراہی اجلاس میں شرکت اور بہت سے عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں۔
یہ مسٹر مودی کا جنوبی افریقہ کا چوتھا سرکاری دورہ ہے، جو جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی دعوت پر جوہانسبرگ کا سفر کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا، “یہ ایک خاص چوٹی کانفرنس ہوگی کیونکہ یہ افریقہ میں منعقد ہونے والا پہلا جی-20 سربراہی اجلاس ہوگا۔ افریقی یونین 2023 میں جی-20 کی ہندوستان کی صدارت کے دوران جی-20 کا رکن بنا تھا۔”
انہوں نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس اہم عالمی مسائل پر بات چیت کا موقع ہوگا۔ اس سال کے جی20 کا تھیم “یکجہتی، مساوات اور پائیداری” ہے جس کے ذریعے جنوبی افریقہ نے ہندوستان اور برازیل میں ہونے والی پچھلی سربراہی کانفرنسوں کے نتائج کو آگے بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں کانفرنس میں ‘وسودھیو کٹمبکم’ اور ‘ایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل’ کے ہمارے وژن کے حساب سے ہندوستان کا نقطہ نظر پیش کروں گا۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت اور چوٹی کانفرنس کے موقع پر ہندوستان، برازیل اور جنوبی افریقہ کے اہم پلیٹ فارم (آئی بی ایس اے) میٹنگ میں شرکت کے منتظر ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس دوران وہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے ہندوستانی کمیونٹی کے ارکان سے بھی بات چیت کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ جوہانسبرگ میں ہفتہ اور اتوار کو جی 20 ممالک کے لیڈرز کا 20 واں اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ مسلسل چوتھا سال ہے کہ جی 20 سربراہی اجلاس کسی ترقی پذیر ملک میں منعقد ہو رہا ہے۔
جی20 کے اراکین میں دنیا کی بڑی معیشتیں شامل ہیں، جو عالمی جی ڈی پی کا 85 فیصد، بین الاقوامی تجارت کا 75 فیصد، اور دنیا کی دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
جی20 میں 19 ممالک (ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کناڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندستان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جمہوریہ کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، یونائیٹڈ کنگڈم اور امریکہ)، یورپی یونین اور 2023 سے، افریقی یونین شامل ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جو ملک اپنے ہتھیار خود بناتا ہے، وہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے: راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو صرف ایک ضرورت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ امن، ترقی اور اقتصادی مضبوطی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنے ہتھیار خود بناتا ہے، وہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے شردی میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ ایک نجی کمپنی این آئی بی ای گروپ کے دفاعی مینوفیکچرنگ کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ اس کمپلیکس کا مقصد جدید توپ نظام، میزائل اور خلائی ٹیکنالوجی، راکٹ سسٹم، انرجیٹک میٹریل اور خودکار دفاعی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔
اس موقع پر ہندوستان کے پہلے 300 کلومیٹر رینج والے یونیورسل راکٹ لانچنگ سسٹم سوریہ استر کو بھی باضابطہ طور پر روانہ کیا گیا۔ اس نظام کے لیے ایک میزائل کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
تقریب کے دوران دیسی ساختہ ٹی این ٹی پلانٹ ٹیکنالوجی، آر ڈی ایکس پلانٹ ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید بایو انرجی پر مبنی کمپریسڈ بایو گیس پلانٹ کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ اسمبلی کے شعبے میں این آئی بی ای گروپ اور بلیک اسکائی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا تبادلہ بھی ہوا۔
وزیر دفاع نے گولہ بارود کی تیاری میں خود کفالت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیا کمپلیکس ہندوستانی مسلح افواج کی عملی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے صنعتی نظام کو بھی مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دفاعی پیداوار زیادہ تر سرکاری اداروں اور اسلحہ ساز فیکٹریوں تک محدود تھی، لیکن حکومت نے اب اس شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے بھی کھول دیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کی صلاحیتوں کو پہچانا کیونکہ یہی شعبہ ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی جنگوں کا فیصلہ فوج کے حجم سے نہیں بلکہ ہتھیاروں، جدید ٹیکنالوجی اور آٹومیشن میں برتری سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے آپریشن سندور کے دوران اپنی جدید دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی نجی صنعت مستقبل کی جنگی ضروریات کو بخوبی سمجھتی ہے اور ملک کو جدید ترین دفاعی نظام فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کو ہتھیاروں اور آٹومیشن کے شعبے میں عالمی مرکز بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میک اِن انڈیا مہم کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کی تیاری کو مسلسل فروغ دے رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے کہ ہندوستان دفاعی ٹیکنالوجی اور خودکار نظام میں دنیا میں سب سے آگے رہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
ہندوستان
مرکزی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے : کیجریوال
نئی دہلی، 2 عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھانے پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے۔
مسٹر کیجریوال نے ‘ایکس’ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا، “آج پھر سے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دن میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام تقریباً 4 سے 5 روپے فی لیٹر بڑھ گئے ہیں۔ گیس سلنڈر کے دام بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
لوگ اس قدر ڈرے اور صدمے میں ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ حکومت آنے والے دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اور کتنا بڑھانے والی ہے؟ چاروں طرف افواہیں چل رہی ہیں کہ ابھی تو بہت بڑھے گا، پیٹرول 150 روپے تک جائے گا، پتا نہیں کتنا جائے گا؟ حکومت سے پوچھو تو حکومت کچھ نہیں بتا رہی۔” انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف دام بڑھ رہے ہیں، بلکہ ملک بھر میں پیٹرول، گیس اور ڈیزل کی قلت ہو گئی ہے۔ گجرات سے ایسی تصویریں آ رہی ہیں کہ کس طرح سے پیٹرول پمپس پر ٹریکٹروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، ڈیزل نہیں مل رہا ہے۔ کس طرح سے جگہ جگہ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی مچی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے گورکھپور میں لوگ رات کو سڑک پر سو رہے ہیں۔ اپنا گیس سلنڈر بھروانے کے لیے لائنیں لگا لگا کر، مچھردانی لگا کر سڑک پر رات رات بھر سو رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے اکولا اور بلڈھانہ میں پیٹرول اور ڈیزل لینے کے لیے ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ ملک کے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے تو سہی کہ آنے والے دنوں کے اندر کیا ہونے والا ہے، صورتحال کتنی خراب ہونے والی ہے؟ لیکن حکومت لوگوں کو کچھ بتا ہی نہیں رہی ہے۔
عآپ رہنما نے کہا، “روس اور ایران دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو سستے داموں پر تیل اور گیس دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہندوستان حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نہیں لیں گے۔ کیوں نہیں لیں گے؟ میں ہم وطنوں سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہندوستان حکومت کو روس اور ایران سے سستے داموں پر تیل اور گیس لینی چاہیے یا نہیں لینی چاہیے؟ یہ ملک ہمارا ہے، ان رہنماؤں کا نہیں ہے، کسی پارٹی کا نہیں ہے۔ ہم 140 کروڑ لوگوں کا ملک ہیں۔ مل کر آواز اٹھائیں گے تو حکومت کو اس ملک کے لوگوں کی سننی پڑے گی۔”
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے 19ویں روزگار میلے میں 51,000 تقررنامے تقسیم کیے، کہا کہ دنیا ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں شامل ہونا چاہتی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو 19ویں روزگار میلے کے تحت مختلف سرکاری محکموں اور اداروں میں نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو 51,000 سے زیادہ تقررنامے تقسیم کیے اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی ملک کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی سمت میں آگے لے جا رہی ہے۔
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ روزگار میلہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور ملک کی تعمیر میں ان کے کردار کو مضبوط کرنے کے تئیں حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، “ہندوستان کے نوجوان وکست بھارت کی جانب سفر کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ روزگار میلہ ہماری حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت یووا شکتی کو نئے مواقع کے ساتھ بااختیار بنایا جا رہا ہے۔”
ہندوستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ دنیا ملک کے نوجوان ٹیلنٹ اور تیز رفتار تکنیکی ترقی کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کے لیے بے تاب ہے۔ انہوں نے کہا، “دنیا ہندوستان کے نوجوانوں اور ہندوستان کی تکنیکی ترقی کے بارے میں بہت پرجوش ہے۔ آج دنیا ہندوستان کے ترقیاتی سفر کا حصہ بننا چاہتی ہے۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ کلین انرجی ، اہم معدنیات، گرین ہائیڈروجن اور پائیدار مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تیزی سے توسیع ہو رہی ہے، جس سے نوجوان ہندوستانیوں کے لیے نئے معاشی مواقع اور روزگار کی راہیں کھل رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا، “ان شعبوں میں شراکت داری ایک نئی معیشت اور نئے مواقع کے دروازے کھول رہی ہے۔”
حکومت کے طویل مدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہر بھارتی 2047 تک ایک وکست بھارت بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے نوجوانوں کے لیے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “آج ہر ہندوستانی ایک عظیم عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عزم 2047 تک ایک وکست بھارت بنانا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری روزگار کی پیداوار میں تعاون دے رہی ہے۔
وزیر اعظم نے دیہی ہندوستان میں آنے والی واضح تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بہتر رابطے (کنیکٹیویٹی) سے کسانوں، چھوٹے تاجروں اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “آج گاؤں والوں میں بھی تیز رفتار تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے رابطے کے ساتھ کسانوں، چھوٹے تاجروں اور طلبہ کے لیے نئی راہیں کھلی ہیں۔”
نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں سے پبلک سروس (عوامی خدمت) کو قومی خدمت کا ذریعہ سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستانی نوجوان دنیا بھر میں ہر شعبے میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں اور اسی جذبے اور توانائی کو گورننس میں بھی لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “آج ہندوستان کے نوجوان دنیا بھر میں ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہی جذبہ اور یہی توانائی عوامی خدمت میں بھی نظر آنی چاہیے۔”
وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی سمیت دیگر ممالک کے اپنے حالیہ دوروں کے دوران دستخط کیے گئے معاہدوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسی شراکت داریاں براہ راست ہندوستانی نوجوانوں کو فائدہ پہنچائیں گی اور ملک کی مستقبل کی ترقی کے امکانات کو مضبوط کریں گی۔ انہوں نے کہا، “یہ تمام معاہدے ایک روشن اور قابل ہندوستان کی ضمانت کے ساتھ آتے ہیں۔”
19واں روزگار میلہ ملک بھر میں 47 مقامات پر منعقد کیا گیا۔ نئے بھرتی ہونے والے امیدوار مختلف وزارتوں اور محکموں میں شامل ہوں گے، جن میں وزارت ریلوے، وزارت داخلہ، وزارت صحت اور خاندانی بہبود، محکمہ مالیاتی خدمات اور محکمہ اعلیٰ تعلیم شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق، اس اقدام کے آغاز کے بعد سے اب تک منعقد کیے گئے 18 روزگار میلوں کے ذریعے تقریباً 12 لاکھ تقررنامے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
روزگار میلہ سرکاری محکموں میں اسامیوں کو مقررہ وقت پر پُرکرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے مرکز کے فلیگ شپ بھرتی مہم میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ بھرتی کا یہ تازہ ترین دور عوامی شعبے میں بھرتیوں، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر حکومت کے مسلسل زور دینے کا حصہ ہے، جو کہ اس کے وسیع تر معاشی اور گورننس ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر2 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: پولیس افسر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی ماری
دنیا1 week agoچین نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے اور مستقل جنگ بندی پر زور دے دیا
دنیا3 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان5 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoمودی نے اڈانی کے حق میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا: راہل گاندھی
دنیا1 week agoچین امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا : ٹرمپ
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
دنیا1 week agoایران کی عسکری صلاحیت 90 فیصد کمزور ہو چکی، امریکی سینٹ کام سربراہ
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
ہندوستان5 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے





































































































